جمہوریت یا بچہ جمہورا

482

‘عوام آپ کا طرزِ سیاست اور کردار دیکھیں گے اوراس کے مطابق ردعمل دیں گے، میں خود مثال بنوں گا اور آپ سب کو بھی مثال بننے کی تلقین کروں گا.’

یہ الفاظ ہیں پاکستان کے نامزد وزیراعظم کے، جنھوں نے حالیہ انتخابات میں دو جماعتی نظام حکومت کو شکست دی ہے، لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اپنا کام ذمہ داری سے پورا کرتا ہے ،جب فیصلہ کرلیتا ہے توپھر کسی کی بھی نہیں سنتا، چاہے اس کا کیرئیر تباہ ہو، طبیعت، شخصیت یا گھر۔۔ وہ کام اپنی ذات کے لیے نہیں کرتا، ٹیم کیلیے، ملک وقوم کے لیے کرتا ہے، معاشرہ سدھارنے کے لیے ہر طوفان سے ٹکرا جاتا ہےاور معاملے کو درست کرکے ہی دم لیتا ہے ۔

ایسے شخص کی رہنمائی میں 72واں یوم آزادی مناتے ہوئے ہم نئے پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں وزیراعظم ،سینیٹ اور کابینہ سمیت صدر بھی نئے ہوں گے، کچھ نئے چہرے پرانے چہروں کے ساتھ مل کر نئے جوش اور تجربے کے ساتھ دو نہیں ایک پاکستان کو پروان چڑھائیں گے، اس بار بھی ہرجمہوری حکومت کی طرح نوآموز سے امید ہوگی کہ وہ عوام کی سنیں گےاورعوام کی دادرسی کریں گے ۔ اب دیکھئے پرانے اور نئے کے اس امتزاج سے جمہوری طور پر منتخب ہونے والی جماعت کو اپنے مقصد میں کتنی کامیابی ملتی ہے؟ عوام کے لیے کتنی دودھ کی نہریں بہتی ہیں؟ اور پیڑوں پرکیسے پیسے اگائے جاتے ہیں ؟

71 برس سے حال تو یہ ہے کہ عوام کے پاس پینے کو پانی نہیں۔ اگر ہے تو آلودہ فضا میں دھواں،بدبو اور گندگی ہے ،آلودگی کے باعث فضا سےآکسیجن ختم ہوتی جارہی ہے ،ہرے بھرے پیڑ کاٹے جارہے ہیں ،جو موجود ہیں وہ اس جگہ کے ماحول سے ملاپ نہیں رکھتے جہاں انہیں کاشت کیا گیا ہے۔ ایک بڑی اکثریت کے پاس سر چھُپانے کو مکان نہیں، کرائے بھر بھر کےبوڑھے ہورہے ہیں، جھگیوں جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں ، روزگار نہیں تو دو وقت کی روٹی کہاں سے لائیں۔ بجلی ہے نہیں مگر لمبے لمبے بل ضرور بھیجے جا رہے ہیں، چوری چکاری بڑھتی جارہی ہے ۔صنعتیں اور فیکڑیاں برباد ہوچکی ہیں، کھیت یا تو سیلابی پانی میں گرے ہیں یا پھر بنجر پڑے ہیں۔ اثاثے تو درکنار دفن ہونے کو دو گز زمین میسر نہیں، مل جائے تو ہزاروں روپے جمع کرتے خاندان والے پورے ہوجائیں ۔ قرضوں کی بھرمار ہے جینا ہوا محال ہے ۔قتل ، خود کشی ، ٹارگٹ کلنگ ہے ،

روٹی ، کپڑا، مکان، صحت، صاف پانی ، بجلی ، تحفظ، تفریح جیسی کئی سہولتیں ایسی ہیں ، جن کو فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہےاور جمہوری حکومتوں نےہمیشہ انکا راگ الاپا ہے۔ پر افسوس! وہ ان کی فراہمی میں مسلسل ناکام رہی ہیں اور بے چاری عوام کو مجبوراً فوج اور عدلیہ کی طرف ہی دیکھنا پڑا ہے۔

جمہوریت بنیادی طور پر ایک سیاسی نظام ہے جس میں اقتدار کی تمام راہیں عوام سے ہوکر گزرتی ہیں اور عوام ہی طاقت کا بنیادی مرکز ہوتے ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے اپنے حکمراں چنتے ہیں ۔ حکومت کا یہ نظام باقی تمام نظاموں سے اپنی بہت سی خصوصیات کی بنا پر اچھا ہے اور کامیاب بھی مگر اسی کے ساتھ اس کی کچھ کمزوریاں بھی ہیں کہ اس میں قابلیت کی نہیں صرف تعداد کی اہمیت ہوتی ہے اسی لئے سیاسی اور سماجی سطح پر بہت سی منفی صورتیں جنم لے لیتی ہیں ۔

شاعر مشرق علامہ اقبال ؒنے جمہوریت کے مفہوم کو یوں بیان کیا۔۔

؎ جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے ۔۔۔

بقول امریکی صدر ابراہم لنکن کے:

‘جمہوریت عوام کی حکومت ہے ، عوام کے لئے، عوام کے ذریعے’۔

آسان الفاظ میں ‘ عوام کی رائے سے نظام ترتیب دیناہی جمہوریت ہے۔’

پاکستان میں جہاں ہر جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اقتدار میں آکر عوام کی خدمت کرے گی ۔منتخب ہونے کے بعد دعوے اور وعدے سب بھلابیٹھتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ عوام کی خدمت کے لیے اقتدارکا در کھٹکھٹانا کتنا درست ہے ؟۔ اگر تمام جماعتوں کے دلوں میں واقعتا ًعوام کیلیے درد ٹھاٹھیں مارتا ہے، تو تمام جماعتیں مل کر متفقہ طور پر ایک حکومت کیوں نہیں بنالیتیں۔ جس میں سب سیاسی جماعتوں کے نمائندگان شامل ہوں اور تمام جماعتیں مل کراپنے منشور کی بہترین چیزیں اختیار کرکے مل کر عوام کی خدمت کریں۔

لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا۔ کیونکہ مقصد عوام کی خدمت کبھی رہا ہی نہیں ۔ اس جمہوری نظام کے تحت عوام بکھرجاتے ہیں،فاتح جماعت پانچ برس اپنے تئیں ایسے فیصلے کرتی ہے جس سے مخصوص طبقے کی خوش حالی مقصود ہوتی ہے ۔

دیگرجماعتیں(اپوزیشن) اس تمام سیاسی عمل میں بطور تماش بین اپنا کردار ادا کرتی ہیں بلکہ اکثراپنی تمام تر توانائیاں حکومت کے خلاف صرف کردیتی ہیں ۔ ملک میں نفرت کاایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جو لوگوں کو یکجان نہیں ہونے دیتا۔

انارکی، کرپشن ، کھینچا تانی اور بد کلامی بڑھ جاتی ہے، جب منتخب نمائندوں کی حکومت عوام کو ان کے حقوق نہیں دے گی تو عوام اپنے حق کو چھیننے پر یقین رکھیں گے۔ زور زبردستی ، چھینا چھپٹی ، لڑائی جھگڑا ، مار کٹائی ، رشوت اور سفارش جیسے مسائل عروج پاتے جائیں گے۔

کچھ عرصے سے اس لفظ ‘جمہوریت’ کا استعمال ایک دلکش کہاوت کے طور پرعوام کے لیے سبز باغ کے وعدوں کے لیے استعمال ہوتارہا ہے- دوسری جانب، جمہوریت کے اصول، جیسے کہ شفاف حکمرانی اور کارکردگی کے پیمانے، پاکستان میں عوامی مباحث کا حصہ اتنا نہیں بنتے جتنا جمہوریت کی ضرورت-

عوام کی سالمیت، کُلیت اور دیانت محفوظ رکھنے اوریا پھر اپنا اقتدار بچانے کیلئے جمہوریت کی حمایت میں ایسے جملے بھی کہے جاتےرہے ہیں جیسے ‘بہترین انتقام’ اور ‘جمہوریت کی بدترین شکل بھی بہترین آمریت سے بہتر ہے۔’

؎ پھر اس مذاق کو جمہوریت کا نام دیا

ہمیں ڈرانے لگےوہ ہماری طاقت سے

اب تک مختلف سیاسی جماعتوں کے 28 رہنماجمہوری طور پر منتخب ہوکرپاکستان کے وزیراعظم بنے ہیں ۔ جن میں سے 7نگراں وزیراعظم بھی تھے ، اورکچھ ایسے بھی تھے جنھوں وزارت کے کئی بار مزے لوٹے، پھر بھی گلہ رہا کہ گزشتہ حکومتوں نے یہ نہیں کیا وہ نہیں کیا، ہمیں کیا دیا،، آئندہ دورِ اقتدار میں آسمان سے تارے توڑ لائیں گے ، وغیرہ وغیرہ۔

جبکہ 12 صدور نے ملک میں سیاسی اتارچڑھاؤ دیکھا۔جن میں سے صرف4 کا شجرہ فوج سے ملتا ہے، عرف عام میں ملٹری ڈکٹیٹر اور 8 کو جمہوری طور پر منتخب شدہ جماعت نے چنا۔2 نگراں صدور بھی رہے۔ جن میں اس وقت کے سینیٹ چئیرمین وسیم سجاد نےدوبار نگراں صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

جمہوریت پاکستان میں عوام کی بہبود کیلئے نہیں آئی بلکہ انتخابات میں گنے چنے چند لوگوں کو دوبارہ اقتدار میں آنے کی یقین دہانی کے لیے آئی، نتیجتاً ملک میں جمہوری آمریت پنجے گاڑتی گئی۔ چند خاندان سیاست، جمہوریت اور حکومت کو اپنی میراث سمجھ بیٹھے ۔ ہرکوئی کرسی کو اپنا حق سمجھنے لگا۔ جس کاجب جو جی چاہا ، اللے تللوں میں اُڑا دیا، اداروں کو لوٹ کر کھا گئے ، اتنا کھا لیا کہ اب ڈکار لینا بھی دوبھر لگ رہا ہے ۔

ڈاکٹر اعظم کہتے ہیں

؎ یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت ِ شاہی پر

کبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں

اب ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے کہ اب کون کون ،کب، کہاں اور کیسے اسلامی جمہوری ملک پر حکمرانی کرتا ہے ۔عوام کے لیے، عوام کے ذریعے ،عوام کے حقوق بہم پہنچاتا ہے ۔۔

نامزد وزیراعظم عمران خان کاکہنا ہے کہ ‘آپ کو بحیثیت ٹیم مکمل اتحاد و اتفاق اپنانا ہے، عوام چاہتے ہیں کہ پارلیمان ان کے لئے قانون سازی کرے، عوام نے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے تاکہ آپ نچلے طبقے کو اوپر اٹھائیں، عوام آپ کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ آپ ان کے لئے پالیسیاں بنائیں، ہماری یہ جدوجہد پاکستان کا مستقبل بدل دے گی جب کہ جدوجہد سے بھرپور زندگی اتار چڑھاوٴ سے عبارت ہوتی ہے۔’

نئے پاکستان میں نامزد حکومتی عہدیداروں کو عدم مساوات ،بڑھتی ہوئی آبادی ،توانائی اور آبی بحران جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیاد پرکام کرنے کی ضرورت ہے ۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.