لندن سے جیل تک کا سفر

1,385

احتساب عدالت نے دس ماہ کے مسلسل ٹرائل کے بعد سزا سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، ان کی بیٹی مریم صفدر اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں گناہ گار ٹھہرایا گیا اور بالترتیب دس، سات اور ایک سال قید بامشقت سزائیں سنائی گئیں۔ اسکے ساتھ ساتھ نواز شریف کو آٹھ ملین پاؤنڈ جبکہ مریم صفدر کو دو ملین پانڈ جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔ دونوں باپ بیٹی نے ٹیلی ویژن پر یہ سزا لندن کے اسی اپارٹمنٹ میں بیٹھ کے سنی جس کا کیس تھا جبکہ کیپٹن صفدر پاکستان میں ہی موجود تھے۔ انہیں نیب نے آٹھ جولائی کو راولپنڈی سے ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا۔ نواز شریف اور انکی بیٹی چونکہ پاکستان میں موجود نہیں لہٰذا انکی گرفتاری ممکن نہ ہوپائی۔

ایون فیلڈ کیس کے فیصلے کے بعد یہ بحث شروع ہوئی کہ میاں نواز شریف اور اسکی بیٹی وطن واپس آئیں گے یا نہیں؟ لیکن مخالفین کے تمام تر پروپیگنڈا نے اس وقت دم توڑ دیا جب نواز شریف نے تیرہ جولائی کو شام چھ بجے کے بعد لاہور اترنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد نیب اور پنجاب کی نگران حکومت حرکت میں آگئی ہے کہ سابق وزیراعظم اور اسکی بیٹی کو لاہور ائرپورٹ سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل راولپنڈی کیسے منتقل کیا جائے۔ اس سلسلہ میں افواہیں گردش میں ہیں کہ دونوں باپ بیٹی کو گرفتار کر کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔ یہ افواہ بھی گردش میں ہے کہ نواز شریف اور مریم کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے تاہم متعلقہ حکام اسکی تصدیق سے انکاری ہیں۔ ایک اور افواہ گردش میں ہے کہ لاہور کی انتظامیہ نے نواز شریف کی آمد کے موقع پر لوگوں کو اکٹھا ہونے سے روکنے کے لئے دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے (جو چار سے زائد لوگوں کے اکٹھا ہونے کی ممانعت کرتی ہے )کیونکہ مسلم لیگ ن کی سینئر لیڈر شپ اپنے رہنما کے پرتپاک استقبال کی بھر پور تیاریاں کر رہی ہے۔ لیکن یہ صرف افواہ ہے کیونکہ لاہور کی انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ نہیں کیا بلکہ پنجاب گورنمنٹ نے ایون فیلڈ کیس کا فیصلہ آنے سے قبل ہی 28 جون سے 28 مئی تک2018 کے انتخابات کے سلسلہ میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک کانفرنس میں میڈیا کے نمائندوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ تیرہ جولائی کو لاہور کے انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اپنے لیڈر کا شاندار اور تاریخی استقبال کیا جائے گا۔ جمعہ کے روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ باہر نکلیں گے اور مسلم ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کی سربراہی میں ایک ریلی کی شکل میں اپنے لیڈر کے استقبال کرنے ائرپورٹ جائیں گے۔ ن لیگ کے لئے یہ دن زندگی اور موت کا دن ہوگا۔ کیونکہ 13 جولائی کو نواز شریف کے لئے نکلنے والے لوگوں سے ہی معلوم ہوجائے گا کہ ن لیگ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں کیا کارکردگی دکھائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ اپنی پوری کوشش کرے گی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ باہر نکلیں۔

راولپنڈی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کے وقت جن لوگوں نے مزاحمت کی تھی ان کے خلاف بھی مقدمے کا اندراج ہوچکا ہے اور پچاس سے زائد لوگ گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔ ن لیگی لیڈرشپ کو یہ بھی ذہن میں رکھنا پڑے گا کہ اگر ان کا لیڈر لاہور میں اترتا ہے اور کسی طرح ائرپورٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اسکی گرفتاری کے دوران جو کوئی بھی مزاحمت پیدا کرے گا ظاہر ہے اس کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوگا۔ چونکہ چند دن بعد ہی الیکشن ہونے ہیں تو انکی گرفتاری انکے انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہوگی۔

