کیا آپ کو میرا ووٹ بالکل بھی نہیں چاہئیے؟

1,552

آج قدرے سکون کا دن ہے۔ سیاسی جماعتوں کی الیکشن کیمپین ختم ہونے کے بعد اب ٹی وی پر وہی بریکنگ نیوز، چیختے چنگھاڑتے نیوز اینکرز اور ناچتے گاتے چائے کے اشتہار واپس آ چکے ہیں۔ آج کے اخبار میں بھی فرنٹ اور بیک پیج پر اشتہاروں سے زیادہ خبریں ہیں وگرنہ پوری صبح اشتہاروں کے بیچ میں سے خبریں ڈھونڈنے میں ہی گزر جاتی تھی۔ ہاں البتہ سوشل میڈیا پر ابھی تک ووٹ مانگے جا رہے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کا ہیش ٹیگ اس وقت ٹرینڈ کر رہا ہے۔ لیکن کیا میرا ووٹ بھی مانگا جا رہا ہے؟ نہیں۔ انہیں آپ کا اور آپ کے رشتے داروں کا ووٹ چاہئیے، میرے ہمسایوں سے ووٹ چاہئیے لیکن میرا ووٹ نہیں چاہئیے، میری طرح میرا ووٹ بھی انہیں ادنیٰ لگتا ہے۔

میرا بھی جی چاہتا ہے کہ مجھ سے بھی ویسے ہی ووٹ مانگا جائے جیسے آپ سے مانگا جاتا ہے، میرے ووٹ کو بھی وہی عزت دی جائے جو آپ کے ووٹ کو دی جاتی ہے۔ چاہتا تو میں یہ بھی ہوں کہ مجھے بھی ویسے ہی محترم سمجھا جائے جیسے آپ کو سمجھا جاتا ہے لیکن چلو میرے بجائے میرے ووٹ کو ہی قابلِ احترام سمجھ لیں، یہی بہت ہے لیکن افسوس میری طرح میرا ووٹ بھی دو ٹکے کا ٹھہرا۔

میری عمر اٹھارہ سال سے زائد ہے۔ میرے پاس میرا شناختی کارڈ بھی ہے۔ آئین بھی مجھے ووٹ کا حق دیتا ہے لیکن میں پھر بھی ووٹ نہیں ڈال سکتی۔ اس کی وجہ میرا عقیدہ ہے جو کہ ہے تو صرف میرا لیکن اس سے سروکار سب کو ہے۔ اسی سروکار کی وجہ سے پچھلے سال میرا بھائی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کسی نے اسے چوڑھا کہہ دیا تھا۔ ہم نے اسے سمجھایا بھی تھا کہ ایسی باتیں اگنور کیا کرو۔ وہ ہمارے کہے پر عمل بھی کرتا تھا لیکن نجانے اس دن اسے کیا ہوا۔ اس نے آگے سے جواب دیا۔ اس جواب کا جواب اسے مکوں، گھونسوں اور ٹھوکروں کی صورت میں ملا۔ ایک ہجوم تھا جو اس پر پل پڑا تھا، گیارہ منٹ ہی برداشت کر سکا، بارہویں منٹ اس کا جسم ہی باقی رہ گیا، روح تو کہیں دور پرواز کر گئی۔ خیر میں بھی کس بات میں پڑ گئی۔ ایسا تو ہمارے ساتھ ہمیشہ ہی ہوتا رہا ہے۔

 آج آپ سب اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے ایک نئی حکومت منتخب کر رہے ہیں لیکن میں اپنے گھر میں بیٹھی ہوں۔ آپ مجھے جمہوریت مخالف ہرگز نہ سمجھیں۔ میں جمہوریت پر یقین رکھتی ہوں اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے کیے جانے والے ہر قدم کی حمایت کرتی ہوں لیکن جب یہی جمہوریت مجھے تیسرے درجے کا شہری بھی نہ سمجھے تو میں اس کی فروغ کے لیے گھر سے باہر کیوں جاؤں؟ اگر چلی بھی جاؤں تو ووٹ کیسے ڈالوں؟

