غزل میں رمز و کنایہ بہت ضروری ہے !

1,723

کسی بھی فرد یا ادارے کے کامیاب یا ناکام ہونے میں اس کے مشیروں کابہت ہاتھ ہوتا ہے۔ کوئی فرد اس وقت ہی کامیاب ہوتا ہے، جب وہ خود ایک بہتر فیصلہ کرنے کی استطاعت رکھتا ہو یا اس کے مشیر اس فرد کو درست وقت پر درست مشورہ دیں۔ مشیروں کا کردار لوگوں کے عروج و زوال میں بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ مشیر ہی ہوتے ہیں، جو قد بناتے بھی ہیں اور قد گھٹاتے بھی ہیں۔ جلال الدین اکبر، تمام تر خامیوں کے باوجود مغل سلطنت کے باقی حکمرانوں کے مقابلے میں ایک اچھا حکمران جانا جاتا ہے۔ اکبر بذات خود تو ایک ان پڑھ تھا مگر اس کی کامیابی کے ستون وہ نورتن تھے جو اس نے سلطنت میں رکھے ہوئے تھے۔ جب امام علی المرتضیٰ کرم اللّٰہ وجہہ الکریم سے پوچھا گیا کہ آپ کے سے پہلے آنے والے خلفاء کا دور تو نہایت پرامن رہا ہے لیکن آپ کا دور آج فسادات کی نذر ہو گیا ہے۔ تو اس پر امامؑ مسکرائے اور فرمایا، “ان کے مشیر ہم تھے، میرے مشیر تم ہو۔ یہ ہی اصل وجہ ہے۔ ”

پچھلے چند دنوں سے نگران حکومت کی پے در پے غلطیوں کے بعد میں اور مسلم لیگ کے ورکروں پر کریک ڈاؤن دیکھنے کے بعد نجانے مجھے ایسا کیوں لگا کہ پالیسی بنانے والوں کو کوئی نواز شریف جیسا مشیر مل گیا ہے۔ جو یہ معاملات ان سے کروا رہا ہے۔ اس خیال کے پیچھے ایک پسِ منظر ہے، آئیے آپ کو لئے چلتا ہوں۔ وقت 1986ء کا ہے، ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ ہے، ایک اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس جاری ہے، جس میں تمام وزرائے اعلیٰ اور امن و امان سے متعلق تمام وزراء موجود ہیں، اجلاس کی صدارت وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کر رہے ہیں۔ مسئلہ زیر گفتگو ہے، بےنظیر بھٹو کی واپسی کا۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب پیپلز پارٹی اپنے مکمل عروج پر تھی، ایک آواز اور ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر سڑکوں پر آن موجود ہوتا تھا اور پیپلز پارٹی اس وقت نہایت متحرک اور منظم جماعت بھی تھی۔ بہرحال، اجلاس میں تمام افراد اپنی دانش کے مطابق مشورے دے رہے تھے۔ اسی اجلاس میں میاں محمد نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ پنجاب موجود تھے۔ میاں صاحب گویا ہوئے، “ہم ائیرپورٹ سے ہی انہیں پک کر لیں گے۔ ” جس پر وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے انہیں ایک گھوری ڈالی اور ساتھ ہی کہا، “میاں صاحب گفتگو کرتے وقت احتیاط کیا کریں، وہ ایک بڑی سیاسی جماعت کی قائد ہیں۔ یہ مشورہ میری نشست خالی کروانے کے لئے نہایت ہی کارآمد ہو گا۔ ” اس جواب کے بعد، میاں صاحب واضح طور پر بتا رہے تھے کہ انہوں نے وزیر اعظم کی بات کا بہت برا منایا ہے۔ بہرحال، بے نظیر آئیں، لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے بی بی کا استقبال کیا۔ وہ صحافی جنہوں نے وہ جلسہ دیکھا وہ بتاتے ہیں کہ ائیر پورٹ سے لے کر بھاٹی چوک تک ایک جم غفیر تھا۔ بلاشبہ وہ ایک تاریخ کا بہت بڑا اجتماع تھا۔ اس کے بعد بی بی نے خطابات کئے اور اگلے کئی دن میٹنگز کیں اور واپس چلی گئیں۔ وہ جو ایک تصور تھا کہ نجانے کیا ہو جائے گا، کچھ بھی نہ ہوا۔ طوفان کا واویلا تھا مگر طوفان نہ آیا۔ سوال یہاں یہ ہے اگر اس وقت جونیجو ان کے خلاف اقدامات کرتے تو یقیناََ حالات خراب ہوتے، اس وقت کی پیپلز پارٹی کے ساتھ ٹکر لینا، آ بیل مجھے مارنے کے مترادف ہی تھا لیکن سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جونیجو کے اقدام نے حکومت کو ایک بحران سے بچا لیا۔

