کیا مرد واقعی نہیں روتا؟

795

ہمارے معاشرے میں جب لڑکے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی سماعت میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ تم ایک مرد ہو۔۔۔۔ مضبوط مرد جو روتے نہیں ہیں۔ گھر کا چراغ مان کر اس کو لاڈ و پیار سے پالا جاتا ہے۔ جب وہ سکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہے تو معاشرے کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجنے لگتی ہیں کہ تم مرد ہو اور مرد روتے نہیں ہیں۔

جب وہ شادی کے قابل ہوتا ہے تو اس کے لیے ایسی لڑکی ڈھونڈی جاتی ہے جو چاند صورت ہو اور سلیقے میں اصغری کو بھی مات دے جائے۔ ایسی لڑکی جو اس کے گھر کو بھی سنبھالے اور اس کے ماں باپ کا بھی خیال رکھے۔ کفایت شعار بھی ہو اور سب سے پیار بھی کرے۔ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہمارے بیٹے کا خیال رکھنے والی بھی ہو۔ اس کا سہارا بننے والی ہو۔ مشکل وقت میں اسے حوصلہ دینے والی ہو۔ کیا لڑکے کو ضرورت نہیں ہوتی کہ اس کا کوئی مخلص ساتھی ہو جو اس کا سچے دل سے خیال رکھے۔

مہینے کے آخری دس دنوں میں جب لڑکا خالی جیب کے ساتھ گھر واپس آتا ہے تو ماں پوچھتی ہے “بیٹا آج پھر میری دوائی لانا بھول گئے۔” بیوی کہتی ہے “آج پھر آلو نہیں لائے۔ آٹا بھی ختم ہے۔” بیٹا کہتا ہے “پاپا مجھے آج پھر ٹیچر سے نوٹ بک نہ لانے پر ڈانٹ پڑی ہے۔” ننھی گڑیا کہتی ہے۔ “پاپا آپ کو پتا بھی ہے کہ مجھے آئس کریم بہت پسند ہے۔ آپ پھر نہیں لائے۔”

ایسے حالات میں یہ مضبوط سہارا چپ کر کے پانی کا ایک گھونٹ اپنے حلق سے نیچے اتارتا ہے اور باہر نکل جاتا ہے۔ وہ اپنا درد اور تکلیف کس سے بانٹے۔ وہ کس سے اپنی مشکلات کا ذکر کرے۔

ہمارے اس معاشرے میں لڑکے کے سب جذبات کچل کر اسے مضبوط سہارا بننے کو کہا جاتا ہے۔ یہ سمجھے بغیر کہ وہ بھی انسان ہے اور انسانوں کو اس دنیا میں مشکلات پیش آتی ہی ہیں۔ اس کے برعکس اس سے توقع کی جاتی ہے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے چاہئیے۔ یہاں تک کہ ماں کی موت پر بھی اسے مضبوط نظر آنا ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں سے نکلنے والا ایک آنسو بھی اسے کمزور ظاہر کر سکتا ہے۔ مرد اور کمزور؟ ہو ہی نہیں سکتا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. Abdullah کہتے ہیں

    Mardon ki hamdardi haasil karney k liey THE BEST TRY I EVER READ !!!!
    WEL DONE !!!

  2. سلمان جاوید بھٹی کہتے ہیں

    کیا ہی خوب انداز سےحقیقت کو الفاظ سےبیان کیاہے

  3. afzal کہتے ہیں

    great bohat achy g
    such hy par karwa hy

تبصرے بند ہیں.