جاگنگ ٹریک

1,590

13 فروری 2002

صبح 5 بج کر 45 منٹ پر جاگنگ ٹریک پر یہ اس کا مجھ پر پہلا حملہ تھا. میں نے بڑی خندہ پیشانی اور حوصلے سے برداشت کیا۔

شیخ زید اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں پڑا رہا۔

پوچھا، “یہ سب کچھ کیوں؟”

کہنے لگا،

“پہلے تو میرے اندر دھواں دھکیلتا رہا، ہرا، کالا، نیلا، پیلا، پانی انڈیلا۔ تیز مصالحے دار گلا سڑا گوشت ٹھونستسا رہا۔ دودھ کی شکل میں زہر اور گھی کی شکل میں گریس میری نرم و نازک نالیوں میں بہاتا رہا اور تو اور پھر صبح سویرے اٹھ کر کر ایک ہزار مرتبہ اسپائکس، چار کلو میٹر جاگنگ کرتا، پھر فٹبال کھیلتا۔ تھکا مارتا تھا مجھے اب مجھے بھی تو بدلہ لینا تھا۔”

میں خاموش رہا۔ اسے کچھ نہیں کہا۔

اسپتال سے ڈسچارج ہوا اور پہلےسے بھی زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر لیا۔

اسے پہلے سے کہیں زیادہ تھکانا شروع کر دیا۔

چھوڑی ہوئی ویٹ ٹریننگ، اسپائکس اورجاگنگ شروع کر دی۔

جب اس نے دیکھا کہ یہ تو خاطر میں نہیں لا رہا تو پھر سے چھیڑ خانی پر اتر آیا۔

اس بار پھر اس نے، 13 فروری کا ہی انتخاب کیا، البتہ وقت 3 بج کر 45 منٹ تھا۔

اس نے اب کی بار سوتے میں حملہ کیا۔

اسپتال پہنچا۔ وہی چال بے ڈھنگی۔ نام کے مسیحاؤں نے پوچھا تک نہیں۔ سارادن ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھا رہا۔

ایک مسیحا قریب سے گزرا تو کہا، “حضور ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں۔”

روکھا سا جواب ملا، “دیکھ رہا ہوں۔ شکر کرو کرسی پر ہو۔”

عرض کی، “جناب کب دیکھیں گے؟”

کہنے لگے، “کسے”

دوبارہ عرض کی، “جناب اس خادم کو۔”

کہنے لگے، “صبح سے دیکھ رہا ہوں۔”

“حضور یہ دل کا اسپتال ہے۔ وہ ہی روگ ہم بھی لے کر پہنچے ہیں۔”

“اچھا۔ دیکھ لیتے ہیں۔ ایسی بھی کیا جلدی ہے۔”

کاغذ الٹ پلٹ کئے اور یہ جا وہ جا۔

شام ایک کمرہ ملا،

اگلے روز اسٹنٹ کے نام پر ایک پائپ ڈالا۔ 2 لاکھ روپے بٹورے اور چلتا کیا۔

اب یہ پھر سے دھینگا مشتی پر اتر آیا۔

اگرچہ میں اسے یہ کہہ چکا ہوں کہ بالآخر جیت تمھاری ہی ہوگی۔ اچانک دھڑکنا بند کر دے گا۔ اور کہانی ختم۔

لیکن سن،

زندگی زندہ دلی کا نام ہے۔ مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں۔

اتنی جلدی نہیں۔

تجھے ٹف ٹائم سہنا پڑے گا۔

یوسف منہاس دنیا ٹی وی سے منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.