یہ کیسا امریکی مہمان تھا؟ 

2,114

بلا شبہ برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے اپنے آپ کو کوستی ہوں گی کہ انہوں نے گذشتہ سال صدر ٹرمپ کے انتخاب کے فورا بعد واشنگٹن جانے میں جلد بازی سے کیوں کام لیا اور امریکا کے ساتھ خاص تعلقات کے اظہار کی خاطر ٹرمپ کو برطانیہ آنے کی دعوت دی، حالانکہ اسی وقت برطانیہ کے عوام کی ایک بڑی تعداد نے ٹرمپ کی اسلام دشمن اورنسل پرست پالیسیوں کے پیش نظر، چلبلے اور ایسے شخص کے دورہ کی شدید مخالفت کی تھی، جس کے اقدام کے بارے میں کوئی پیش بینی نہ کی جاسکے۔ ٹرمپ کے دورہ کے مخالفین نے اسی وقت ان کی آمد پر بڑے پیمانہ پر مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔

لندن میں آمد سے قبل ہی ٹرمپ نے اپنی میزبان ٹریسا مے پر اوچھا وار کیا تھا اور کہا تھا کہ برطانوی وزیر اعظم کی بریگزٹ کی بودی پالیسی اور ان کے دو اہم وزیروں کے استعفوں کی وجہ سے برطانیہ کو سخت ہل چل کا سامنا ہے۔ یہی نہیں ٹرمپ نے تمام سفارتی اداب کو بالائے طاق رکھ کر برطانیہ کی داخلی سیاست میں مداخلت کی اوربریگزٹ کے بارے میں ٹریسا مے کی پالیسی پر کڑی نکتہ چینی کی اور ان کے باغی وزیر خارجہ بورس جانسن کو اپنا گہرادوست قرار دے کر ان کے استعفی ٰپرسخت تاسف کا اظہار کیا۔

پھر برسلز میں نیٹو کی پریس کانفرنس میں یہ جانتے ہوئے کہ برطانیہ میں ان کی آمد کے خلاف بڑے پیمانہ پر مظاہرے منظم کئے جا رہے ہیں، ٹرمپ نے دعوی کیا کہ برطانیہ کے عوام ان کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ اور ابھی دورہ کے پہلے دن ٹرمپ نے لندن کے ہائیڈ پارک میں مرکزی مسجد کے قریب امریکی سفیر کی آہنی حصار میں گھری رہائش گاہ میں قدم رکھا تھا کہ ٹرمپ کے دوست روپرٹ مرڈاک کے اخبار سن نے ٹرمپ کا انٹرویو شائع کر کے تہلکہ مچا دیا۔

لوگوں کو تعجب ہوا کہ ٹرمپ نے یہ انٹرویو دیتے ہوئے ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں سوچا کہ وہ ٹریسا مے کے مہمان ہیں۔ ٹرمپ نے اس انٹرویو میں کہا کہ بریگزٹ کے مسئلہ پر ٹریسا مے نے ان کا مشورہ نہیں مانا اور برطانوی وزیر اعظم نے یورپ سے برطانیہ کی علاحدگی کا معاملہ برباد کر دیا ہے، جس کے نتیجہ میں برطانیہ کے ساتھ امریکا کے تجارتی سمجھوتہ کا امکان فوت ہو گیا ہے۔

سن کے انٹرویو میں ٹریسا مے کے خلاف صلواتیں سنانے کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ٹریسا مے کے باغی، بورس جانسن کی تعریفوں کے قلابے ملائے اورکہا کہ بورس جانسن بہت ذہیں شخص ہیں اور وہ برطانیہ کے ایک عظیم وزیر اعظم ثابت ہوں گے۔ یقیناً ٹرمپ کو اس بات کا علم تھا کہ بورس جانسن، وزیر اعظم کے عہدے کے لئے انتخاب لڑنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ اس موقع پر بورس جانسن کی تعریف بلا شبہ ٹریسا مے کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھی۔

ٹریسامے سے کہیں زیادہ، ٹرمپ نے روزنامہ سن کے انٹرویو میں لندن کے پہلے مسلم مئیر صادق خان کے خلاف زہر اگلاتھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا یورپ میں لاکھوں افرا کا سیلاب بہت افسو س ناک ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پورے یورپ میں جرائم اور قاتلانہ حملوں کے پیچھے امیگرینٹس ہیں۔ ٹرمپ کا اشارہ لندن کے مئیر صادق خان کی طرف تھا جن کو ٹرمپ پہلے بھی کئی بار نکتہ چینی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ ٹرمپ یہ کہنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا سیلاب یورپ میں آرہا ہے اور لندن کے مئیر بھی ایک مسلمان ہیں۔ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا” آپ کا ایسا مئیر ہے جس نے لندن میں ہولناک کام کیا ہے۔ اس دھشت گردی کو دیکھیے جو لندن میں ہور ہی ہے۔ اس کی ساری ذمہ داری مئیر صادق خان پر عائد ہوتی ہے ”

