کون جانے؟

1,496

وقت گذر رہا ہے۔ کسی کے لیے سرعت سے تو کسی کے لیے سستی سے۔ بہرحال وقت گذر رہا ہے اور وقت کا کام گذر جانا ہی ہے۔ مگر ہر گذرتا وقت ہمیں کچھ نا کچھ سبق ضرور دے جاتا ہے۔

مثال کے طور پر پچھلے تقریباً ایک سال کو لے لیں۔ ایک سال پہلے آج کے دن یعنی 24 جولائی 2017 کو نواز شریف اس ملک کے وزیر اعظم تھے اور کسے معلوم تھا کہ صرف چار دن کے بعد وہ وزیر اعظم کی کرسی سے اتار دیئے جائیں گے۔

اور کسے معلوم تھا کہ وزارت عظمیٰ کی کرسی سے بے دخلی کے بعد نواز شریف فوج اور عدلیہ کو نشانے پر رکھ لیں گے اور “مجھے کیوں نکالا” اس ملک کا معروف ترین سوال بن جائے گا۔ اور کسے معلوم تھا کہ شاہد خاقان عباسی ملک کے نئے وزیر اعظم ہوں گے اور چوہدری نثار علی خان ان کی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے۔ وہی چوہدری نثار علی خان جن کی جیپ آج کل بہت مشہور ہو رہی ہے۔

اور کسے معلوم تھا کہ مسلم لیگ نواز کے طاقت ور ترین رکن شیر کے نشان پر انتخاب نہیں لڑ رہے ہوں گے۔ اور کسے معلوم تھا کہ سابق حکمراں جماعت کے کچھ امیدوار ختم نبوت ترمیم کے ردعمل کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں اترنے کو ترجیح دیں گے۔ اور کسے معلوم تھا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے 137 آزاد امیدواروں کو ایک ہی انتخابی نشان الاٹ کردے گا۔

اور کسے نہیں معلوم کہ ہمارے ملک میں سازشی تھیوریاں بہت مقبول ہوتی ہیں اور ہونٹوں نکلی کوٹھے چڑھی کے مصداق دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول و عرض میں پھیل جاتی ہیں۔

اب کون جانے کہ جیپ کا نشان 137 آزاد امیدواروں کو الاٹ کرنے کے پیچھے مسلم لیگ نواز کون سی سازش ڈھونڈ رہی ہے۔

اور کون جانے مسلم لیگ نواز یہ کیوں نہیں جان پا رہی کہ جیپ کے 137 آزاد امیدواروں کے علاوہ بالٹی کا نشان بھی 98 آزاد امیدواروں کو الاٹ کیا گیا ہے۔ اور یہی نہیں بلکہ 78 آزاد امیدوار پینسل کا نشان لیے انتخابات میں اتر رہے ہیں۔ 71 آزاد امیدوار مٹکا اٹھائے ان کے پیچھے پیچھے ہیں۔ جبکہ سیب والے 63 آزاد امیدوار ان کے علاوہ ہیں۔

اور کیا کسی کو معلوم ہے کہ جیپ کو چھوڑ کر اگر ان چار انتخابی نشانات کا مجموعہ اکٹھا کیا جائے جو زیادہ تعداد میں آزاد امیدواروں کو الاٹ ہوئے ہیں تو 310 بنتے ہیں جو کہ جیپ والوں سے 173 کی تعداد میں زیادہ ہیں۔

اور کون جانے کہ ملک میں پانی کی قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام بالٹی کے نشان والے آزاد امیدواروں کو ووٹ ڈال دیں۔ یا مٹکے والوں کو کامیاب کروا دیں؟ کوئی جانتا ہے؟ جی نہیں کوئی نہیں جانتا۔

یہ سب باتیں کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ اور جو ہونے جا رہا ہے وہ بھی کوئی نہیں جانتا۔

کیا کوئی جانتا تھا کہ عمران خان ملک کے مقبول ترین سیاسی راہنما بن جائیں گے؟ نہیں کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ الیکٹ ایبلز کے نام پر ایسے لوگ اکٹھے کر لیں گے جن کے خلاف وہ پچھلے بیس سال سے جدوجہد کر رہے تھے۔

گیارہ برس پہلے کوئی جانتا تھا کہ بے نظیر بھٹو اگر پاکستان آئیں تو بھری سڑک پر انہیں نشانہ بنا دیا جائے گا اور گیارہ برس کے بعد ان کا بیٹا ان کی سیاسی جماعت کی باگ دوڑ سنبھالے ایک سلجھی ہوئی انتخابی مہم چلا رہا ہو گا؟ جی نہیں یہ بھی کوئی نہیں جانتا تھا۔

اور کیا کوئی جانتا تھا کہ ملک کے منظر نامے پر خادم رضوی نمودار ہوں گے اور سب کی پین دی سری کر کے رکھ دیں گے۔ کیا کسی کو معلوم تھا کہ خادم رضوی 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہوں گے؟ اور کیا کسی کو معلوم تھا کہ کراچی میں ایک آزاد امیدوار جبران ناصر احمدیوں پر لعنت نا بھیجنے کے جرم میں خادم رضوی کی تحریک لبیک کی خصوصی توجہ کا مرکز بن جائے گا؟

یقیناً کوئی بھی کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ میں بھی نہیں جانتا تھا اور آپ بھی نہیں جانتے۔ تو پھر پریشانی کس بات کی ہے؟

وقت کا کام بہرحال گذرنا ہے اور وہ گذر رہا ہے۔ یہ وقت بھی گذر جائے گا۔

بات مگر صرف اتنی سی ہے کہ لمحہ موجود میں اگر آپ اپنے وقت کا درست استعمال کر لیتے ہیں تو آنے والا وقت آپ کے لیے بہتری کی امید کے ساتھ آئے گا۔ اور اس وقت اس وقت کا درست استعمال یہ ہے کہ 25 جولائی کو گھروں سے نکلیں۔ اپنے حلقہ کے پولنگ اسٹیشن پر جائیں اور آپ کے نزدیک جو بہترین امیدوار ہو اس کو ووٹ ڈال دیں۔

کون جانے آپ کا ڈالا ہوا ووٹ وقت کے فیصلے بدل کر رکھ دے۔

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. maryam کہتے ہیں

    حالات کی اچھی منظر کشی کد کے احساس ڈمہ داری دلائ ہے۔۔زبردست

  2. Minal کہتے ہیں

    Kia pata apka vote kl apko hi izzat de.. Bohat acha likha hai.

تبصرے بند ہیں.