پانی پانی کر گیا پانی کا عنوان

1,084

پانی ایک لازوال نعمت ہے۔ پانی احتیاط سے استعمال کیجئے۔ پانی زندگی ہے۔ یہ عبارتیں عوامی مقامات سمیت پانی کی موجودگی والی سبھی جگہوں پر اکثر وبیشتر دیکھی اور پڑھی جاتی ہیں۔ ہم چلتے پھرتے انہیں پڑھتے ہیں لیکن عمل کرتے ہوئےجانے کیا صلحت آڑے آتی ہے۔ مجھ سمیت اکثر لوگ ان معمولی مگر انتہائی اہم باتوں پر عمل نہیں کر تے اور قطرہ قطرہ کر کے بے بہا پانی یوں ہی بہا دیتے ہیں۔ لیکن پانی کی قلت کے وقت ہم کچھ عبارتوں پر عمل پیرا ہونا شروع ہوتے ہیں تب کوئی مصلحت آڑے نہیں آتی بلکہ تب تو ضرورت ہمارا قافیہ تنگ کر دیتی ہے اور تب ہی ہم ٹب گلاس اور حلق میں پانی اتارتے وقت اور اس کے بعد پانی کی اہمیت پر تھوڑا بہت فکر کرتے ہیں۔

کتنا دلچسب ہوتا ہے نا جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آج واٹر سپلائی والا پانی دن میں تین بار کے بجائے صرف ایک بار فراہم کیا جائے گا کیوں کہ آج فلٹریشن پلانٹ کی د و موٹروں میں سے ایک جل گئی ہے اور صرف ایک ہی موٹر کام کر رہی ہے، دوسری موٹر پر زیادہ بوجھ نہیں ڈلا جا سکتا۔ یا یہ کہ آج پائپ لائن میں کوئی مسئلہ درپیش ہے لہٰذا پانی اس تسلسل سے نہیں فراہم ہو گا۔ لہٰذا ٓج احتیاط برتنا ہو گی۔ پانی کم سے کم استعمال کرنا ہو گا تب ہی اگلے دو وقت پانی موجود رہے گا کیونکہ جب تک پانی کی فراہمی اپنے معمول پر نہ آجائے پانی کی عدم دستیابی کا خطرہ سر پر موجود ہے۔ تب ہڑبڑی مچ جاتی ہے اور احتیاط لازم کے واسطے ہم سب ہی اضافی برتن واش روم کی زینت بنا لیتے ہیں اور تھوڑا بہت پانی محفوظ کر لیتے ہیں۔

یہ رہی ہمارے گھر اور محلے کی کہانی جہاں ہم خوب سے خوب مہارتیں زیر غور تب لاتے ہیں جب پانی جیسی اہم ضرورت ہمیں کم ہوتی معلوم ہوتی ہے او رہم پیش ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لئے اپنے اپنے طور اقدامات کرتے ہیں لیکن جب معاملہ آتا ہے ملک کا تو ہمارے پاس ایسی صورتحال میں واویلا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ مجھ سمیت کئی لکھنے والے بھی پانی کی کہانی لکھ کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے پانی کے بحران جیسے اہم قومی مسئلے کو حل کرنے میں اپناکردار اد ا کر دیا۔

موجودہ ملکی صورتحال میں بڑے حل طلب مسائل میں ایک مسئلہ پانی کے بحران کا ہے۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ گلوبل وارمنگ جیسے عناصر کے باعث دنیا بھر کے ماحول میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ ایسے میں موسم میں ہونے والی تبدیلیاں ملکی و قومی سطح پر بھی اقدامات کرنے کی متقاضی ہیں تاکہ ملک میں پانی کی ہونے والی شدید کمی پر بروقت قابو پایا جا سکے۔ پانی سے براہ راست اثر انداز ہونے والے عوامل جن میں زرعی زمینوں کا بنجر ہونا اور پھر فصلوں کی کم پیداوار سے خوراک کی کمی جیسے مسائل اس سے بڑھ کر یہ کہ پینے کے لیے پانی کا ناکافی ہو جانا شامل ہے۔ ان کے لئے متبادل تو نہیں حفاظتی اقدامت بھی نہیں کیے جاتے جن سے ان مسائل سے نبٹنے میں مدد مل سکے۔ ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہو جانے کی صورت میں بجلی گھروں میں بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے تو ساتھ ہی ان ڈیموں سے نکلنے والے مختلف کینال اور نہریں بھی خشک ہو جاتی ہیں جن پر منحصر زندگی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

اب جو سلسلہ چل پڑا ہے کہ ڈیم بنائو پاکستان بچائو، یقینی طور پر اچھا قدم ہے۔ دیر آید درست آید۔ ملک کی اعلیٰ عدلیہ سمیت اہم اداروں نے رضاکارانہ بنیادوں پر نئے ڈیمز کی تعمیر کے لئے باقاعدہ مہم شروع کر دی ہے تاکہ ملک کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ اس میں عوام سے بھی رضا کارانہ بنیادوں پر حصہ ڈالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ ایسے اقدامات سے کم از کم پانی کے بحران جیسے بڑے مسلے سے جان بخشی ممکن ہو سکے گی۔

دوسری جانب تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ملک میں پانی کے ذخائر مناسب تعداد اور ضرروت کے بر عکس ہونے کے باعث پانی کے بحران جیسے بڑے مسئلے کا اندیشہ ہمیشہ مملکت پاکستان پر منڈلاتا رہتا ہے۔ منگلا ڈیم اور تربیلا جیسے بڑے منصوبوں کے بعد کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ بڑے ڈیموں کے علاوہ چھوٹے ڈیموں میں بھی پانی کی سطح کم ہو چکی ہے۔ ان سے کچھ طبقات کا روزگار بھی وابسطہ ہے جیسا کہ اسی پانی کی مناسب سطح پر منحصر کشتی بان اور مچھیرے خوب پریشان ہیں اور پر امید بھی ہیں کہ مون سون بارشیں اس بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

انفرادی سطح پر ہم سب کو پانی جس قدر ہو سکے بچانا چاہئیے۔ آپ کو معلوم ہے ہم پانی کا آدھا گلاس حلق سے اتارنے کے بعد باقی بچا پانی زمین کی نظر کر کے اس زمین بوس پانی کی نظر میں شرم سے پانی پانی ہوجاتے ہیں لیکن ہم اس شرمندگی کو محسوس کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ پانی کو بچائیے کہ یہ آپ کی زندگی کو بچائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.