آم کے آم گٹھلیوں کے دام!

1,431

ایک MNA یا MPA الیکشن لڑنے اور جیتنے کے لیے لاکھوں سے لیکر کروڑوں روپے تک خرچ کرتا ہے اور اگر وہ کسی مقبول سیاسی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرلے تو اسے پارٹی فنڈ کے نام پر بھی لاکھوں سے کروڑوں روپے (جس حلقے سے الیکشن لڑنا چاہے اس کے اعتبار سے فنڈز کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں) دینے پڑتے ہیں۔ اتنا پیسا لگا کر بھلا کون پاگل ہے جو اپنے لگائے ہوئے کروڑوں روپے بھول کر عوام کا خادم بنے اور محض چند لاکھ روپے (جو تنخواہ اور الائونسز وغیرہ کی مد میں ہوتے ہیں) پر گزارہ کرے۔ کیا یہ ممکن ہے؟

ہیر پھیر، خرد برد، بدعنوانی اور رشوت ستانی کے بغیر وہ شخص اگلا الیکشن تو کیا لڑے گا بلکہ خرچ شدہ رقم بھی پوری نہیں کر پائے گا۔ وہ تو یقیناً اپنے لگائے گئے پیسے کو ڈبل، ٹرپل کرنے کی کوشش میں رہے گا یا کم از کم جتنا پیسا لگایا ہے اتنا اپنا پیدائشی حق سمجھ کر وصول کرے گا۔ کیوں کہ اگلا الیکشن بھی تو لڑنا ہے۔

یہ ہے ہمارا نظام۔۔۔ یہ نام نہاد جمہوریت ہے، یہ نظام ہی ایسا ہے کہ آپ کرپشن نہیں کر سکتے تو الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ کوئی کروڑوں روپے لگا کر عوام کا خادم بن جائے اور اپنا پیسا بھول جائے کیا یہ ممکن ہے؟

دعوتِ فکر امر یہ ہے کہ یہ جو نگران حکومت ہے اس کے سارے لوگ ماشاء اللہ پڑھے لکھے، لائق و قابل اور تجربہ کار ہیں۔ یہ حکومت عوامی الیکشن کے ذریعے نہیں بنی نہ ہی اس حکومت کے بننے میں اربوں روپے اور وقت ضائع ہوا۔۔۔ پھر بھی حکومت کا نظام چل رہا ہے۔ عدلیہ کا نظام بھی عوامی الیکشن کے بغیر چل رہا ہے۔ آرمی کا نظام بھی عوامی الیکشن کے بغیر چل رہا ہے بلکہ بہت منظم اور بہتر طریقے سے چل رہا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا کوئی بھی ذی شعور شخص انکار نہیں کر سکتا تو کیا ضرورت پڑی ہے کہ عوامی الیکشن میں اربوں لگا کر پارٹیاں اقتدار میں آئیں اور اپنے اربوں کو کھربوں میں بدلیں؟ اس نظام کے تحت کیسے ممکن ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو؟ یہ خاتمہ کون کرے گا اور کیوں؟ کیسے ممکن ہے جو اربوں لگا کر اقتدار میں آئیں وہ اپنے اربوں روپیوں کو بھول جائیں اور صرف ملک کی خدمت کریں؟ قارئین محترم! یہ لوگ آم کے آم گٹھلیوں کے دام وصول کرتے ہیں۔

نظام بدلو!!! پاکستان بدلو!!!

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Mohsin Ali کہتے ہیں

    Well Said Mr. Zaheer uddin

  2. عبدالحسیب کہتے ہیں

    ظہیرالدین بابر صاحب بہت اچھی ‏100% حقیقت پر مبنی آپکی بہترین تحریر ھے.
    >لیکن کیا کریں عوام کا.؟
    ‏>کہ عقلمندکےلیےاشارہ کافی ھوتا ھے،
    جبکہ.!
    ‏>گدھےکےلیے’ڈنڈا’.
    ‏>اب فیصلہ عوام نےکرناھے کہ انھیں
    ‏’اشارے’کاٹائٹل اچھالگتاھے. یاکہ ‘ڈنڈے’ والا خطاب زیادہ پسندھے.؟

تبصرے بند ہیں.