جسٹس شوکت عزیز کے تحفظات اور میڈیا پر غیر اعلانیہ پابندی

4,836

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج محترم جسٹس شوکت صدیقی نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہوئے آرمی چیف سے اپیل کی کہ وہ اپنے لوگوں کو روکیں۔ وہ ججز کو اپروچ کر رہے ہیں۔ ججز کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں۔ ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں۔

جسٹس صدیقی نے کہا کہ آپ کے لوگ اپنی مرضی کے بنچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آرمی چیف کو پتہ ہونا چاہئیے کہ ان کے لوگ کیا کر رہے ہیں۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں لکھا کہ حساس ادارے اپنی آئینی ذمہ داری کو سمجھیں۔ عدلیہ، ایگزیکٹیو اور دیگر اداروں میں مداخلت روکی جائے۔ حساس ادارے ملک کے دفاع اور سکیورٹی پر توجہ دیں۔ ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم کیا جائے۔ اگر دیگر اداروں میں مداخلت کو نہ روکا گیا تو فوج اور ریاست کیلئے تباہ کن ہو گا۔

گذشتہ روز ایک سابق پولیس آفیسر ذوالفقار چیمہ نے اسی موضوع پر ایک نجی اخبار میں کالم لکھا۔ اس کالم میں انہوں نے اپنے گرائیں جنرل باجوہ صاحب سے درخواست کی ہے کہ وہ نوٹس لیں کہ ایک عدالتی پراسیس کی تکمیل میں ان کے باوردی افسران کی مداخلت کس لیے تھی اور کس کے حکم پر تھی؟ یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی پولیس آفیسر نے اخبار کے ذریعے اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا ہو۔

ایک جگہ انہوں نے لکھا کہ ‘جنرل صاحب پشاور میں ہارون بلور کے جنازے پر جو نعرے لگتے رہے وہ آپ نے بھی سنے ہوںگے۔ میں تو سن کر بے حد تشویش میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ ‘

چیمہ صاحب نے اپنی تحریر میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب پنجاب میں لوگوں کا موڈ دیکھ کر خوف آنے لگا ہے۔ اس لیے کہ وطنِ عزیز کے بارے میں بھارت اور دیگر دشمنوں کے خطرناک عزائم بہت واضح ہیں۔ ہمارے ازلی دشمن کی فوج کو تعداد اور اسلحے میں جو برتری حاصل ہے وہ ہماری پاک فوج عوام کی پر جوش حمایت اور مدد سے پوری کرتی ہے لیکن اگر پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے خلاف جنگ شروع کردی جائے تو کیا وہ مدد اور حمایت برقرار رہی گی؟ کیا اِسوقت فوج متنازع بننے کی متحمل ہو سکتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ایک مقبول جماعت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ کونسی ایسی مجبوری ہے جس کی بنا پر ایسا کیا جارہا ھے؟ یہ جنرل یحییٰ کی بدروحوں یا مشرف کی باقیات کی خواہش تو ہو سکتی ہے ادارے کی ضرورت ہرگز نہیں، ادارے کی ضرورت سوفیصد غیر سیاسی اور غیر جانبدار رہنا ہے۔

سابق پولیس آفیسر نے ملک کی سالمیت کے خاطرجنرل باجوہ سے اپیل کی کہ وہ مداخلت کر کے اسے ختم کرائیں تاکہ پوری قوم خصوصاً پنجاب، آزاد کشمیر اور جی بی جیسے حساس علاقوں میں فوج کے بارے میں عوام کے اندر منفی جذبات پروان نہ چڑھیں۔ دہشت گردی کے عفریت نے پھر سر اٹھا لیا ہے فوج کے تمام وسائل، وقت اور صلاحیتیں دہشت گردی کو کچلنے اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہونی چاہئیے۔

عدلیہ کے علاوہ میڈیا بھی سنسر شپ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام ‘دنیا کامران خان کے ساتھ’ میں مشہور اینکرپرسن عاصمہ شیرازی نے نواز شریف کے ساتھ کیے جانے والے انٹرویو کو آن ائیر نہ کرنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی تھا۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر نواز شریف کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ فون پر عاصمہ شیرازی سے انٹرویو کی بابت سوال کر رہے تھے۔ عاصمہ شیرازی نے جواب دیا کہ انٹرویو کو اگر چلایا گیا تو پیمرا کا کہنا ہے کہ وہ چینل بند کروا دیں گے۔

