سیف سٹی پراجیکٹ

984

عوام کی جان ومال کا تحفظ حکومتی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ اس اثناء میں جہاں سکیورٹی کے پیشِ نظر مختلف  اقدامات کیے جاتے ہیں وہیں ایسے قوانین اور پراجیکٹس بھی لگائے جاتے ہیں جو آنے والے وقت میں ملک و قوم کو کسی بھی بڑی مشکل سے بچنے میں مددگار ثابت ہوسکیں۔ پاکستان کو ہر دور میں مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ اس حوالے سے ہر دورِ حکومت میں نئے سے نئے پراجیکٹس اور قوانین متعارف کروائے جاتے رہے ہیں لیکن پھر بھی مزید کچھ کرنے کی گنجائش ہمیشہ باقی رہی ہے۔

پاکستان کے باقی صوبوں کی طرح صوبہ پنجاب میں بڑھتے ہوئے جرائم کے سدباب کے لیے سابق حکومت پنجاب نے چھ اضلاع میں پنجاب سیف سٹیز پراجیکٹس شروع کئے۔ ان سیف سٹیز پراجیکٹس کا مقصد شہروں میں  کیمرے نصب کرکے سکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانا ہے۔ سیف سٹی پراجیکٹ کے بنیادی اصولوں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ پراجیکٹ عوام کے لیے کتنا زیادہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

لاہور سیف سٹی پراجیکٹ چار بنیادی نقاط، سکیورٹی کیمرہ، کیوئک رسپانس فورسز، فائر بریگیڈ، پولیس مدد 15 ہیلپ لائن پر مشتمل ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت سکیورٹی کیمرے پورے شہرمیں نصب کر دئیے گئے ہیں جس کے ذریعے پورے شہرکو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ شہر کو کیمروں کی مدد سے مانیٹر کرنے کا مقصد شہر میں ہونے والے جرائم، احتجاج، ریلیوں، ٹریفک کی صورتحال یا کسی بھی ناخوشگوار حالات پر جلد سے جلد قابو پانا ہے۔

دورِ جدید میں سیف سٹی منصوبوں ہی جرائم کی روک تھام میں ممکن ہوسکتی ہے کیونکہ اب عوام بہت حد تک الیکٹرانک چیزوں کے استعمال کی عادی ہوچکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ افراد نے بھی الیکٹرانک طریقہ واردات اختیار کرلیے ہیں۔ مثلاً جیب کترے کو جیب سے پیسوں سے زیادہ اے ٹی ایم کارڈز یا موبائل فون ہی ملتے ہیں جو بیشتر کیسز میں اس کے لیے بیکار ثابت ہوتے ہیں۔ پیسے چوری کرنے کے لیے گھروں پر ڈاکہ ڈالنے سے زیادہ اے ٹی ایم مشینوں کے ساتھ دو نمبری کی جاتی ہے۔

کاروباری افراد آن لائن ٹرانزکیشن کو استعمال کرتے ہوئے محفوظ طریقے سے پیسے کی منتقلی کر لیتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ پن کوڈ کی چوری جیسا کام بھی پڑھے لکھے آئی ٹی ایکسپرٹ کے بغیر ممکن نہیں رہا۔ بنک ڈکیتی یا شاپنگ مال پر ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج مل جاتی ہے جس میں پکڑے جانے کا خطرہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ قصہ مختصر جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جرائم کے لیے طریقہ وارادات تو جدید ہوگئے ہیں مگر جدید طریقہ واردات غیر محفوظ ثابت ہوتا ہے۔ اسی نقطہ کو مدنظر رکھتے ہوئے سیف سٹی جیسے اداروں کا قائم عمل میں لیا گیا ہے جن کے ذریعے جرائم کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں سب سے پہلے اسلام آباد میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیا گیا۔ اسلام آباد پولیس نے سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر بھر میں 2 ہزار کیمرے نصب کیے۔ اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کے بعد لاہور سیف سٹی پراجیکٹ کی شروعات ہوئی۔ اس پراجیکٹ کو لگانے کے لیے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی قیام میں لائی گئی ہے جس کے تحت لاہور شہر میں 8 ہزار کیمروں کی تنصیب مکمل کی گئی ہے۔ سیف سٹیز اتھارٹی کے تحت ایک اینٹی گریٹڈ کمانڈ کنٹرول اینڈ کمیونیکشن سنٹر قائم کیا گیا ہے جو پولیس ہیلپ لائن 15، ریسکیور1122، فائربریگیڈ اور ٹریفک پولیس کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے۔ ان تمام ہیلپ لائنز کو 15 پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں 15 پر کال کرنے سے ان تمام اداروں کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے.

مصنف ایک نجی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. صغیر سانول کہتے ہیں

    پنجاب پولیس میں اپنی نوعیت کا یہ مختلف اور اچھوتا پراجیکٹ ہے یقینا اس سے جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوگی بالخصوص سٹریٹ کرائم پر قابو پایا جاسکے گا لیکن افسوس درافسوس پولیس حکام کی جانب سے اس بہترین پراجیکٹ میں بھی کرپشن پائی گئی جس کے نتیجہ میں نیب کی جانب سے ایکشن ہونے پر لاہور سمیت مختلف شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹ پر کام رک گیا اور فیصل آباد میں زیر تکمیل پراجیکٹ فنڈز کی کمی کے باعث تعطل کا شکار ہوا ہے جس کا تعمیراتی کام رک چکا ہے اور ملبہ ضائع ہورہا ہے کھنڈر نما عمارٹ اپنی زبوں حالی پر نوح کناں ہے ۔

    1. حافظ طیب ستار کہتے ہیں

      سر اس پراجیکٹ میں ابھی تک کوئی کرپشن کا الزام تک نہیں لگا اور کوئی نیب میں کیس بھی نہیں چل رہا فیصل آباد والا پراجیکٹ جاری ہے پہلی ترجیح لاہور والا پراجیکٹ تھا باقی اضلاع میں بھی پراجیکٹ لگانے کا کام جاری ہے اس نوعیت کی پراجیکٹ ٹیکنیکلی پیچیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں وقت درکار ہوتا ہے ۔

تبصرے بند ہیں.