دل کو لہو کریں کہ گریباں رفو کریں؟ 

2,102

اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسہ نے گذشتہ جمعرات کو اسرائیل کو یہودی مملکت قرار دینے کا قانون منظور کر لیا ہے، جسے قانون میں پوشیدہ نسل پرستی کی معراج قرار دیا جارہا ہے۔ ”قومی مملکت ” کے نام نہاد قانون کے تحت، اسرائیل، یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کیا گیا ہے جس میں اسرائیل میں آباد عرب اقلیت کوقطعی کوئی حق حاصل نہیں ہوگا۔ اسرائیل میں یہودیوں کی آبادی 65 لاکھ ہے اور اٹھارہ لاکھ عرب آباد ہیں۔

کنیسہ میں آٹھ گھنٹے کی بحث کے بعد یہ قانون 55 کے مقابلہ میں 62 ووٹوں سے منظور کیا گیا ہے۔ کنیسہ میں عرب اراکین کی شدید مخالفت میں انسانی حقوق کے حامی ممتاز یہودی اراکین نے بھی ساتھ دیا اور اس قانون کو ملک میں نسلی تفریق کے نظام کا قیام قرار دیا۔ یہی نہیں اسرائیل کے صدرریوون ریو لن اور اٹارنی جنرل مینڈل بلٹ نے بھی اس قانون کی بعض دفعات کو نسل پرست قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتھن یاہو نے البتہ اس قانون کی منظوری کو صہیونیت اور اسرائیل کی تاریخ میں اہم لمحہ قرار دیا ہے۔

F180716MA35

2549187642

کنیسہ میں قانون پیش کرنے والے رکن ایوی ڈچسٹر نے قانون کی منظوری کے بعد، عرب اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے نعرہ لگایا۔ ”ہم آپ سے پہلے اس سرزمین پر تھے اور ہم آپ کے بعد بھی اس سر زمین پر رہیں گے”۔

یہودی مملکت قرار دیئے جانے کے قانون کی گیارہ دفعات میں کہا گیا ہے کہ یہودیوں کو اسرائیل میں حق خودارادیت حاصل ہوگا۔ ایسے کہ اب تک یہودیوں کو یہ حق حاصل نہیں تھا۔ قانون میں یروشلم کو اسرائیل کے دار الحکومت کی حیثیت کی توثیق کی گئی ہے۔

mp ayman odeh raises a black banner   during discussion in parliament

اسرائیل میں عربوں کی 20 فی صد آبادی ہے اور نئے قانون کے تحت عربی جو اب تک سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کی جاتی تھی اب وہ اس حیثیت سے محروم ہو جائے گی۔ نئے قانون میں فلسطینیوں کی سر زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کو توسیع دینے کا اعلان کیا گیا ہے اور اب فلسطینیوں کے دیہی علاقوں میں بھی یہودیوں کو آباد کیا جائے گا۔ آئندہ اسرائیل میں ہر معاملہ میں صرف یہودیوں کو ترجیح دی جائے گی۔

نئے قانون کی منظوری کے وقت عرب رکن کنیسہ، ایمن اودھ نے ایوان میں سیاہ پرچم لہرایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شر سے بھرپور قانون ہے۔ قانون کی منظوری کے بعد ایمن اودھ نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ” آج میں اپنے بچوں سے اور فلسطین کے عرب بستیوں کے بچوں سے کہوں گا کہ اسرائیل کی مملکت نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ہمارا اپنے وطن میں رہنے کو کوئی حق نہیں ہے۔ ”

israel-1-ap-er-180719_hpMain_16x9_1600

merlin_141275346_23e3ff30-a4a0-4023-ac1d-1eae1a2dfe0e-articleLarge

فلسطینی رہنمائوں نے بھی نئے قانون پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم آزادی فلسطین PLO کے سیکرٹری جنرل صایب اریقاط نے نئے قانون کو نہایت خطرناک نسل پرست قانون قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فلسطینی بھر پور عزم کے ساتھ اس اقدام کی مزاحمت کریں گے۔ فلسطینوں کا کہنا ہے کہ نیتھن یاہو نے یہ قدم در اصل صدر ٹرمپ کی بھر پور شہہ اور حمایت کے بل پر کیا ہے۔

سپر طاقت کے بل پر فلسطینیوں کے ساتھ اس ہمہ گیر ناانصافی پر اور دنیا کی مجرمانہ خاموشی پر یہی کہا جا سکتا ہے۔ ۔ ۔ ” دل کو لہو کریں کہ گریباں رفو کریں”۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.