ہندوستان اور ایران کے درمیان بہار اجڑ گئی؟ 

3,253

گذشتہ مئی میں امریکا نے ہندوستان کو حکم دیا تھا کہ وہ ایران سے تیل کی در آمد بند کر دے ورنہ اسے سخت اقتصادی تادیبی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا کے اس حکم کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر ہندوستان نے ایران سے تیل کی درآمد میں سولہ فی صد کمی کردی ہے۔ مئی میں ہندوستان، ایران سے سات لاکھ باون ہزار بیرل یومیہ تیل در آمد کر رہاتھا۔ جون میں ایران سے تیل کی درآمد پانچ لاکھ بانوے ہزار بیرل یومیہ تک کم ہوگئی۔

ہندوستان کے اس قدم پر ایران نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ دہلی میں ایران کے نائب سفیر مسعود رضوانیاں راھگی نے ہندوستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر ہندوستان نے ایران سے تیل کی در آمد میں تخفیف کی تو ہندوستان، بندر گاہ چہا بہار کے سلسلہ میں خاص مراعات سے محروم ہو جائے گا۔ ایران کے نائب سفیر نے شکایت کی ہے کہ ہندوستان نے ایرانی بندر گاہ چہا بہار کی توسیع میں سرمایہ کاری کے بارے میں اپنے پیمان پر عمل درآمد سے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔

خلیج عُمان میں،پاکستان کی بندرگاہ گوادر کے بغل میں ایرانی بندرگاہ، چہا بہار، ایران، افغانستان اور وسط ایشیاء کے ملکوں سے تجارت کا سنہری دروازہ کہلاتی ہے۔ پچھلے برس، ایران نے اگلے ایک سال کے لئے بندرگاہ چہابہار کا مکمل انتظام ہندوستان کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایران، ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی معاہدہ کے تحت بندرگاہ میں اکیس ارب ڈالر کی لاگت سے توسیع کا منصوبہ منظور ہوا تھا جس میں ہندوستان نے ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا اس کے علاوہ ہندوستان نے چہا بہار سے افغانستان تک ریلوے لائین کی تعمیر کے لئے دو ارب ڈالر کا سرمایہ لگانے کا بھی پیمان کیا تھا۔

ہندوستان کا اس بندرگاہ سے وابستہ سب سے بڑا مفاد یہ تھا کہ ہندوستان اپنا تجارتی سامان، اس بندرگاہ کے ذریعہ براہ راست افغانستان اور وسط ایشیاء پہنچاسکے گا اور اس کے لئے اسے پاکستان کے راستہ پر دارومدار نہیں کرنا پڑے گا۔ پھر اس بندرگاہ کے راستے ہندوستان اپنا سامان افغانستان اور ایران، ایک تہائیِ خرچ اورایک تہائی وقت میں پہنچا سکے گا۔

چہا بہار بندرگاہ کی دفاعی اہمیت بھی کم نہیں۔ اس بندرگاہ سے ہندوستان کو گوادر پر اور اس علاقہ میں چین کے بحری بیڑے کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ امریکا کے لئے بھی چہا بہار بندرگاہ، افغانستان میں اس کے مفادات اور حکمت عملی کے لئے بے حد اہمیت کی حامل ہے اسی لئے گذشہ سال امریکا نے یقین دلایا تھا کہ وہ اس بندرگاہ کے منصوبہ میں ہندوستان کی شمولیت میں رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا۔

لیکن گذشتہ مئی میں ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ سے علیحدگی اور ایران کے خلاف ہمہ گیر تادیبی اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے فیصلہ نے چہا بہار کی بندرگاہ کے بارے میں ہندوستان کے تعاون کا مستقبل تلپٹ کردیا ہے۔ امریکا نے ہندوستان کو حکم دیا ہے کہ و ہ ۴ نومبر تک ایران سے تیل کی درآمد یکسر بند کردے اور اس کی جگہ وہ سعودی عرب، عراق اور امریکا سے تیل درآمد کرے۔

تیل کی روز افزوں درآمد کے علاوہ سیاسی میدان میں بھی 1990سے ہندوستان کے ایران کے ساتھ نہایت قریبی رشتے استوار رہے ہیں، گذشتہ دو دہائیوں سے ہندوستان اور ایران دونوں نے افغانستان میں طالبان کے خلاف، شمالی اتحاد کی حمایت کی ہے اور افغان صدر اشرف غنی کی حکومت سے قریبی تعاون کیا ہے، 2002میں ہندوستان نے ایران کے ساتھ اہم دفاعی تعاون کے معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔ اسی کے ساتھ گذشتہ چند دہائیوں میں ہندوستان کے ساتھ ایران کی تجارت ۳۰ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ۴ نومبر کے بعد کیا صورت حال ہوگی جبکہ امریکا کے حکم کے تحت ہندوستان کو ایران سے تیل کی در آمد یکسر بند کر دینی پڑے گی، کیا ہندوستان، امریکا کا حکم ٹھکرانے اور ایران سے تیل کی درآمد جاری رکھنے کا متحمل ہو سکتا ہے؟خطرہ یہ نظر آتا ہے کہ کہیں ہندوستان اور ایران کے درمیان گلگشتِ بہاراں نہ اجڑ جائے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.