شکستہ آئینے

1,436

یار! یہ پھر ٹوٹ گیا۔ سر جھٹکتے ہوئے کوفت کے ساتھ میں نے جلدی جلدی بال بنائے اور معاشرے کو دھوکہ دینے کے لئے چہرے پہ ایک کریم بھی لگا ہی لی۔ دراصل گھر میں سنگھار میزکا شیشہ کسی حادثے کی وجہ سے اپنی جگہ موجود نہیں تھا۔ اب نہ ہی بال ڈھنگ سے بن سکے نا ہی چہرے پہ مناسب لیپا پوتی ہوسکی۔ اب پورے دن دفتر میں اور باہر جاتے ہوئے یہی فکر لاحق رہے گی کہ میں دوسروں کو کیسا نظر آرہا ہوں۔ دفتر جانے کے لئے موٹر سائیکل پہ سوار ہوا تو بائیک کا شیشہ درست کرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ یہاں بھی آئینہ کتنا ضروری ہے۔ دفتر چونکہ کراچی کے کاروباری علاقہ میں واقع ہے لہذا یہاں تک پہنچتے پہنچتے بھی کراچی کی مرکزی شاہراہوں پہ موجود شیشہ سے بنی چمچماتی عمارتیں بھی نظر آئیں۔ بے شک عقل انسانی تعمیرات کے ان نمونوں پہ دنگ رہ جاتی ہے۔ دفتر پہنچا تو دفتر کا مرکزی دروازہ اور اُس میں موجود شیشہ زمین بوس ہوچکا تھا اور اردگرد کرچیاں بکھری بڑی تھی جسے کچھ ملازمین سمیٹ رہے تھے۔ یہاں بھی ایک شیشے کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے الف سے لیکر یہ تک شیشے کی افادیت پہ ایک عبارت لکھ ڈالی مگر حقیقت یہ ہے کہ مجھے اُس دن ایک آئینہ /شیشہ کی اہمیت کا اندازہ ہوا کہ ہماری زندگی میں قدم قدم پہ یہ کتنے اہم ثابت ہوتے ہیں۔ ہمیں ہمارا وجود اور خوبصورتی دکھانے سے لے کر عمارتوں کی تزئین و آرائش تک یہی شیشے استعمال ہوتے ہیں۔ اس آئینے میں ہم اپنے آپکو دیکھ کر سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کر کے

اپنی ظاہری کمی اور بدصورتی کو کسی حد تک دور کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ مردوں سے زیادہ خواتین کی زندگی میں یہ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ویسے آجکل خواتین نے اس کی جگہ سیلفی کیمرا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ یہی آئینہ جب نہ میسر ہو تو ہم کسی طور سے بھی اپنی ظاہری تیاریوں کے حوالے سے مطمئن نہیں ہوپاتے۔ غرض یہ آئینہ ہمیں حقیقت شناس بناتا ہے اور ہمیں حالات کے مطابق اپنے آپکو تیار کرنے پہ مجبور کرتا ہے۔ آئینوں کی سرشت ہے کہ اگر ان پہ دھول پڑی ہو تو تصویر دھندلی ہوجاتی ہے۔ اگر یہ شکستہ ہوں تو انسان بھی بکھر ا بکھرا محسوس ہوگا اور اگر یہ ٹوٹ جائیں تو پھر تو کسی فائدے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہمیں روز مرہ زندگی میں اسی طرح کےایک آئینہ کی ضرورت پڑتی ہے جس میں ہم اپنی ذات کا جائزہ لیں اور اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ وہ ہے ضمیر کا آئینہ جس میں ہم اپنے آپکو دیکھنا پسند نہیں کرتے اور حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں۔ ہماری نااہلی اور عدم توجہی کے سبب اس آئینہ پر گرد جمتی رہتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شکستہ ہونے کی وجہ سے یہ ٹوٹ بھی جاتا ہے اور آخرکار ایک وقت آتا ہے کہ یہ مکمل کرچی کرچی ہو کے ہماری زندگی کے رستے میں کرچیاں بکھیر دیتا ہے۔ یہی کرچیاں ہمارے پائوں کو اس قدر زخمی کرتی ہیں کہ قدم قدم پہ خون رستا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ ہم مجروح حالت میں ہمت ہار کے گرجاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں فی الوقت ضمیر کے آئینہ کو دیکھنے کی ضرورت ہر ایک فرد کو ہے جہاں ہم اپنی اخلاقی برائیوں کی بدصورتی کا کریہہ چہرہ دیکھ کے اُسے سدھارنے کی کوشش کریں۔ چاہے وہ حکمران ہوں یا سیاست دان، چاہے وہ عام آدمی ہو یا کاروباری سیٹھ، چاہے ایک چھابڑی والا ہو یا تھوک کے بازار میں اشیاء کا بیوپاری، چاہے وہ طالبعلم ہو یا اُستاد، چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کو اس آئینہ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اپنے تئیں ہم سب ہی اس آئینہ کو دیکھنے سے انکاری ہیں۔ نتیجتاً معاشرہ دیوالیہ کا شکار ہو کے ایک ایسی نہج پہ پہنچ چکا ہے جہاں ہم کسی بڑی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ ڈالر آسمان کو چھو رہا ہے۔ تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہر گھر میں جھگڑوں کے نتیجے میں آئے دن خاندان ٹوٹ رہے ہیں۔ قانون نافذ