ن لیگ کے لئے نت نئی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور اور اسکے مضافات میں بارہ جولائی سے پندرہ جولائی تک شدید بارشیں متوقع ہیں۔ لاہوریوں کو عام حالات میں نکالنا مشکل ہوتا ہے تو شدید بارشوں میں ان کو ریلی کے لئے نکالنا تو جان جوکھوں کا کام ہوگا۔ دوسری جانب پنجاب گورنمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ تیرہ جولائی کو نواز شریف کی آمد پر کسی قسم کے متوقع جلاؤ گھیراؤ یا انکی گرفتاری میں مزاحمت سے بچنے کے لئے لوگوں کو ائیرپورٹ تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے۔ اس سلسلہ میں راستوں کی بندش کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تین سو سے زائد چھوٹے اور بڑے کنٹینرز کا بندوبست کرلیا ہے۔ لہٰذا بارہ جولائی کی صبح سے ہی ائیرپورٹ کے تمام راستے عام پبلک کے لئے بند کر دیے جائیں گے۔

عام تاثر یہی ہے کہ نیب باقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے باآسانی نواز شریف اور مریم صفدر کو گرفتار کرکے بذریعہ ہیلی کاپٹر اڈیالہ جیل منتقل کر دے گی۔ دونوں باپ بیٹی کو احتساب عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا کیونکہ عدالت ان کو پہلے ہی مجرم قرار دے چکی ہے۔ لہٰذا گرفتاری کے بعد ان کو سیدھا اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔

برطانوی دور حکومت میں جیل میں قیدیوں کو تین اقسام کی سہولیات دی جاتی تھیں۔ اے، بی اور سی کلاس لیکن پنجاب کی جیلوں میں اب یہ قانون لاگو نہیں۔ اب اے بی اور سی کلاس کو “بہتر کلاس “اور “عام کلاس”سے بدل دیا گیا ہے۔ سابقہ وزیراعظم اور رکن قومی اسمبلی ہونے کی بدولت اگر میاں نوازشریف درخواست دیں تو اڈیالہ جیل میں انکو بہتر کلاس کیٹیگری مہیا کی جائے گی لیکن مریم نواز جو کہ رکن قومی اسمبلی تھی اور نہ ہی اسکے پاس کوئی اور سرکاری عہدہ تھا لہٰذا وہ بہتر کلاس کیٹیگری کی حق دار نہیں ٹھہرتی۔ تاہم مریم صفدر کو بھی اڈیالہ جیل میں ایک صورت میں بہتر کلاس کیٹیگری کی سہولیات مہیا کی جا سکتی ہیں اگر وہ متعلقہ حکام کو درخواست جمع کروائیں اور ساتھ میں ثبوت جمع کروائیں کہ انہوں نے کم از کم چھ لاکھ سالانہ انکم ٹیکس جمع کروایا ہے۔

مریم صفدر کے خاوند کیپٹن ریٹائرڈ صفدر جو کہ پہلے ہی گرفتار ہو کر اڈیالہ جیل منتقل کیے جا چکے ہیں اگر وہ درخواست دیں تو انکو بہتر کلاس کیٹیگری کی سہولیات دی جائیں گی۔ اسکی تین وجوہات ہیں۔ اول کیپٹن صفدر سابقہ گزیٹڈ آرمی افسرہے۔ دوم، آرمی سے سول سروس میں آنے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر تعینات رہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کیپٹن صفدر سابقہ رکن قومی اسمبلی بھی ہے۔ جیل میں قیدیوں کو بہترین کلاس کیٹیگری میں محدود قسم کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں جن میں کتابیں، اخبارات، 21 انچ ٹیلی ویژن، میز، کرسی، بیڈ، گدا، کپڑے اور اچھا کھانا شامل ہیں۔

Endeavoring writer, poet, blogger and columnist

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.