سورما: سندیپ سندھ کی جدوجہد یا لو اسٹوری؟

2,998

بالی ووڈ کی فلم “سورما” بھارتی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی اور کپتان سندیپ سنگھ کی زندگی پر بنائی گئی ہے۔ بالی ووڈ انڈسٹری اس سے پہلے بھی مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے اپنے قومی کھلاڑیوں کو فلم کے ذریعے خراج تحسین پیش کر چکی ہے۔ اس سال باری بھارتی ہاکی پلیئر سندیپ سنگھ کی ہے۔ سندیپ سنگھ کی کہانی فلمی اس لئے ہے کیوں کہ انہوں نے صرف ہاکی ہی نہیں کھیلی بلکہ زندگی سے بھی جنگ کی ہے۔ اپنی ریڑھ کی ہڈی میں گولی لگنے اور اپاہج ہوجانے کے باوجود بھی سندیپ سنگھ دوبارہ ہاکی میں آئے اور بھارتی ٹیم کے کپتان بنے اور ان کی یہی انفرادی کہانی فلمی بن گئی۔

اگر آپ ہاکی کھیلتے، دیکھتے یا کم از کم آپ کو ہاکی پسند ہے تو آپ بھارتی کھلاڑی سندیپ سنگھ کو ضرور جانتے ہوں گے۔ سندیپ سنگھ پلینٹی کارنر کے سپیشلسٹ تھے۔ ان کا پلینٹی کارنر مس ہو جانا شاید ناممکن تھا اور اپنی اسی ڈریگنگ شارٹ کے باعث بھارت میں انہیں فلکر سنگھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سندیپ سنگھ نے انڈیا کو 2009 کا اذلان شاہ ہاکی کپ بھی جتوایا تھا اور سب سے زیادہ گول کرکے مین آف دی ٹورنامنٹ بھی رہے تھے۔

soorma-759

_1c5e4a86-8766-11e8-bbc3-e5c02a79570e

فلم سورما میں مرکزی کردار دلجیت سنگھ نے ادا کیا ہے اور تاپسی پنوں نے ان کے مدمقابل حسن کے جلوے بکھیرے ہیں۔ وجے راز نے بطور کوچ بہترین کام کیا ہے لیکن اس رول کیلئے وجے راز کو کاسٹ کرنا ایک بہترین انتخاب نہیں تھا۔ کلبھوشن کھربندا نے ہاکی فیڈریشن کے چیئرمین کا کردار ادا کیا اور بخوبی نبھایا۔ اس کے علاوہ فلم میں انگت بیدی نے سندیپ سنگھ کے بھائی کا کردار ادا کیا۔ انگت بیدی نہ صرف خود بھی ایک کھلاڑی ہیں بلکہ ایک بھارتی کرکٹر کے بیٹے بھی ہیں۔

soorma-movie-review-2

Taapsee-Soorma-825

سورما کی ہدایات شاد علی نے دی ہیں۔ شاد علی نے فلم “دل سے” سے بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بالی ووڈ میں قدم رکھا اور 2002 میں فلم ساتھیا کے ساتھ بطور ڈائریکٹر ڈیبو کیا لیکن ابھی تک وہ ایسی کوئی بھی فلم نہیں بنا سکے جو ان کی پہچان بنے، البتہ فلم “گرو” میں بطوراسسٹنٹ ڈائریکٹر ان کا کام اور فلم دونوں کو سراہا گیا تھا۔

اگر بات فلم کی کہانی کی کی جائے تو کہانی میں ایک نہیں بلکہ کافی جھول ہیں۔ کہانی میں بتایا گیا ہے کہ سندیپ سنگھ ہاکی کھیلنا ایک لڑکی کی وجہ سے شروع کرتے ہیں ورنہ انہیں ہاکی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی جبکہ سندیپ سنگھ اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے خود بتاتے ہیں کہ انہیں ہاکی کھیلنے کا شوق اپنے بھائی کو دیکھ کر ہوا تھا۔ پتہ نہیں کیوں بالی ووڈ فلم انڈسٹری محبت اور رومانس کے تڑکے سے باہر ہی نہیں نکلتا۔ ہر کہانی میں رومانس ڈالے بنا ان کی کہانی مکمل نہیں ہوتی۔ مہیندرسنگھ دھونی کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں بھی رومانس کا اچھا خاصہ تڑکہ لگایا گیا تھا۔