شاید پالیسیاں بنانے والوں کو واقعی میں کوئی نواز شریف جیسا مشیر مل گیا ہے یا خود وہ ایسی بے وقوفیاں کئے چلے جا رہے ہیں۔ وہ کام جو مسلم لیگ نہیں کر سکی وہ ان چند دنوں میں نگران حکومت نے کر دکھایا ہے، مسلم لیگ کو بلاشبہ اس کریک ڈاؤن نے ایک نئی جہد بخشی ہے۔ وہ سیاسی نقصان جو فیصلے کے دن نہ موجود ہو کر مسلم لیگ کو ہوا تھا اسے آج مکمل طور پر نہ سہی بہت حد تک ریکور کر لیا گیا ہے۔ وہ گیم جو شاید کل تک مسلم لیگ (ن) کے نہ خلاف تھی اور نہ حق میں تھی۔ آج اس حکومت کی مضحکہ خیز پالیسیوں نے اس گیم کو مسلم لیگ (ن) کے حق میں کر دیا ہے۔ اس صورت کہ اگر آج عوام نکلتی ہے اور مسلم لیگ قابلِ ذکر مجمع نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یقیناََ ایک بہت بڑی سیاسی فتح ہو گی لیکن اگر وہ نہیں نکال پاتے، جس کے امکانات بھی زیادہ ہیں کیوں کہ مسلم لیگ کا مزاج اجتماع اور لوگ اکٹھے کرنے والا نہیں ہے کجا کہ انہیں متحرک بھی رکھ سکے، بہر حال اگر وہ اپنے ورکرز نہیں نکال سکے تو ان کے پاس ایک بہت اچھا بیانیہ عوام کو دینے کے لئے موجود ہو گا کہ سرکاری مشینری کو ہمارے خلاف استعمال کیا گیا ہے اس لئے ہمارے لوگ باہر نہیں آ سکے۔ اگر لوگ نکلتے ہیں تو ہیرو بنیں گے اگر نہیں نکلتے تو وکٹم بنیں گے اور ہمارے ہاں تو وکٹم بھی ہیرو ہی ہوتا ہے۔ اس نگران حکومت کی ان پالیسیوں کا ابھی تو نہ کوئی سر نظر آ رہا ہے نہ پیر۔ جب انتخابات محض دس دن بعد ہیں، ملک اس سب سے بڑے شہر کو جو اس وقت سیاسی منظر نامے کے حوالے سے سب زیادہ اہم ہے اور سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، ایسے وقت میں شہر میں سیکشن 144 نافذ کرنا اور شہر کو کنٹینرز لگا کر بند کر دینا نہایت ہی غیر سنجیدہ عمل ہے اور ساتھ ہی ایک مخصوص جماعت کے ورکرز اور عہدیداران کی گرفتاریاں لازمی طور پر ایک اچھی صورتحال نہیں بنا رہے اور ساتھ ہی بلاول بھٹو کا اچ شریف میں پنجاب پولیس کی جانب سے روکے جانا اور ان کی کمپین میں مشکلات پیدا کرنا یہ سب نگران حکومت کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ نگران حکومت کو ہر صورت اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنا ہوتا ہے جس میں مسلسل وہ ناکام ہو رہے ہیں۔ حسن عسکری صاحب جو عموماً شہری آزادی کے حوالے سے لیکچرز دیتے ہیں، اس تمام معاملے میں بےبس نظر آتے ہیں۔ صاف اندازہ ہو رہا ہے کہ معاملات ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب ڈیل کی خبریں بھی غلط ثابت ہوئیں۔ مریم نواز اور نواز شریف لندن سے پاکستان کے لئے پرواز بھر چکے ہیں اور آج شام لاہور پہنچیں گے۔ نواز شریف کی جانب سے طبلِ جنگ بجایا جا چکا ہے، جیسا کہ وہ اپنی پریس کانفرنس میں میجر جنرل فیض جن کا تعلق آئی۔ ایس۔ آئی سے ہیں، کا نام لے چکے ہیں تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ واپسی کے راستے مسدود کئے جا چکے ہیں۔ خدا حیات کرے، بیگم کلثوم نواز صاحبہ کو بھی ہوش آ چکا ہے۔ نواز شریف کی خواہش بھی پوری ہو چکی ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ مکمل طور پر ہوش میں نہیں تھیں۔ بہرحال نواز شریف اور مریم نواز کے لئے یہ ایک بہت بڑا ریلیف ثابت ہو گا۔ جیسا کہ دونوں بیگم کلثوم نواز کی طبیعت کو لے کر نہایت فکرمند تھے۔ ڈیل کے مطابق اطلاعات ہیں کہ پیغام یہ پہنچایا گیا تھا کہ نواز شریف واپس آ جائیں لیکن مریم نواز واپس نہ آئیں۔ کیوں کہ اب تمام معاملہ در اصل نواز شریف کا نہیں ہے بلکہ مریم نواز کا ہے۔ سوال بنیادی طور پر یہ ہے کیا مریم نواز اپنے والد کا جو طرزِ سیاست ہے وہی لے کر چلیں گی یا مزاحمت کا راستہ ہی اختیار کریں گی، خیر اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ مریم نواز کی واپسی اس بات کا عندیہ ہے کہ مریم نواز اس وقت کسی ڈیل کے موڈ میں نہیں ہیں۔ وہ جارحانہ طور، چونکہ نسبتاََ جوان ہیں، تو طبیعت میں جارحیت ان کے طرزِ گفتگو سے صاف نظر آتی ہے۔ اگر مریم نواز آج واپس نہ آتیں تو یقیناََ ان کا سیاسی سفر کو جس کا ابھی آغاز ہے ایک سخت دھچکا لگتا۔ دوسری جانب مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کے لہجے میں پہلی دفعہ جارحانہ پن دیکھنے کو ملا جو کہ واضح اشارہ ہے کہ اگر انہیں زیادہ تنگ کیا گیا تو وہ بھی بھائی کے راستے پر نہ سہی لیکن پانچ چھ قدم ان کے ساتھ چل ہی لیں گے۔ حال کی تمام صورتحال میں ایک سبق باقی سیاستدانوں کے لئے ہے کہ جب ‘دھرنا۔ ۔ ۔ ۔ ٹو ‘کے دوران پرویز خٹک جو کہ ایک دوسرے صوبے وزیرِ اعلیٰ ہیں تو ان کو اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا بلکہ طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی تھی، وہ جماعت آج خود اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہے۔ تمام سیاستدانوں کو یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ قدرت کا ایک نظامِ عدل بھی ہے۔

تحریک انصاف میں آج کے جلسے یا عوامی اجتماع کو دیکھ کر ایک بے چینی تو نظر آتی ہے۔ عمران خان نے جس طرح کل کے جلسے میں نہایت نامناسب الفاظ کئے مخالف پارٹی کے ورکروں کے لے کر اور جس طرح ایک باقاعدہ ایک درخواست کی کہ ان کے جلسے میں مت جائیں، یہ واضح کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کچھ حد تک تو پریشان ہے۔

حال ہی میں، پشاور میں بشیر احمد بلور شہید کے بیٹے ہارون بلور کو بھی شہید کر دیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی سے نظریاتی اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بات میں تو کوئی شک سرے سے ہے ہی نہیں کے اے۔ این۔ پی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کی ہے۔ جس کی قیمت وہ وقتاً فوقتاًجانوں کا نذرانہ دے کر ادا کرتے رہتے ہیں۔ خدا ہارون بلور کے درجات بلند کرے۔ عوام کو اب ان دہشت گردوں کو پیغام دینا ضروری ہے کہ وہ 25 جولائی کو باہر نکلیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے ان دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیں۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.