بی بی سی کے ایک انٹرویو میں صادق خان نے ٹرمپ کو جواب دیا کہ یورپ میں دھشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا عوام نشانہ بن رہے ہیں۔ لیکن ٹرمپ یورپ کے ان شہروں کے مئیروں کی بات نہیں کرتے جہاں دھشت گردی کا مسئلہ ہے۔ صادق خان نے کہا کہ ٹرمپ صرف میرے خلاف بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگلستان میں جرائم کا دوش امیگریشن کے مسئلہ کو دینا بے ہودہ اور لغو بات ہے۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی صادق خان کو برطانیہ میں دھشت گردی کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں لیکن اس بار ان کے باتوں میں زہر اس وجہ سے زیادہ تھا کہ صادق خان نے ٹرمپ کی آمد پر ان کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کو لندن کی فضا میں ایک دس فٹ اونچا بے بی ٹرمپ کا غبارہ اڑانے کی اجازت دی تھی۔ نیپی بندھے بچے کی صورت ٹرمپ سے ملتی جلتی ہے۔ ہاتھ میں اس کے موبائل فون تھا۔ مقصد اس غبارے کے اڑانے کا یہ ثابت کرنا تھا کہ ٹرمپ کی باتیں اور حرکتیں خالص بچوں کی طرح ہیں۔ لندن میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرے میں جو ہائیڈ پارک سے ٹرافلگر اسکوایر تک گیا، کئی لاکھ افراد نے حصہ لیا۔ لندن کے علاوہ گلاسگو، ایڈنبرا، اور لور پول میں بھی ٹرمپ کے خلاف مظاہر ے ہوئے۔

ٹرمپ کے خلاف لندن میں مظاہروں کے پیش نظر امریکی صدر کو ہیلی کاپٹر میں چھپا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا گیا تاکہ مظاہرین ٹرمپ کو نہ دیکھ سکیں اور نہ ٹرمپ مظاہرین کو دیکھ سکیں۔ بہرحال صدر منتخب ہونے کے بعد برطانیہ کے پہلے دورہ پر ٹرمپ جو تام جھام چاہتے تھے وہ انہیں نصیب نہ ہو سکا۔ وہ چاہتے تھے کہ ملکہ ایلزبتھ کے ساتھ شاہی بگھی میں لندن کی شاہراہوں پر سواری کریں اورامریکا کے عوام کو تصاویر دکھا کر مرعوب کریں۔

ٹرمپ کی خواہش تھی کہ بکگھم محل میں ان کی اسی طرح شاہی ضیافت ہو جس طرح دوسرے ملکوں کے سربراہوں اور بادشاہوں کے اعزاز میں ضیافتیں ہوتی ہیں۔ ٹرمپ اس سے بھی محروم رہے۔ پھر ٹرمپ چاہتے تھے کہ انہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع دیا جائے۔ دارالعوام کے اسپیکر نے عوام کے جذبات کے پیش نظر پہلے ہی صاف طور پر کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کو مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت نہیں دیں گے۔ البتہ ٹرمپ کو ونڈسر کاسل میں ملکہ ایلزبتھ کے ساتھ چائے پینے کا موقع ضرور ملا۔ ونڈسر کاسل جانے سے پہلے وزیر اعظم کی دیہی قیام گاہ چیکرس میں ٹرمپ نے ٹریسا مے کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

حیرت انگیز بات اس پریس کانفرنس کی یہ تھی کہ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ٹریسا مے اور ان کی بریگزٹ پالیسی کے بارے میں سن کے انٹرویو میں جو کچھ کہا ہے کیا وہ اس پر تاسف کا اظہار کرتے ہیں تو ٹرمپ بپھر گئے، انہوں نے اپنے سر کو جھٹکا دیا انگلی کھڑی کی اور پھر اچانک اپنے جوتے کی طرف دیکھنے لگے۔ ٹریسا مے برابر خاموش کھڑی تھیں لیکن ا س کے فورا ًبعد ٹرمپ نے ٹریسا مے کی تعریفوں کے ڈونگرے برسانے شروع کر دیئے اور بار بار کہا کہ ٹریسا مے ایک لاجواب شاندار اور زبردست خاتون ہیں۔ میں ان کے ساتھ دو دن رہا ہوں اور میں ان سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ اس پر پریس کانفرنس میں شریک صحافیوں کا بے ساختہ ہلکا سا قہقہہ ٹرمپ کے بیان پر نہایت موثر تبصرہ تھا۔ بہر حال امریکا سے آنے والے مہمان ٹرمپ نے کوشش تو بہت کی اپنے غیر مہذب اور غیر سفارتی رویہ سے پیدا شد ہ رنجشیں مٹانے کی لیکن دلوں کا حال تو دل ہی جانتے ہیں۔

 

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.