جناب ووٹ کو عزت دیں

2,306

تمام تر خدشات اور خطرات کے برعکس 2018 کا انتخابی عمل مجموعی طور پر پرامن اور شفاف طریقے سے منعقد ہو کر اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ زیادہ تر قومی و صوبائی نشستوں کے حتمی نتائج آ چکے ہیں۔ اگرچہ دہشت گردوں کی طرف سے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی پوری کوشش کی گئی جس میں تین اہم انتخابی امیدواروں سمیت دو سو سے زائد پاکستانیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے جبکہ دہشت گردوں کی یہ مشق ستم تو بلوچستان میں الیکشن کے دن تک جاری رہی لیکن آفرین ہے پاکستانی قوم کے جذبے پر جنہوں نے الیکشن کے دن پہلے سے بھی زیادہ تعداد میں گھروں سے نکل کر دہشت گردوں کے مذموم ارادے خاک میں ملا دیے اور دنیا کو بتا دیا کہ پاکستانی قوم جمہوری عمل پر کس قدر پختہ یقین رکھتی ہے۔

ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ انتخابات سے پہلے ملکی میڈیا میں ایک خاص سیاسی جماعت کے حمایت یافتہ دانشوروں اور لکھاریوں کے ذریعے ملکی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ پر جو کیچڑ اچھالا گیا، محکمہ زراعت اور خلائی مخلوق جیسی اصطلاحیں اور ان کے ممکنہ طور پر انتخابی عمل میں مداخلت کی کہانیاں گھڑی گئیں، وہ خود ساختہ اور محض خیال آرائی ثابت ہوئیں۔ چوھدری نثار اور مصطفیٰ کمال اس کی ایک مثال ہیں۔

ایک اور اچھی بات یہ ہوئی کہ لوگوں کے سیاسی شعور میں اضافہ ہوا۔ لوگوں نے مذہب اور لسانیت کا کارڈ کھیلنے والے سیاست دانوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اسی طرح سے جن کی ساری جدوجہد صرف اپنی ذات تک محدود تھی اور جو اپنے جلسوں میں لوگوں سے یہ وعدے لیتے رہے کہ ہمیں دوبارہ اقتدار دلاوُ گے تاکہ ہم اپنے خلاف آئے ہوئے عدالتی فیصلوں کو بے اثر کر سکیں، ان کے ہمدردی بٹورنے والے اشتہارات اور دلکش نعرے لوگوں کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔

تحریک انصاف نے اس بار بڑے بڑے سیاسی برج الٹ دیے۔ ایک طرف دہائیوں سے کسی نہ کسی طور ملک پر حکومت کرنے والی مسلم لیگ نون قومی اسمبلی کی محض 63 سیٹوں تک محدود رہی تو دوسری طرف 1988 سے شہری کراچی کی سیاسی بساط پر قابض ایم کیو ایم کو بھی نئی آنے والی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے لئے جگہ چھوڑنا پڑی۔ متحدہ مجلس عمل کے تو اپنے بانی رہنما مولانا فضل الرحمان اور صالحین کے پیشوا سراج الحق بھی اپنی سیٹیں نہ بچا سکے۔ نون لیگ کے اعلان کردہ اگلے وزیر اعلیٰ امیر مقام بھی بری طرح اے ہار گئے۔ پشتون قوم پرستی کے سرخیل اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ مہاجر قوم کے نام پر سیاست کرنے والے فاروق ستار بھی اس بار اسمبلی سے باہر ہی رہیں گے۔

یہ بات بھی بہت خوش آئند ہے کہ 1970 کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف ایک ایسی ملک گیر سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے قومی اسمبلی کی لگ بھگ 115 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جس نے نہ صرف یہ کہ ملکی سیاست کے بڑے بڑے بت پاش کردیے بلکہ سارے ملک سے یکساں پزیرائی حاصل کی ہے۔

اب جبکہ انتخابات کا ابتدائی مرحلہ خوش اسلوبی سے طے ہو چکا اور یورپی یونین کے مبصرین سمیت باقی دنیا نے بھی انتخابی عمل کو شفاف قرار دے دیا ہے تو ایسے میں عوام سے مسترد شدہ اور ہارے ہوئے سیاست دانوں نے اپنی شکست کھلے دل سے تسلیم کرنے کی بجائے دھاندلی کا شور مچا کر آسمان سر پر اٹھالیا ہے۔ پہلے تو مسلم لیگ ن کے صدر جناب شہباز شریف نے انتخابی نتائج آنے سے پہلے ہی مسترد کر دیے جیسے 2013 کے انتخابات کے نتائج آنے سے پہلے ہی اپنی فتح کا اعلان کردیا تھا۔ اس کو شہباز سپیڈ کہا جائے یا الہام غیبی۔ کیا بہتر نہ ہوتا کہ اپنا ردعمل دینے کے لئے تھوڑا انتظار کر لیتے۔

