کیا میڈیا قندیل بلوچ کو انصاف دلوائے گا؟

1,914

آج سے اڑھائی سال قندیل ہاٹ ٹاپک تھی۔ اس کی ایک ایک حرکت لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر ہر جگہ قندیل کے نام کی پکار تھی۔ حتیٰ کہ بین الاقوامی میڈیا بھی قندیل کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ ایسے میں مین اسٹریم میڈیا کیوں پیچھے رہتا۔ مارننگ شوز، ٹاک شوز اور دیگر تفریحی پراگرامز میں قندیل کو بلایا جانے لگا۔ کہیں گانا سننے کی فرمائش کی گئی تو کہیں اس بے چاری کو مفتی قوی کے سامنے بٹھا دیا گیا تو کسی نے مزاح کے نام پر قابلِ اعتراض سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔ کسی کو اس کا پاسپورٹ ملا تو وہ اخبار میں چھاپ دیا۔ کسی کو اس کے پچھلے شوہر اور بچے کی معلومات ملیں تو انہیں ٹی وی پر لے آیا۔ غرض قندیل کا نام استعمال کر کے کروڑوں روپے کمائے گئے۔ بدلے میں اسے کیا دیا گیا؟ ایک درد ناک موت۔۔ وہ بھی اس کے سگے بھائی کے ہاتھوں۔

یہی نہیں، قندیل کے مرنے کے بعد اس کی موت کو بھی کیش کیا گیا۔ اس کی زندگی سے متاثر ہو کر ایک ڈرامہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ قندیل کے والدین کو ایک کتاب کا بتا کر اجازت لی گئی۔ ڈرامے کے شروع میں ایک ڈسکلیمر ڈال کر خود کو قانونی لحاظ سے محفوظ کر لیا گیا۔ ڈرامے سے کروڑوں روپے کمائے، جس کی وجہ سے کمائے اس کے بوڑھے اپاہج باپ کی جیب میں احسان سمجھتے ہوئے بس پچاس ہزار روپے ڈال دیے۔

قندیل کے قتل کے دو سال بعد، آج کے دن ٹیلی ویژن سکرین پر مستونگ بلاسٹ کی کوریج کی جا رہی ہے۔ وہی مستونگ بلاسٹ جسے تیرہ جولائی کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا گیا کہ اس دن ملک کے سابق وزیرِ اعظم اپنی بیٹی کے ہمراہ نیب کو گرفتاری دینے وطن واپس آ رہے تھے۔ لاہور میں موبائل سگنلز بند ہونے کی وجہ سے رپورٹرز سے رابطہ بہت مشکل سے ہو رہا تھا۔ اینکرز کے پاس جو گنی چنی معلومات پہنچ رہی تھیں، وہ انہی کو بار بار دہرا رہے تھے۔ جب تک نواز شریف اور مریم نواز لاہور سے اسلام آباد کے طیارے میں نہ بیٹھ گئے تب تک مستونگ بلاسٹ کو قابلِ توجہ نہ سمجھا گیا۔ تب بھی مستونگ بلاسٹ کو صرف اس لیے کور کیا گیا کہ طیارے میں سے تو کوئی خبر پہنچ نہ سکتی تھی، اب جو بھی خبر ملتی چالیس منٹ کی پرواز کے بعد ہی ملتی تب تک دو چار خبریں مستونگ بلاسٹ کی چلائی ہی جا سکتی تھیں۔

اگلے روز جب مستونگ بلاسٹ کو پاکستان کی تاریخ کے بد ترین بلاسٹس میں سے ایک گردانا جانے لگا تب میڈیا کی توجہ اس طرف پڑی۔ مستونگ بلاسٹ سے ہونے والی ہلاکتوں کے احترام میں تمام چیینلز نے اپنے لوگو سیاہ کر ڈالے، اینکرز کے لہجے سوگوار ہوگئے اور مستونگ سے لمحہ لمحہ کی خبر ملک بھر میں پہنچنے لگی۔ بدلتا ہے رنگ میڈیا کیسے کیسے۔

قندیل کے قتل کو دو سال گزرنے کے باوجود اس کے کیس کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ جب تک میڈیا قندیل بلوچ قتل کیس کو کوریج دیتا رہا، عدالت بھی تیزی سے اپنا کام کرتی رہی لیکن جیسے ہی میڈیا نے قندیل کا دامن چھوڑا عدالت نے بھی اس کیس کو دیگر فائلوں کے نیچے دبا دیا۔

قندیل کا بھائی اپنے جرم کا اعتراف کر چکا ہے۔ مفتی قوی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ واضح ثبوت ہونے کے باوجود قندیل کو انصاف ملنے میں دیر کیوں ہے؟ کیا عدالتیں صرف اس کیس کا فیصلہ کریں گی جو میڈیا پر آئے گا؟ کیا میڈیا بغیر کسی مفاد کے قندیل قتل کیس کو صرف اس نیت سے اٹھائے گا کہ قندیل کو انصاف مل جائے اور آگے کوئی کسی عورت کو غیرت کے نام پر قتل نہ کرے؟

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. Mursalan Haider کہتے ہیں

    No expectation from media.. it is just a business in Pakistan..

  2. Mr Shah کہتے ہیں

    انڈیا کو نواز شریف کی گرفتاری کی وجہ سے اتنی تکلیف کیوں

  3. Shah Jee کہتے ہیں

    Media killed her!!!

  4. Awais Ahmad کہتے ہیں

    When you drive too fast, there are greater chances of accident. Qindeel’s speed was over limit in fact.

  5. kashif ahmed کہتے ہیں

    good (Y)
    قندیل کا بھائی اپنے جرم کا اعتراف کر چکا ہے۔ مفتی قوی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ واضح ثبوت ہونے کے باوجود قندیل کو انصاف ملنے میں دیر کیوں ہے؟ کیا عدالتیں صرف اس کیس کا فیصلہ کریں گی جو میڈیا پر آئے گا؟ کیا میڈیا بغیر کسی مفاد کے قندیل قتل کیس کو صرف اس نیت سے اٹھائے گا کہ قندیل کو انصاف مل جائے اور آگے کوئی کسی عورت کو غیرت کے نام پر قتل نہ کرے؟

تبصرے بند ہیں.