الیکشن 2018: کیا میرے پولنگ سٹیشن پر دھاندلی ہوئی تھی؟

2,340

عام انتخابات 2018 اپنے ساتھ کئی کہانیاں چھوڑ گئے۔ کئی گھر اجڑے، بچے یتیم ہوئے، مائوں نے بچے، بہنوں نے بھائی اور سہاگنوں نے سہاگ کھوئے۔ لاتعداد قربانیوں کے عوض پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکا۔ اس شفافیت کے پیچھے افواج پاکستان کا حوصلہ، پختہ عزم اور جانثاری ہے جس کے بغیر شفاف انتخابات کا قیام نا ممکن تھا۔ شفاف انتخابات کے انعقاد میں افواج پاکستان کے بعد اہم کردار ان سرکاری ملازمین (محکمہ صحت، تعلیم، قانون، پولیس) کا ہے جنھوں نے اس مشکل ترین عمل کو بخوبی انجام دیا۔

سرکاری ملازمین کی خدمات ماہِ جون کے اختتامی ایام سے لی گئیں۔ پہلا مرحلہ تربیت کا تھا۔ تربیت کے دوران ہی آگے کا اندازہ ہونے لگا۔ بیٹھنے کا نامناسب انتظام، غیر معیاری خوراک اور دوسری بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں تربیت ختم ہوئی۔

پولنگ اسٹیشنز مقرر کر دیے گئے۔ بد قسمتی سے جیکب آباد کی کچھ خواتین پریذائڈنگ افسران اور دوسرے عملے کی ڈیوٹی گڑھی خیرو اور ٹھل میں لگی اور وہاں کی خواتین کی جیکب آباد میں لگی.  کچھ کی ڈیوٹی تبدیل ہوئی اور جن کی نہ ہوئی، انہیں مجبوراً جانا پڑا۔

24 جولائی کو سول کورٹ سے سامان ملنا تھا۔ سامان لینا کسی محاذ سر کرنے سے کم نہ تھا۔ سینکڑوں خواتین اور مرد پریذائڈنگ افسران کو سامان مہیا کرنے کے لیے محض ایک کاوؑنٹر بنایا گیا تھا۔ گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کے بعد سامان ملا جسے پولنگ سٹیشن پہنچانا بھی پریزائڈنگ افسران کی ذمہ داری تھی۔

یہاں تک کہانی سب کی سانجھی تھی۔ آگے کا احوال میں اپنا بیان کر رہی ہوں کیونکہ میں اپنے ہی پولنگ اسٹیشن کا آنکھوں دیکھا حال بتا سکتی ہوں۔ مجھے جو پولنگ سٹیشن دیا گیا، وہ ای سی پی کی لسٹ کے مطابق حساس ترین قرار دیا گیا تھا۔ میرے تین بار اصرار کے باوجود بھی اسے تبدیل نا کیا گیا۔ خیر میں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سامان رکھنے عملے کے ہمراہ پولنگ سٹیشن پہنچی۔ پولنگ سٹیشن کا برا حال تھا۔ خستہ حال آفس جس میں فرنیچر نہ ہونے کے برابر تھا۔ کمرے بند پڑے تھے۔ شدید گھٹن کا ماحول تھا۔

25 جولائی کی صبح 8 بجے پولنگ کا آغاز کیا۔ آہستہ آہستہ ووٹرز آنا شروع ہوئے۔ پولنگ بغیر کسی کھانے اور نماز کے وقفے کے مسلسل چلتی رہی۔ ملک کی بڑی بڑی پارٹیز کی چیف ایجنٹ، امیدواروں کے رشتے دار اور پارٹی عہدیداران بغیر کسی اجازت نامے کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ ان میں سے بیشتر کے پاس ویلڈ ایکریڈیشن کارڈ تک نہ تھا۔ ایسے ہی ایک صاحب کو آرمی کے جوانوں نے باہر بھیج دیا جس کو وجہ بنا کر باہر کافی کشیدگی چھائی رہی۔ اگر افواج وہاں نہ ہوتیں تو وہ سب شاید اندر آ کر پولنگ کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتے۔