کرنے والے ادارے رشوت ستانی کی نذر ہو کے برائے نام رہ گئے ہیں۔ پانچ ہزار کی شاپنگ کر کے پچاس روپے کی خاطر لوگ سڑک پہ ایک رکشے والے سے لڑتے نظر آتے ہیں۔ جہاں سڑک صاف ستھری ہووہاں اپنے منہ میں موجود مواد اُگلتے نظر آتے ہیں۔ اداروں کی نااہلی کا رونا رونے والے سگنلز توڑتے نظر آتے ہیں۔ بقر عید سر پہ ہے جب ہم سب سڑک پہ آلائشیں پھینک کے شہری حکومت کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں۔ غرض کس کس چیز کا تذکرہ کروں؟ ایک لمبی فہرست ہے جس کی وجہ صرف ایک ہے اور وہ ضمیر کے آئینہ میں نہ جھانکنا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک پاکستان میں تبدیلی کے لئے کسی خاص حکومتی اقدامات اور غیبی امداد کا منتظر ہے جبکہ اپنے آپ کو ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کرنا یا ضمیر کے آئینہ میں جھانکنا ہمیں گوارہ نہیں جہاں ہمیں اپنی غلطیاں نہیں نظر آرہی۔ اگر ہم میں سے ہر کوئی اپنے اس آئینہ کی حفاظت شروع کردے تو وہ دن دور نہیں جب یہ پاکستان تمام مسائل سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوگا۔ کوئی بھی طاقت آپکو ضمیر کا آئینہ نہیں دکھا سکتی جب تک آپ اپنے اخلاق و کردار کی بدصورتی تسلیم کر کے اُسے اصول پسندی کی لیپا پوتی کر کے خوبصورتی میں تبدیلی نہیں کرلیتے۔ یقین کیجئے پورا پاکستان خوبصورت ہوجائے گا۔ اگر ہم نے یہ نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب یہی آئینے شکستہ ہو کے اپنی کرچیوں سے ہم سب کو زخمی کریں گے اور ہمارے پاس اُن زخموں پہ تلملانے کے سوا کچھ نہ بچے گا۔

راجندر کلکل نے کیا خوب کہا ہے

خواب آنکھوں کو ہماری جو دکھائے آئینہ
خون کے آنسو وہی ہم کو رلائے آئینہ

آدمی کی فطرتیں جیسے سمجھتا ہو سبھی
آدمی کے ساتھ ایسے مسکرائے آئینہ

بانٹنا تو چاہتا ہے دکھ بزرگوں کے مگر
جھریوں کو کس طرح ان کی چھپائے آئینہ

آئنے کے سامنے سے کوئی تو ہٹتا نہیں
اور کسی کو خواب تک یہ ڈرائے آئینہ

غم نہیں بے شک بکھر جائے کسی دن ٹوٹ کر
جھوٹ کے آگے نہ سر ہرگز جھکائے آئینہ

بول کر سچ کون کتنے دن سلامت رہ سکا
ڈر کے سائے میں حیات اپنی بتائے آئینہ

وقت چہرے پر جب اس کے لکھ گیا ناکامیاں
کیسے وہ دیوار پر کلکلؔ سجائے آئینہ

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Eesha Arshad کہتے ہیں

    بہترین

تبصرے بند ہیں.