پیسہ اور پانی دونوں بچانے ہیں

760

اس بار جان و عزت دونوں داؤ پر لگی ہیں، اس لیے پانی و پیسہ دونوں ہی بچانا ہے۔ نہ پیسہ پانی کی طرح بہانا ہے، اور نہ ہی پانی پیسے کی طرح۔

پاکستان کو جہاں پانی کی کمیابی کا خطرہ ہے وہیں ملکی و غیرملکی قرض اتنا بڑھ گیا ہے کہ دنیا میں آنے والا ہر پاکستانی بچہ ایک لاکھ 35 ہزار روپے کا مقروض ہو گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 2013 میں جب ن لیگ نے اقتدار سنبھالا تو ملک کا مجموعی قرض ساڑھے 14 کھرب روپےتھا جو اب 28 کھرب سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔

سب اچھا ہے کی گردان کے بجائے عام انتخابات 2018 کے لیے عوام کو سچائی سے آگاہ کرنا ہے۔ تلخ حقیقت بتانی ہے تاکہ آزمائے ہووں کو دوبارہ نہ آزمایا جائے۔ مسائل کے حل کی طرف دھیان دیا جائے نہ کہ اپنے لیے مزید مشکلات کھڑی کردی جائیں۔

پاکستان میں پانی کی کمی کا مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ‘پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز’ کے مطابق 2025 تک پاکستان میں پانی کی کمی کا مسئلہ بدترین خشک سالی کی شکل اختیار کر جائے گا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پانی کی کمی کا مسئلہ 1990ء کی دہائی میں ہی دباؤ کی لکیر عبور کر چکا تھا جبکہ 2005ء میں پاکستان پانی کی کمی کے شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا تھا۔ ملک بھر میں دستیاب 142 ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے صرف 42 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال ہو رہا ہے۔ باقی 100 ملین ایکڑ فٹ ضائع ہو رہا ہے۔ دنیا کے بہت سے حصوں میں تازہ پانی خاص طور پر پینے کے قابل پانی کی قلت ہے، اگر پانی دستیاب ہے بھی تو وہ آلودہ ہے، پاکستان کا 80 فیصد پانی آلودہ ہے۔ اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو اس بات کا سنگین خدشہ ہے کہ مستقل قریب میں پاکستان پانی کی شدید کمی کی وجہ سے قحط سالی کی صورتحال سے دوچار ہو جائے گا۔

گزشتہ سال ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کے لیے منگلا ڈیم کے حجم جتنے تین اور ڈیموں کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ پانی کے ضیاع کی چند بڑی وجوہات میں موسمی حالات کی تبدیلی اور بارشوں کی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی بچانے کے انتہائی ناقص ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے بھی بڑی تعداد میں پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ پاکستان دنیا کے 136 ممالک میں 36 ویں نمبر پر ہے جہاں پانی کی کمی کی وجہ سے معیشت، عوام اور ریاست شدید دباؤ میں ہیں۔

بھارت کی جانب سے کشمیر میں ڈیمز کی تعمیر کے بعد پاکستان میں نئے ڈیمز بنانے کا مطالبہ کرنا بجا ہے، تاکہ مستقبل میں ملک کو بنجر ہونے سے بچایا جا سکے۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟

حکومت کسی کی بھی ہو حکمران سب سے پہلے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں، اس کے بعد عوام کا خیال۔ اور حکمرانوں کی تجوریاں بھی ایسی ہیں جو کبھی بھرتی ہی نہیں۔ بس لوٹتے جاؤ لوٹتے جاؤ، عوام کی باری ہی نہ آئے۔ اگر غلطی سے اتفا ق رائے ہو بھی گیا تو کمیٹیوں، ٹیموں کے درمیان معاملہ لٹک جاتا ہے، بس باتیں، اختلاف، برائیاں، لڑائیاں اور کھانچے چلتے رہتے ہیں۔ اللہ اللہ کرکے یہ معاملہ بھی نمٹ جائے تو فزیبلٹی رپورٹ۔ جب پیسے ہیں ہی نہیں تو ڈیم کیسے بنائیں؟ رہنے دو کسی اوروقت و حکومت کے لیے اٹھا رکھو۔

