ووٹ کس کو دیا جائے؟

892

پاکستان میں دو مرتبہ سیاسی حکومتوں کے اپنی مدت پوری کرنے کے بعد اب دوبارہ الیکشن کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اس الیکشن پر پورے پاکستان کی نطریں جمی ہوئی ہیں۔

ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز میں سے بیشتر کی تعداد وہ ہے جنہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی حکومت کو بہت اچھے طریقے سے دیکھا اور جان لیا ہے اور عوام جان چکی ہے کہ کون سی حکومت ملکی مفاد میں کتنا کام کرتی ہے اور کونسی حکومت صرف بھاشن دیتی ہے۔

صوبائی حکومتوں کی بات کرلی جائے تو جتنا بھی واویلا کرلیں پنجاب میں شیر نے دھاڑنا ہے، سندھ میں تیر چلیں گے اور کے پی کی میں کھلاڑی ہوں گے جبکہ بیچارا صوبہ بلوچستان جسے قدرت نے خزانوں سے مالا مال کررکھا ہے وہاں پہلے کی طرح ادل بدل کی حکومتیں چلیں گے مگر قومی اسمبلی میں جو جماعت اکثریت سے جائے گی وہی حکومت بنائے گی اور ملک پاکستان پر راج کرے گی۔

تمام سیاسی جماعتوں کو جب عوام دیکھتی ہے تو ذہن میں ایک ہی بات آتی ہے کہ نمائندے وہی ہیں نام  نیا ہے۔ کس جماعت کو ووٹ دیا جائے، بہت سے لوگ اس سوچ سے تنگ آکر ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کرچکے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ ووٹ ضرور دینا ہے کیونکہ ووٹ واقعی عزت کا حقدار ہے جو آپ کی مرضی کے مطابق نمائدہ لانے میں مدد دیتا ہے۔

عوام کے ذہنوں میں سوار ہے کہ اسلامی جماعت کو ووٹ دیں تاکہ اسلامی نظام مکمل رائج ہوسکے جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جماعت کو ایک موقع ضرور ملنا چاہئیے بے شک کے پی کے میں اچھا پرفارم نہ کرسکی جبکہ کچھ ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ملک کے جو حالات ہیں ایسے میں تجربہ کار لوگوں کو ہی حکومت سونپنی چاہیے اور مسلم لیگ ن سے زیادہ تجربہ کار کوئی جماعت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کا حال کچھ یوں ہے جو کسی حلقوں میں آزاد امیدواروں کا ہوتا ہے۔

ووٹ دینے میں عوام کنفیوژن کا شکار ہے۔ تبدیلی کے عوام نعرے لگاتی تو ہے مگر جب تبدیلی لانے کا موقع آتا ہے تو ایک خوف عوام پر طاری ہو جاتا ہے کہ کہیں تبدیلی بدترین نہ ہو لازمی نہیں کہ تبدیلی اچھی ہو، مگر صرف اتنی سی عرض کرنا چاہوں گا اس بار ووٹ ضرور دیں جس کو بھی دیں۔

آخر میں اتنی سی رائے دوں گا کہ اچھے نمائندے ڈھونڈو گے تو نہیں ملیں گے کیونکہ نمائدنے ہم میں سے ہی ہوتے ہیں کوئی یورپ اور امریکہ سے تو آنے والے نہیں، تو اتنا دیکھیں جس میں برائیاں اور خامیاں کم ہو اللہ کا نام لے کر اسے ووٹ کاسٹ کردیں، انشاء اللہ پاکستان کے حالات ضرور بہتر ہوں گے۔

عثمان بٹ صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا نیوز کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.