سنا ہے ایک مفتی صاحب نے فتویٰ بھی جاری کیا ہے کہ بے دین کو ووٹ دینا منع ہے۔ تو جب بے دین کو ووٹ نہیں دیا جا سکتا تو بے دین سے ووٹ کیسے لیا جا سکتا ہے؟ کیا مفتی صاحب سے کبھی کسی نے یہ سوال بھی پوچھا ہے؟

سیاستدانوں نے اپنی اشتہاری مہم میں بھی مجھے اگنور ہی کیا۔ کم از کم مجھے یہی لگا۔ ایک جماعت کے چیئرمین کہتے ہیں کہ پچیس جولائی کو صبح فجر کی نماز پڑھ کر ووٹ ڈالنے نکلو یعنی وہ مخاطب ہی بس آپ سے ہیں۔ دوسری جماعت کے چیئرمین آرٹیکل 295 سی کی حمایت کرتے ہیں، وہی آرٹیکل جس کے تحت میری برادری کے کئی افراد کو قتل کر دیا گیا، جو تھوڑے خوش قسمت تھے وہ ہجوم سے تو بچ گئے مگر ابھی تک قید میں ہیں۔ گرچہ کئیوں پر الزام ثابت نہیں ہو سکا لیکن ان کے تحفظ کے لیے انہیں قید میں ہی رکھا ہوا ہے۔ ایک اور جماعت کے چئیرمین بھی فلاحی اسلامی ریاست بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے ووٹ مانگتے ہیں۔ اب پتہ نہیں وہ کون سی اسلامی ریاست بنائیں گے۔ سنا ہے کہ چودہ سو سال پہلے جو اسلامی ریاست قائم کی گئی تھی اس میں تو اقلیتوں کا کافی احترام کیا جاتا تھا لیکن اب ایک اسلامی ملک میں اقلیتو‍ں کا سانس لینا بھی مشکل ہے۔

 میں انتظار ہی کرتی رہی کہ کوئی سیاست دان میرے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائے گا کہ میں بھی انسان ہوں، میں بھی پاکستانی ہوں، میرے بچے بھی تعلیم، صحت اور روزگار کا اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا کہ آپ کے بچے۔ مجھے بھی اتنا ہی تحفظ ملنا چاہئیے جتنا کہ آپ کو لیکن افسوس کسی سیاستدان نے اس پر بات نہیں کی۔ ایک پارٹی نے اس بارے اشتہاری مہم بھی چلائی لیکن اسی پارٹی کے زیرِ حکومت صوبے میں میری ہی طرح ایک اور اقلیت کی بچیوں کو زبردستی کلمہ پڑھوا کر ان سے شادی کی جاتی ہے۔ ان کا اعتبار بھی کیسے کروں؟

ہاں جبران ناصر نے اپنی بہادری اور جی داری سے میرا دل جیت لیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ پارلیمنٹ کا حصہ بنے لیکن میں کون ہوتی ہوں پارلیمنٹ بارے امید رکھنے والی۔ یہ ملک مجھے شہریت دیتا ہے یہی کیا کم احسان ہے، میں آگے سے اسے سنوارنے کے خواب دیکھنے لگ جاتی ہوں۔ انسان ہوں نا، بھول جاتی ہوں اپنی اوقات۔

بس ایسے ہی کبھی ذہن میں سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔ دل چاہتا ہے ان سیاستدانوں سے چیخ چیخ کر پوچھوں کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟ کیا میرے کوئی حقوق نہیں ہیں؟ میرے حقوق پر کون بولے گا؟ کیا آپ کو میرا ووٹ نہیں چاہئیے؟ یہ سوال بس میں سوچ ہی پاتی ہوں، پوچھنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔

فقط ایک شہری
مارگریٹ

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. Sharif Chaudhry کہتے ہیں

    At least there is somebody who can think of the deprived. Love you Tehreem

  2. Sharif Chaudhry کہتے ہیں

    At least there is somebody who can think of the deprived. Love you Tehreem

تبصرے بند ہیں.