بھارت میں بھی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن اب تلک وہ پاکستانی دریاؤں پر 14 سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے اور مزید بھی بنا رہا ہے لیکن ہم ایک بھی ڈیم نہ بنا سکے۔

ڈیم بنانا ہے۔ پانی بچانا ہے۔ اپنا مستقبل خود سنوارنا ہے۔ پیسہ لگانا ہے۔ ملک کو ناسوروں سے بچانا ہے۔ جولائی 25 کو اپنا ووٹ دینے جانا ہے۔ سمجھ نہ آئے تو ووٹ بھلے ضائع کر آنا لیکن اپنا ووٹ ڈالنے کاحق ضرور استعمال کرنا، اپنی ذمہ داری ضرور نبھانا۔ ورنہ ایسا نہ ہو سازشی عناصرآپ کے شناختی کارڈ پر اپنی مرضی کا ووٹ ڈال دیں اور ناپسندیدہ شخص منتخب کرلیا جائے۔

پاکستان میں عوام کی، پانی کی، قرضوں کی غرض کہ ہرادارے، ہر شعبے کی بگڑتی صورتحال کو دیکھ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک احسن قدم اٹھایا۔ وفاقی حکومت کوحکم دیا کہ فوری طور پر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے، 3 ہفتوں میں ڈیموں کی تعمیر شروع کرنے سے متعلق رپورٹ بھی دی جائے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ چیئرمین واپڈا کی سربراہی میں ایک کمیٹی تعمیرات کی مانیٹرنگ کرے اورکمیٹی کے ممبران کا تقرر کرکے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

رجسٹرار سپریم کورٹ کے نام پر ایک پبلک اکاؤنٹ کھولا گیا، جسٹس ثاقب نثار نے اپنی طرف سے اس فنڈ میں 10 لاکھ روپے دیےاور شہریوں سے اپیل کی کہ” وہ ڈیم کی تعمیر کے لئے اپنا حصہ ڈالیں۔ امید ہے عوام جنگ 1965 والے جذبے کا مظاہرہ کریں گے۔ ڈیمز کے لئے دیئے جانے والے فنڈ پر کوئی انکم ٹیکس یا ادارہ سوال نہیں کرے گا۔ ”

اس سے قبل سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ دنیا بھر میں 46 ہزار سے زائد ڈیمز ہیں۔ امریکا نے ساڑھے سات ہزار، بھارت نے ساڑھے 4 ہزار ڈیمز اور چین نے 22 ڈیمز بنائے جب کہ ورلڈ بینک اور کینیڈا مدد نہ کرتے تو پاکستان میں ایک ڈیم بھی نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیموں کی شدید قلت ہے۔ ڈیموں کی تعمیر پر فوری کام شروع ہونا چاہئے۔

6 جولائی کو چیف جسٹس کے شاندار فیصلے پر قوم شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی۔ پانی اور پیسے کے ذریعے ملک کو بچانے کے لیے میدان میں آگئی۔ اور 24 جولائی تک اس فنڈ میں 30 کروڑ 55 لاکھ سے زائد رقم جمع ہوچکی ہے۔

میئر کراچی، کے ایم سی افسران کی طرف سے ایک ایک لاکھ روپے، تینوں مسلح افواج کے افسران کی 2 دن کی تنخواہ جمع کرائی گئی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 15 لاکھ جبکہ اداکار حمزہ علی عباسی سمیت ملک میں بسنے والے دیگر لوگوں نے بھی ڈیمز کی تعمیر میں حصہ ڈالا، شاہد آفریدی نے اپنی فاؤنڈیشن کی جانب سے 15 لاکھ روپے دئیے۔ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامرخان نے بھی 10 لاکھ روپے عطیہ کیے۔ اسٹیٹ بینک و نجی بینکوں سمیت دیگر سرکاری و پرائیوٹ اداروں کے ملازمین اور عوام نے بھی کروڑوں روپے عطیہ کیے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

