اللہ اکبر کی آذان دلکش یا گرجا گھر کے گھنٹوں کی آواز

1,732

مشہور دہریے، رچرڈ ڈاکنس نے اپنے ایک ٹیوٹ میں یہ کہہ کر ہنگامہ برپا کر دیا ہے کہ جارحانہ انداز کی اللہ اکبر کی آذان سے زیادہ دلربا آواز گرجا گھر کے گھنٹوں کی ہے۔

ماہر حیاتیات، رچرڈ ڈاکنس نے اپنے ٹیوٹ میں، ونچسٹر کے قدیم گرجا گھر کے سامنے بیٹھے ہوئے اپنی تصویر بھی شائع کی ہے۔ ٹیوٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ قرون وسطیٰ کے عظیم ونچسٹر کتھیڈرل کے گھنٹوں کی آواز جارحانہ انداز کی اللہ اکبر کی آذان کی آواز سے کہیں زیادہ دلربا ہے۔

رچرڈ ڈاکنس کے اس دل آزاد بیان پر پورے عالم اسلام میں مذمت کی صدا بلند ہوئی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے اس کے جواب میں اپنے ٹیوٹ میں کہا ہے ”نہیں،یہ آپ کا تعصب ہے۔ ”

موسیقار بنجامن ہولٹ نے رچرڈ ڈاکنس کے ٹیوٹ کے جواب میں کہا ہے کہ میں ونچسٹر کتھڈرل میں سرود خواں(Chorister )رہا ہوں اور اس گرجا گھر سے گہرا تعلق خاطر ہے۔ میں ایک موسیقار ہوں اورمیں نے دنیا کا سفر کیا ہے۔ مجھے موذن کی آذان نہایت دل لبھانے والی اور مسحور کن محسوس ہوئی ہے۔ ممکن ہے کہ یہ اپنی ثقافت کا اثر ہو۔ ”

پروفیسر رچرڈ ڈاکنس نے 2006میں اپنی کتاب The God Delusion ”خدا کا سراب” میں لکھا تھا کہ مذاہب، زہریلے دماغی امراض ہیں۔ اور 2013 میں انہوں نے کہا تھا ” اسلام، آج کی دنیا میں شر کی سب سے بڑی قوت ہے۔”

اداکارہ کیتھرین رسل نے رچرڈ ڈاکنس کے ٹیوٹ کو خوفناک مایوس کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے ڈاکنس سے کہا ہے کہ میں آپ کے اندازِ فکر اور آپ کی تصانیف کو بے حد پسند کرتی ہوں لیکن آپ کا یہ ٹیوٹ شرمناک ہے۔

آذان کے بارے میں پروفیسر ڈاکنس کے بیان کو اسلام سے شدید نفرت کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے اور اس پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو ڈاکنس اپنے آپ کو دہریہ کہتے ہیں اور دوسری طرف گرجا گھر اور اس کے گھنٹوں سے اس قدر عشق کہ آذان کو جارحانہ قرار دے رہے ہیں۔

چرچ آف انگلینڈ نے آذان کے بارے میں رچرڈ ڈاکنس کے بیات پر تو کچھ نہیں کہا لیکن ان کی صحت یابی کے لئے دعا مانگی ہی۔ رچرڈ ڈاکنس پر پچھلے دنوں دل کا دورہ پڑا تھا اور اب وہ ہسپتال سے گھر آگئے ہیں۔

برطانیہ میں بریگزٹ کے ریفرینڈم کے بعد اسلام دشمنی کی جو آگ بھڑکی ہے یہ اس کا مظہر ہے اور اس آگ پر پروفیسر ڈاکنس نے اپنے اس ٹیوٹ سے تیل چھڑکنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسلام دشمنی کی اس آگ نے امریکا اور اطلانتک کے اس پار برطانیہ کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.