سب سے اونچی آواز اور آہ و بکا مولانا فضل الرحمان کی گونج رہی ہے۔ مولانا موصوف دہائیوں سے اقتدار کے ہر دسترخوان پر براجمان رہے ہیں۔ ان کی مایوسی کا تو یہ عالم تھا کہ انہوں نے پہلے فرمایا کہ ہم نے حلقے نہیں کھلوانے، پورے انتخابات ہی کالعدم قرار دیے جائیں یعنی کس دستر خوان پر میں نہیں، اسے سارے کا سارہ ہی لپیٹ دو۔ یہ تو انتخابات سے پہلے ہی نظر آ رہا تھا کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت آ گئی تو مولانا اس بار اقتدار کے ایوانوں سے دور ہی رہیں گے لیکن اسمبلی کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے یہ تو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا۔ مولانا مدظلہ العالی اقتدار کی آکسیجن کے بغیر زندہ کس طرح رہ پائیں گے، یہ بھی ایک معمہ ہے۔

کل اسلام آباد میں مولانا صاحب اور شہباز شریف صاحب نے مشترکہ طور پر اے پی سی بلا لی۔ اندر تو جانے کیا ہوا، باہر آکر پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو سارے ہارے ہوئے اور عوام سے مسترد شدہ چہرے ایک ساتھ مولانا صاحب کے پیچھے قطار اندر قطار دیکھنے کو ملے۔ مولانا کی مایوسی اور غصہ حد سے بڑھا ہوا تھا۔ مولانا صاحب نے پہلے تو الیکشن کمیشن کو مطعون کیا کہ ہم نے انہیں بیس ارب روپے(غالباً اپنی جیب سے) دیے۔ انہوں نے یہ الیکشن کروایا۔ غالباً مولانا صاحب کو کسی نے باور کروا دیا تھا کہ ان بیس ارب روپوں میں آپ کی یقینی کامیابی کی ضمانت بھی الیکشن کمیشن سے لے لی گئی ہے۔ اس کے بعد مولانا نے سینے پار ہاتھ مار کر کہا کہ ہم نہ تو حلف لیں گے اور نہ ہی چوروں اور ڈاکووں کو اسمبلی کے اندر جانے دیں گے۔ اب پتا نہیں ان اشارہ اپنے پیچھے کھڑے مردہ دل اور مایوس لوگوں کے انبوہ کی طرف تھا یا کسی اور کو دھمکا رہے تھے کیونکہ ان کے پیچھے کھڑے لوگوں میں سے کسی سے بھی نہ تو حلف لینے کی فرمائش کی جائے گی اور نہ ہی وہ اگلے پانچ برس اسمبلی کا منہ دیکھیں گے۔

اس سب کے کچھ ہی دیر بعد پیپلزپارٹی کی طرف سے بلاول بھٹو نے بھی انتخابی نتائج کو مسترد کیا اور ساتھ ہی سندھ میں اپنی پارٹی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔ شہباز شریف نے انتخابی نتائج کو مسترد بھی کیا، مرکز میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان بھی اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے پنجاب میں ن لیگ کی حکومت بنانے کا دعویٰ اور بصورت دیگر سب اداروں کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی ساتھ ہی دے ڈالی۔ بہرحال ہمارے سیاسی رہنماوں کے متضاد بیان اور موُقف سن کر افسوس اور مایوسی ہوئی۔ ان کے لئے جمہوریت وہی ہے جس میں یہ جیتیں ورنہ آمریت اور دھاندلی ہے جب ان کے سیاہ کرتوتوں پر ان سے سوال جواب ہوں اور ان کو پکڑا جائے تو یہ فوراً چلانا شروع کر دیتے ہیں، ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے اور جب عوام ان کو مسترد کر دیں تو پھر چیخنا شروع کر دیتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش کر کے ان کو ہرایا گیا ہے۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ سب خوش دلی سے اپنی شکست تسلیم کرتے۔ اگر انتخابات میں ان کے خیال کے مطابق ان سے کوئی نا انصافی ہوئی ہے تو الیکشن کمیشن اور عدالتی فورم موجود ہے۔ اپنے پاس موجود ثبوت لے کر وہاں جائیں اور اپنے جائز حق کے لئے قانونی طور پر لڑیں۔ لوگوں نے جن جماعتوں کو مینڈیٹ دیا ہے، اس کا احترام کریں۔ ان کو اپنا کام کرنے دیں اور اگلے پانچ برس وقار کے ساتھ اپنا نیا سیاسی کردار نبھائیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.