میرج، میرٹ اور فیورٹ ازم

1,642

ہنی مون اور امیدیں

جیون ساتھی کا انتخاب اگر والدین کریں تو ارینج میرج یعنی فُل میرٹ بیسڈ، خود کیا جائے تو لو میرج یعنی فیورٹ ازم لیکن دونوں صورتوں میں شادی کے ابتدائی کچھ دن تو ہنی مون پیریڈ ہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد اصلیت کھل کر سامنے آتی ہے۔ ارینج میرج کی برائیاں والدین اور خاندان پر ڈال دی جاتی ہیں اور لو میرج کی خود بھگت کر پوری ہو جاتی ہیں، میرٹ ہو یا فیورٹ ازم غرض کہ سمجھوتہ ہی دونوں صورتوں میں بہتر حل ہے۔ اختلافِ رائے سے اتفاق ہی مناسب ہے۔

بالکل اسی طرح حکومتیں بھی ہیں۔ انہیں ڈیلیور کرنے کا موقع دینا چاہیے کیوں کہ نئی نویلی حکومت کے پہلے چار چھ ماہ” ہنی مون” پیریڈ ہوتا ہے۔ لیکن اس میں معاملہ ایک یا دوگھرانوں کا نہیں بلکہ کروڑوں عوام کا ہوتا ہے، اس لیے احتیاط لازمی ہے۔

”تمام پاکستانی متحد ہوجائیں، میں بھی اپنے خلاف ہونے والی تمام مخالفت کو بھول چکا ہوں۔ ”

عمران خان کی وکٹری اسپیچ میں ان تاریخی الفاظ نے اپنے پرائے، مخالفین و حامی، دوست و دشمن سب ہی کے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ بندہ دل کا کھرا ہے۔ کوئی لفاظی نہیں، تقریر میں نہ کوئی گھسے پٹے وعدے، ہر بات دبنگ۔ خان صاحب کی گفتگو میں اخلاص نمایاں تھا۔ اگر ان تمام عزائم پر عمل ہوگیا تو پاکستان کی قسمت بدل جائے گی۔ اب صرف عمران خان نہیں بلکہ ان کے ساتھی، تحریک انصاف کے رہنما و کارکن سب ہی سیٹ بیلٹ باندھ لیں، اب ان کا جہاز اڑان بھرنے والا ہے لیکن یاد رکھیں وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ عوام کو، ان کے جذبات کو، ملک کو، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ ذرا سی بھول چُوک چھ ماہ میں ہی گھربٹھا سکتی ہے۔ چل گئی تو 5 سال کہیں نہیں گئے۔ بالی ووڈ فلم نائیک میں انیل کپور کو ایک دن کی حکومت ملی تھی، عمران خان اینڈ ٹیم کے پاس پھر بھی 100 دن ہیں۔ انہیں بہتر نہیں بہترین کرنا ہے۔ عوام ان کے ساتھ ہیں، لگڑبگڑ مخالف ہوئےتو کیا۔

انتخابات میں کامیاب ہونے والوں کو جان لینا چاہیے کہ کون سے بڑے مسائل منہ کھولے ان کے سامنے کھڑے ہیں اور ان سے کیسے نمٹنا ہے۔ الزام گزشتہ حکومتوں پر ڈالنا ہے یا رزلٹ اورینٹڈ کام کرنا ہے۔ گزشتہ حکومت چونکہ پہلے دو تین ماہ کے اندر آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی تھی اور ریکارڈ ساڑھے سات ارب ڈالر کا قرضہ آٹھ اقساط میں حاصل کرنے میں ”کامیاب” ہوئی تھی۔ اس کے بعد تو سابق حکومت کو قرضہ لینے کی ایسی لت پڑی کہ وہ چھوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔ پچھلے حکمرانوں نےکیا کر رکھا ہے، عوام جانتے ہیں۔ اس لیے ان کے مقابلے میں آپ کو چنا گیا ہے۔ پاکستان کے پاس 5 ہفتوں کی امپورٹ کا زر مبادلہ، ایک کھرب گردشی قرضہ، ایک کھرب سرکاری کارپوریشنز کا قرضہ، ایف بی آر ایک کھرب کی کرپشن/نقصان، عدم ادائیگیاں، سی پیک جام ہے، سالانہ 10 ارب ڈالر قرضوں کی ادائیگی جیسے مسائل موجود ہیں۔

