تبدیلی آئے گی

644

آج سیاسی چہرے تبدیل ہونے جا رہے ہیں۔ بد دیانتی اور کرپشن کے تناور درخت اکھاڑے جا رہے ہیں۔ بہت سے نئے وعدے کیے جا رہے ہیں کہ اب کوئی نااہل شخص اہل کی جگہ پر، بددیانت دیانتدار کے مقام پر فائز نہیں ہونے پائے گا۔

ملک میں انقلاب آئے گا۔ تعلیم عام ہوگی۔ صحت کا فروغ ہو گا۔ کوئی بیروزگاری اور بھوک سے خودکشی نہیں کرے گا۔ غریب اور امیر صرف مسجد میں ہی ایک صف میں کھڑے نہیں ہو نگے بلکہ غریب کی پکار بھی ہر جگہ سنی جائے گی۔ الغرضیکہ ہر جگہ پر تبدیلی آئے گی۔

سیاست دانوں کے وعدے اپنی جگہ اہم ہیں۔ خدا کرے کہ اس بار واقعی تبدیلی آئے۔

مگرمجھے یہ عرض کرنا ہے کہ اگر ہم میں سے ہرایک عہد کرے اپنی ذات کی اصلاح کا، جھوٹ نہ بولنے کا، منافقت سے بچنے کا، مالک ملازم پر ظلم نہ کرنے کا، ملازم کام کے اوقات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بد دیانتی نہ کرنے کا، ماں باپ اولاد کی تربیت کرنے کا، بیٹے اور بیٹیاں اس تربیت کا حق ادا کرنے کا، ہر حال اور ہر ماحول میں اسلام کے اصولوں پر چلنے کا، صبر، تحمل اور برد باری کا مظاہرہ کرنے کا، وعدوں کی تکمیل کا، دین اور دنیا کی تعلیم کے حصول کا تو یقین کریں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔

یہی اصل تبدیلی ہے جو کوئی واعظ، کوئی ناصح، کوئی سیاستدان نہیں لا سکتا۔ اس کا بیج ہر شخص کو اپنی ذات میں خود بونا ہوگا تبھی تبدیلی آئے گی کیونکہ درخت اگانے کے لئے بیج بونا ضروری ہے۔ تو آئیے ذات کی اصلاح کے لیے اپنے اندر تبدیلی کا بیج بونے کا عمل شرع کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.