11soorma1

اس فلم میں سندیپ سنگھ کو پیش آنے والے 21 اگست 2006 کے واقعے کو ہی فوکس کیا گیا ہے۔ سندیپ سنگھ کو ٹرین میں حادثاتی طور پر گولی کا لگ جانا، ان کا نچلا دھڑ مفلوج ہو جانا اور پھر اس کے بعد سندیپ سنگھ اور ان کے خاندان کی جدوجہد اور سندیپ سنگھ کا پھر سے کھڑا ہونا، چلنا پھرا حتیٰ کے ہاکی کھیلنا شروع کردینا اور قومی ٹیم کا کپتان بن جانا۔ بس یہی کہانی کا محور ہے۔ فلم میں سندیپ سنگھ تو ہیں، ان کی جدوجہد بھی ہے لیکن ان کے بھائی اور خاندان کو وہ جگہ نہیں دی گئی جس کے وہ حق دار ہیں۔

Diljit_Dosanjh_Taapsee_Pannu_Instagram

سب کہتے ہیں کہ ہر کامیاب آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہے۔ شاید یہ کہاوت ڈائریکٹر اور کہانی نویس کو بڑی پسند آئی اور اس نے زبردستی تاپسی پنو کو فلم میں سندیپ کی انسپیریشن بنا دیا۔ فلم کے شروع میں ہی بتا دیا کہ سندیپ سنگھ ہاکی کھیلنا لڑکی کی وجہ سے شروع کرتے ہیں اور حادثے کے بعد بھی لڑکی کی ہی وجہ سے صحت یاب ہوتے ہیں جبکہ سندیپ سنگھ خود بتاتے ہیں کہ ان کی دوبارہ بحالی میںِ ان کے بھائی کا بہت ہاتھ تھا۔ یہ بات فلم میں کسی قدر دکھائی تو گئی ہے لیکن اس کے باوجود تاپسی پنو کا کردار اس طرح سے پیش کیا گےا ہے جس سے ساری کی ساری محنت کا کریڈٹ انہیں ہی مل جاتا ہے۔ اس سب کے بیچ سندیپ سنگھ کے گھر والوں اور خاص کر بھائی کی محنت کہیں کھو جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک کامیاب آدمی کے پیچھے عورت ہی کا ہاتھ ہو۔ اس سے کہیں زیادہ اس کے بھائی یا باپ کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔

فلم میں کیا حقیقت ہے کیا کہانی ہے اور کیا صرف فکشن ہے، یہ تو آپ فلم دیکھ کر ہی اندازہ لگا سکتےہیں۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. بے نام کہتے ہیں

    فلم اچھی ہے لیکن لو اسٹوری ہے سندیپ کی کہانی نہیں ہے ۔ فلم میں پاکستان کا میچ اور گول بھی غلط دکھایا گیاہے انڈیا پاکستان کا فائنل ہوا ہی نہین تھا۔

  2. کاشف محمود کہتے ہیں

    یسین بھائی ایک بہترین بلاگ لکھا ہے ۔ فلم دیکھی ہے میں نے بڑی ہی کھچ ماری ہے حقیقت تو ہے ہی نہیں بس فکشن ہی فکشن لیکن تاپسی پنو واقعی ہی کمال لگی ہے

  3. Iqbal کہتے ہیں

    فلم دیکھی نہیں ہے لیکن ٹریلر اور گانوں سے اندازہ ہورہاہے فلم میں کھیل سے کہیں زیادہ عاشقی معشوقی ہوگی لیکن سندیپ سنگھ کی کہانی واقعی ہی ایسی ہے جسے پردے پر دکھایا جاتا ایک انسپیریشنل کہانی ہے۔

  4. ظفر کہتے ہیں

    فلم کا اتنا نہیں پتہ لیکن تحریر پختہ ہے اور ہوتی جارہی ہے ویرگڈ ۔ یونہی لکھتے رہو

تبصرے بند ہیں.