کام اور کامیابی

پی ٹی آئی نے 22 سال کی جدوجہد کے بعد پاکستان کے الیکشن میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا میں شاندار فتح کے ساتھ دونوں جگہ آرام سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں دوتین نشستوں کے فرق سے پیچھے ہیں لیکن آخری لمحات تک کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی نے کسی کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ کراچی میں 30 سال سے حکومت کرنے والے کہیں گم ہی ہوگئے اور کراچی کا معرکہ رہا تحریکِ انصاف کے نام۔ ان انتخابات میں عمران خان نے نیا ریکارڈ بنا لیا۔ پاکستان کی الیکشن کی تاریخ میں قومی اسمبلی کی 5 نشستوں پر کامیاب ہوگئے ہیں۔

حکومت سازی

اب معاملہ آیا ہے حکومت سازی کا۔ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سازی کے لیے 5 سیاسی جماعتوں کو دعوت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ابتدائی مشاورت بھی مکمل ہے۔ کلیدی عہدے چاروں صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے۔ پنجاب میں حکومت سازی کے لیے آزاد امیدواروں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ اور پی پی سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے سینیٹر چوہدری سرور اور میاں محمود الرشید کو ٹاسک سونپا گیا ہے۔

وزیراعظم کا انتخاب

سب سے پہلے قومی اسمبلی کے ارکان حلف اٹھائیں گے پھر اسپیکر قومی اسمبلی کا چناؤ کیا جائے گا۔ اس کے بعد باری آئے گی وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی۔

قوانین کے تحت قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کے لیے لازم ہے کہ وہ الیکشن کے بعد دس روز کے اندر اندر انتخابی مہم میں کیے گئے اخراجات کی تفصیلات جمع کروائیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے عارف علوی اور شفقت محمود کے نام زیر غور ہیں، جب کہ ڈپٹی اسپیکر کے لیے زرتاج گل یا اتحادی جماعتوں کے کسی رہنما کوچنا جاسکتا ہے۔ اسپیکر کے انتخاب کے بعد قومی اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان کے عہدے کے لیے سیاسی جماعتیں اپنے امیدوار نامزد کریں گی، پھر وزیراعظم کے الیکشن کا شیڈول جاری ہو گا۔ وزیراعظم کا انتخاب خفیہ ووٹنگ کے ذریعے ہوگا۔ وزیراعظم بننے کیلئے 342 کے ایوان میں کم سے کم 172 اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔

آؤ کابینہ بنائیں

پی ٹی آئی حکومت قائم کرنے کے بعد یقیناً چاروں صوبوں کے گورنر بھی تبدیل کر دے گی، ان کے ناموں کے لیے بس تھوڑا انتظار۔

پاکستان کی سب سے اہم وزارت، وزارت خارجہ کیلئے شاہ محمود قریشی مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں جب کہ اسد عمر کو وزیر خزانہ بنانے سے متعلق عمران خان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کے لیے پرویز خٹک کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح شیریں مزاری وزارت دفاع اور فواد چوہدری وزارت اطلاعات کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔ تاہم ڈاکٹر شیریں مزاری وزارت خارجہ اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کی خواہشمند ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو بھی وزارت ریلویز کا قلمدان دیے جانے کا امکان ہے۔ ملک امین اسلم ماحولیات کے وزیر یا مشیر ہو سکتے ہیں۔ نئے وزیراعظم کی کابینہ 18 سے 20 ارکان پر مشتمل ہوسکتی ہے۔

علیم خان اور فواد چوہدری وزیر اعلیٰ پنجاب کے امیدوار ہیں جب کہ گزشتہ دور حکومت میں خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک اور اسپیکر کے پی کے اسد قیصر بھی اس عہدے کے امیدوار ہیں۔ تینوں امیدواروں نے اپنی لابنگ تیز کر دی ہے اس سلسلے میں اسد قیصر اور عاطف خان نے گزشتہ روز عمران خان سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ عاطف خان چیئر مین پی ٹی آئی کے قریب ہیں اور عمران خان تعلیم کے شعبہ میں عاطف خان کی کارکردگی سے متاثر بھی ہیں۔ نعیم الحق کو پارٹی ترجمان کےساتھ وزیراعظم کے مشیر خاص، ترجمان وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مخدوم خسرو بختیار، غلا م سرور خان، عمر ایوب، علی امین گنڈا پور، میجر طاہر صادق، مراد سعید، سینیٹر چوہدری سرور، اعظم سواتی، رامیش کمار، عامرلیاقت حسین، شہریار آفریدی وفاقی کابینہ کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

صدرکا چناؤ

تحریک انصاف کی حکومت صدرمملکت ممنون حسین کو ان کے عہدے پر برقرار رکھتی ہے یا نہیں۔ یا ن لیگ کی شکست کے بعد صدر ممنون حسین خود مستعفی ہوسکتے ہیں، یہ دونوں باتیں بھی اہم ہیں، دونوں صورتوں میں نئے صدر کا انتخاب بھی ہوسکتا ہے۔

صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ ہوتا ہے۔ پاکستانی سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب اراکین صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ 1956 میں جب اس عہدے کو تخلیق کیا گیا تب سے اب تک اس عہدے پر 11 صدور فائز ہوچکے ہیں۔ عمران خان اور ان کی جماعت کے لیے ڈاکٹر یاسمین راشد اس عہدے کا بہترین انتخاب ہوسکتی ہیں ۔ جنھوں نے ہر فورم پر نہ صرف اپنی پارٹی کا دفاع کیا، اور عوام میں شعور بیدار کیا، بس چند ہزار لوگوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ مناسب ہوگا کہ محنت کرنے والوں اور ساتھ دینے والوں کو ثمر ملے تاکہ وہ عوام سے کیےکتنے وعدے وفا کرتے ہیں اس کا بھی پتہ چل جائے۔

عوام کو کیا ملے گا؟

عمران خان کو 22 سالہ جہد مسلسل کا پھل تین صوبوں سے بھاری مینڈیٹ کی صورت میں مل گیا ہے۔ لیکن یہ کامیابی مفت میں نہیں ملی بلکہ انہوں نے اس کی بڑی قیمت ایڈوانس میں چکائی ہے۔ اس جدوجہد میں عمران خان کا عوام نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔

عمران خان صاحب یاد رکھیں دکھاوے کے پراجیکٹس سے کچھ نہیں ہوگا، بڑی بڑی بلڈنگز، میٹرو، ہائوسنگ اسکیمیں اور انڈرپاسز بنانے سے ترقی نہیں ہوتی۔ تعلیم، صحت، انصاف، میرٹ اوراحتساب کے شعبوں پرکام کریں گے تو یہیں سے ملک کی تقدیر بدلےگی۔

سڑکیں بنانے کے لیے توعوام کچھ عرصہ انتظار کرسکتے ہیں لیکن اپنے بچے کو اچھی تعلیم دلوانے کے لیے انتظار نہیں کرسکتے، اس لیےآپ کو سرکاری اسکولوں کا نظام اس قابل بنانا ہے کہ عوام کی جان پرائیویٹ اسکول مافیا سے چھوٹ جائے۔

پلوں اور انڈرپاسز کے بغیر تو وقت گزر سکتا ہے، لیکن بستر مرگ پر پڑے اپنے مریض کو یہ تسلی نہیں دے سکتے کہ صبر کرو۔ عمران خان اپنے اگلے دور حکومت میں اسپتالوں کا نظام ٹھیک کردے گا۔ آپ کو سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنا کران میں سہولتوں کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔

عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے سب سے پہلے تھانہ سسٹم کا درست ہونا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کو کے پی کے کی طرح پورے ملک میں پولیس کے شعبے میں اصلاحات لانی ہوں گی۔ عدالتوں میں تو مقدمہ بعد میں چلتا ہے پہلے تو ایف آئی آر میں ہی فیصلہ ہوجاتا ہے کہ انصاف دلوانا ہے یا نہیں۔

کچھ خاص

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے قبل بھی سیاست میں کامیابیاں حاصل کرنے والے کئی کھلاڑی تاریخ میں اپنا نام درج کرا چکے ہیں۔ افریقہ کے بہترین فٹبالرز میں شمار ہونے والے جارج وی نے 14 سال قبل ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور گزشتہ سال لائبیریا کے صدر منتخب ہوگئے۔ جوڈومیں روس کے واحد 8ویں ڈان بلیک بیلٹ ولادی میر پیوٹن بھی اپنے ملک کے صدر بنے۔

93 سالہ مہاتیر بن محمد 25 مئی کو دوسری بار ملائیشیا کے وزیراعظم منتخب ہوئے، 25 جون کو رجب طیب اردوان دوسری بار ترکی کے صدر منتخب ہوئے اور اب 25 جولائی کوعمران خان اپنی ٹیم کے ساتھ پاکستان کے الیکشن جیت گئے۔ 25 کا ہندسہ عمران خان کے لیے لکی ہے۔ 1992 کا ورلڈ کپ فائنل بھی 25 مارچ کو ہوا تھا۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Adeel Jafry کہتے ہیں

    بہت عمدہ تحریر ہے، پڑھ کر مزہ آگیا۔۔ خاص طورپر لو اور ارینج میرج والی بات

  2. امجد مجید کہتے ہیں

    آپ جب بھی لکھتی ہیں باکمال لکھتی ہیں الفاظ نہیں تعارف کیلئے

تبصرے بند ہیں.