مشہور اینکر پرسن طلعت حسین کا بھی ایک پراگرام جس میں انہوں نے شہباز شریف کی ریلی کی کوریج کی تھی، ان کے چینل نے پراگرام چلانے سے انکار کر دیا تھا جس پر طلعت حسین نے ایک احتجاجی ٹویٹ لکھی۔ ان کی ناراضگی کا خیال کرتے ہوئے ان کا پراگرام بعد میں نشر کر دیا گیا تھا۔

حالیہ ملک کے مشہور انگریزی اخبار کے مالک کی جانب سے اسی طرز کا بی بی سی کو انٹرویو دیا گیا۔ اس انٹرویو کا مقصد واضح طورپر نظر آتا ہے یہ آوازیں انٹرنیشنل لیول پر اٹھائی جائینگی۔ اس سے پہلے ایک سیاسی جماعت کبھی خلائی مخلوق کا نام لیکر تو کبھی محکمہ زراعت کا لقب استعمال کرکے ایک مخصوص سمت میں اشارہ کرتی رہی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آرمی چیف ان دونوں اپیلوں کا کیا جواب دیتے ہیں اور کس طرح اپنے ادارے کی پوزیشن واضح کرتے ہیں۔

مصنف ایک نجی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

10 تبصرے

  1. Muhammad anwar ul haq کہتے ہیں

    this is really bit unfortunate. It should not happen. Her idaara apni aeini hodoood mei reh k kaam karay. Aik doosray ko neecha dikhaana kahan ki aqal mandi hai. Bas kijiay and learn to live with unity…..

  2. sullu کہتے ہیں

    The “addara ” is addicted with this kind of habits since independence of Pakistan. one HASSIAN WAJID was asked ” can banaldash army revolt against you Govt.” she said we done with officers of the Pakistan Military Academy. it will never happen. shame of PMA and army generals.

  3. ahmed mustafa کہتے ہیں

    Few paid or disheveld persons are conspiring against pakistan judiciary and military.
    It is alarming. Such people are found in every society.
    Allah Pak show them right path.

  4. b hussain کہتے ہیں

    It looks like this alfalfa writer attached to some indian sponsored organisation.
    Fully biased writing.
    No body knows the full picture of threats than the security departments.
    These are cronies of PMLN PPP MQM and other traders who will sell their motherland for their own benefit.
    Tuff ho tum per

  5. Nasir Shah کہتے ہیں

    Mr. Shaukat Aziz should adhere to his job rules. He should not behave like a politician..he has been in politics in 2002 but he must understand he is a honourable judge..Mr. Cheema is a family friend of NS. How can we trust him.?..the respectable writer should also take interest in other public issue like poverty, unemployment,inflation instead of trying to become a hero in the eyes of so called liberals by criticizing the National Army and Spy agencies without any reason..

  6. Shirazi کہتے ہیں

    Any patriotic Pakistani will definitely suspect his intentions so do I. A judge should not behave like him particularly in such delicate time of Pakistan history. Pakistan has give this so called judge, he should have resigned. Pakistanis love their brave and dedicated army and ISI. They have sacrificed so much. I would love to see this judge in Adiala with his real boss.

  7. M. Saeed Awan کہتے ہیں

    ISPR is big lier now. They have taken political position to support Imran Khan. So never ask for help for Bajwa.

  8. sajad کہتے ہیں

    دنیا نیوز نے انکے کل کے بیان کو آدھا شائع کیا

  9. Professor khurram ikram کہتے ہیں

    We love our army and we will b in fore front when this country and our beloved army will need us. But we request our army “please do not try to conquer Islamabad as some generals have done in the past” please focus on kashmir and afghanistan in stead of interfering in politics..

  10. Dr T Khan from Toronto کہتے ہیں

    Zulfiqar cheema, Talat Hussain and Asma Shirazi are openly connected with Nawaz mafia and are members of their media gang. They don’t see corruption of Nawaz sharif and the damage he and his Ishaq dar did to Pak. All 3 along with Dawn have a anti Pak agenda. Nawaz appointed not a single person on merit . Zardari and Nawaz toured china and london 100s times on tax money to make deals there so Agencies could not track them.. Allah perish all such supportors of Nawaz and Zardari and give hidaya to us.

تبصرے بند ہیں.