پاکستانیوں نے اپنے حق کے لیے لڑنے اور قدم بڑھانے کا ثبوت دے دیا، ملک کو اندورونی و بیرونی سازشوں کے ذریعے لوٹنے والوں کو بتا دیا کہ ہماری غیرت ابھی زندہ ہے۔ سب ہی تیار ہیں ملک کی قسمت سنوارنے کیلئے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ باگ ڈور ابھی صحیح ہاتھوں میں نہیں۔ تلوار تیز بھی ہے اور دو دھاری بھی۔ بس اس کو چلانے والا استعمال کرنے والا ماہر ہاتھ نہیں۔ 70 برس بیت گئے، نہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکے، نہ اپنی طاقت کو جان پائے ہیں اور نہ ہی ہمارے رہنما اور حکمران۔

پاکستان میں 15 میٹر سے زیادہ بلند ڈیموں کی تعداد 150 ہے جس میں تربیلا اور منگلا سب سے پرانے ہیں جو کہ بالترتیب 1974 اور 1967 میں مکمل ہوئے تھے۔

دیامر بھاشا ڈیم

اس ڈیم کے قیام کا منصوبہ سابق صدر، جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیش کیا گیا تھا جو کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان میں بھاشا کے مقام پر تعمیر ہونا ہے۔ لیکن متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے۔

4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ڈیم کے منصوبے کے آغاز پر اس کا تخمینہ 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا لیکن مختلف ماہرین کے مطابق اس ڈیم کی کل لاگت 18 سے 20 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔

اس سال مارچ میں وفاقی حکومت نے اصولی طور پر اس ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں سے 370 ارب روپے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے رکھے جائیں گے، جبکہ واپڈا تقریباً 116 ارب روپے اپنے ذرائع سے جمع کرے گا۔ بقیہ 163 ارب روپے بینکوں سے قرضوں کی مد میں لیے جائیں گے۔ حکومتی اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں دیامر بھاشا ڈیم کے صرف پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت پر کام ہوگا جبکہ بجلی بنانے والے سیکشن کی تعمیر میں مزید 744 ارب روپے درکار ہوں گے اور کل منصوبے کی تعمیر پر 1.4 کھرب روپے کی لاگت آسکتی ہے۔

ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے اور آبادکاری کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اب تک حکومت 58 ارب روپے خرچ کر چکی ہے جبکہ مزید 138 ارب روپے اسی سلسلے میں مختص کیے گئے ہیں۔

مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ

یہ ڈیم قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دریائے سوات پر بنایا جائے گا۔ واپڈا کی دی گئی معلومات کے مطابق اس ڈیم کی تعمیر 2012 میں شروع ہونا تھی اور اسے 2016 میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک صرف پی سی ون ہی مکمل ہوا ہے۔ جس کی لاگت 93 کروڑ روپے تھی۔ اس ڈیم کی تعمیر سے 800 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی اور 12 لاکھ ایکٹر سے زائد پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔

پاکستان کے دو اہم مسائل پر بات، بحث اور اقدامات کے بعد اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چندے سے کوئی ڈیم بن سکتا ہے؟

ڈیم جس کی تعمیر کا تخمینہ کم از کم 18 سے 20 ارب ڈالر ہو اور تعمیر کا دورانیہ 12 سے 14 سال ہو، کیا وہ محض چندے کی رقم سے بن سکتا ہے؟

پانی کے امور کے ماہر حسن عباس کے مطابق ‘دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے کے لیے پاکستان کے تمام شہری، بشمول نوزائیدہ بچے، اس فنڈ کے لیے 30 ہزار روپے دیں تو شاید کچھ بات بنے۔ لیکن کیا ہمارے ملک میں اوسط تنخواہ اتنی ہے؟ ماہر معاشیات ڈاکٹر پرویز عامر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے گئے فنڈ سے ڈیمز کی تعمیر کی کل لاگت کا بمشکل پانچ فیصد حصہ جمع ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر سپریم کورٹ بونڈ جاری کر دے تو مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر فنانشل منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کی مدد سے زیادہ رقم حاصل ہو سکتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اگلی حکومت کون بناتا ہے اوراس چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہو تا ہے۔ کیا قوم کا، چیف جسٹس کا، مخلص حکومتوں کا پاکستان کا دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم بنانے کا خواب پورا ہوسکے گا؟

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.