ایک لیڈی میرے پولنگ سٹیشن پر کچا اتھارٹی لیٹر لے کر آئیں اور خود کو چیف ایجنٹ ( جن کے پاس پولنگ وزٹ کرنے کا ویلڈ اکریڈیشن پاس ” جائز اجازت نامہ” ہوتا ہے) ظاہر کرنے لگیں۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق ان کو ایک بڑی پارٹی کے امیدوار نے اپنی منہ بولی بیٹی کہا ہوا ہے۔ وہ بیچاری اتنی گرمی میں محض اپنے لیڈر کے لیے بغیر اجازت نامے ہر پولنگ سٹیشن پر جا رہیں تھیں، اس لیڈر نے انہیں ایک مستند اکریڈیشن پاس کے قابل بھی نہ سمجھا۔  خیر ان کو بھی ایسے تمام افراد کی طرح جلدی سے رخصت کر دیا کیونکہ وہ اس چیکنگ کی مجاز نہ تھیں۔

ایک سوال مجھے تنگ کرتا ہے کہ ہمارے دلوں میں جو خوف اور ڈر (اور تھوڑی بہت عزت بھی) سیکیورٹی فورسز کا ہے وہ پولیس کا کیوں نہیں ہوتا؟ اگر صرف پولیس ہوتی تو شاید الیکشنز اتنے پرسکون ماحول میں نہ ہو پاتے۔

سونے پر سہاگہ یہ کہ بغیر کسی ثبوت کے دھاندلی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ پریذائڈنگ افسر کا بھی رب، ایمان اور ضمیر ہوتا ہے۔ ان کی بھی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ ان میں اکثریت اساتذہ کی ہوتی ہے جن کو پاکستان کے علاوہ ہر معاشرے میں صدر سے بھی زیادہ احترام کے قابل سمجھا جاتا ہے۔

خیر آرمی کے مکمل تعاون سے پولنگ شفاف ہوئی۔ وقت ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔ درمیان میں بجلی چلی گئی۔ کمرے میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔ شدید گرمی اور ٹارچ کی روشنی میں بقیہ ووٹ گنے گئے۔ گرمی، تھکان، 24 گھنٹے کی بھوک اور پیاس کی وجہ سے نیم بیہوشی طاری ہونے لگی۔ اتنے میں باہر موجود دو بڑی پارٹیز کے لوگ شور مچانے لگے کہ رزلٹ میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے۔ پیٹ بھر کے کھانے والے بوکھوں کی کیفیت سے نا آشنا ہوتے ہیں۔

ان اللہ کے بندوں کو کون سمجھائے کہ ووٹ الگ الگ کرنا، گننا اور پھر فارم 45 پر رزلٹس مرتب کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں پولنگس کے ووٹوں کی ملا کے گنتی کرنا اور پورے ضلعے کا رزلٹ جمع کرنا بھی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کے لیے میں سلام اور خراج تحسین پیش کرتی ہوں جیکب آباد کے دونوں سول ججز کو جنہوں نے اپنی نیندیں، چین، سکون برباد کر کے الیکشنز منعقد کیا۔

ایجنٹس کو رزلٹ دے کر میں نے جوس پیا۔ چلنے کی ہمت ہوئی تو لاغر سی حالت میں آرمی کی گاڑی میں کورٹ پہنچی۔ رزلٹ جمع کروانے کا مرحلہ کافی کٹھن تھا۔ وہی ایک ڈیسک اور پریزائڈنگ افسران کا رش۔ آج تک جوڑوں اور پٹھوں کے درد اور جلد کی الرجی کا عذاب جھیل رہی ہوں۔

اتنی اذیت سے گذرنے کے بعد ایک بندے نے میرے بھائی سے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی بہن کے پولنگ سٹیشن پر دھاندلی ہوئی ہے۔ بھائی نے پوچھا، ‘کیسے’ تو اس نے اپنے شدید اوور کانفیڈنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بوتھس پر موجود “ایجنٹس” نے ہمارے ووٹر سے کہا کہ آپ کے ووٹ یہاں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

آرمی کے جوان ( جو بوتھس کے اندر تعینات تھے اور ایجنٹس سمیت سب پر سخت نظر رکھے ہوئے تھے) وہ بھی جھوٹے، پریذائڈنگ افسر بھی جھوٹا اور پولنگ کا باقی عملہ بھی جھوٹا۔ بس وہ بندہ سچا جس نے سمندر میں انگلی بھی ڈبوئے بغیر سمندر کی گہرائی کا اندازہ لگا لیا۔

الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ اگلی دفعہ استاذہ کی ڈیوٹیز لگانے سے پہلے اپنے سسٹم کو مزید بہتر بنا لیں یا کم از کم جو افسران بھوکے پیاسے الیکشن والے دن چوبیس گھنٹے کی مشقت کرتے ہیں، انہیں قابلِ عزت ہی سمجھ لے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.