الیکشن مارکیٹ اور سیاسی دکانیں

906

2018 کے الیکشن کی مارکیٹ سج گئی ہے۔ ساری سیاسی جماعتوں نے اپنے سودے دکانوں پر سجا دیے ہیں۔ سب سے پہلی اور مشہور دکان ن لیگ کی ہے۔ وجہ شہرت بیرونی سودا ہے۔ انکے پاس امپورٹڈ سامان ہے جو کے پانامہ سے امپورٹ کیا گیا ہے۔ مال میں نقص نکل آیا ہے پر گھاگ سوداگر تو وہی ہے جو گاہکوں کو چونا لگا کر خراب مال بھی نکال دے۔ اس دکان پر یہی کوشش جاری ہے۔

ان کے سٹال پر بیرونِ ملک موجود جائیداد پڑی ہے جس کے اوپر انہوں نے ایک خاکی چادر ڈال کر اسے چھپانے کی کوشش کی ہے۔ اسکے ساتھ ہی میٹرو بس پڑی ہے جس سے شہر کی ایک فیصد آبادی مستفید ہوتی ہے اور ننانوے فیصد اسی میٹرو بس کے پل کے نیچے ٹریفک میں پھنسی ہوتی ہے ۔ اس بس پر بھی اربوں کی کرپشن کے الزامات ہیں, پر اس پر ایک بورڈ لگا ہے جس پر تحریر ہے, کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔

دکان کا سودا بڑے زور و شور سے بک رہا تھا، پر شو مئی قسمت کے بارش ہو گئی اور سٹال پر پڑی سڑکوں میں اتنے بڑے بڑے سوراخ پڑگئے جنہیں خاکی چادر بھی نہ بھر سکی۔ چناچہ دوکان کے ایک سیلز مین نے عوام کی چھترول سے بچنے کے لیے مذھب کی آڑ لی اور اپنی بدعنوانی پر ناموسِ رسالت کی چھتری تان لی اور جناب مذھب تو وہ سودا ہے جو خوب بکتا ہے اور الیکشن میں صرف مذہبی ہی نہیں لبرل جماعتیں بھی اسے کیش کرواتی ہیں۔ اس دکان پر انقلاب بیچنے کی تیاری بھی ہو رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ گندا پانی پی کر، بجلی کی ستائی، مہنگائی کی ماری قوم اس مصنوعی انقلاب کا سودا خریدتی بھی ہے یا نہیں۔

دوسری دکان پی ٹی آئی کی ہے۔ انکی دکان پرتبدیلی کے وعدے پڑے ہیں۔ یہ سودا بھی بڑا خوش نما ہے خصوصاً نوجوانوں کے لیے جو اپنے اور اپنے ملک کے لیے اچھے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، عزتِ نفس چاہتے ہیں اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ بھی۔ انکے پیش نظر یکساں تعلیمی نظام اور روزگار کےمواقع ہیں۔ اور یہ سارے خواب پی ٹی آئی بیچ رہی ہے۔ انکی دکان پر بلین ٹری سونامی رکھا ہے جو عام عوام کے لیے کوئی خاص کشش نہیں رکھتا کیوں کے گاہکوں کو ماحولیات کی اہمیت کا اندازہ نہیں کہ درخت کس طرح درجہ حرارت کو کنٹرول کر کے سیلابوں کی روک تھام کرتے ہیں۔ کچھ چھوٹے موٹے پانی کے ڈیم بھی رکھے ہیں۔ صحت کارڈ بھی پڑا ہے پر تبدیلی کے وعدے اس دکان کا سب سے بڑا سودا ہیں۔ اس دکان نے بھی اپنی دکان چلانے کے لیے مذھب کی چھتری کھول رکھی ہے اور مختلف پیروں سے رابطے میں بھی ہے۔ اس مرتبہ دکان کا سودا بیچنے کے لیے پرانے سوداگروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اسی لیے انہوں نے مارکیٹ کی ہر دکان سے سیلز مین اٹھا لیے ہیں۔ دیکھیں اب یہ تجربہ کار سیلز مین پی ٹی آئی کا سودا بیچنے کے عوض کیا لیتے ہیں ؟

تیسری دکان پیپلز پارٹی کی ہے۔ اس دوکان میں قبریں ہیں، بھٹو ہے، بینظر ہے، بلاول ہے، اور بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ ہے۔ یہ سودا جیالوں کے لیے کافی ہے۔ انہیں نہ ترقی چاہئیے نا پانی نہ بجلی۔ تھر میں خوراک کا قحط بھی پڑ گیا، پر ان لوگوں کی بے نظیر سے محبت اتنی شدید ہے کہ وہ اپنے بھوکے بچے بھی بے نظیر پر قربان کر دیں۔ محبت تو اندھی اور بے غرض ہوتی ہے اسی لیے انہیں پیپلز پارٹی سے کوئی غرض نہیں نہ پانی کی اور نہ بجلی کی۔ نہ اس اندھے عشق کو صحت کی سہولیات چاہئیے نہ ہی تعلیم اور روزگار۔ چناچہ انہوں نے اپنی دکان پر ایسا کوئی منصوبہ رکھنے کی زحمت نہیں کی۔ یہاں “آج بھی بھٹو زندہ ہے” کا نعرہ بک رہا ہے۔

ایم کیو ایم کی دکان اب چھوٹی چھوٹی دکانوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ یہاں بھی جیے مہاجر کا نعرہ بک رہا ہے۔ چونکہ مہاجر زیادہ تر پڑھی لکھی قوم ہے اس لیے شہر کی اس دگر گوں حالت پرمہاجروں کو مطمعن کرنے کے لیے اختیارات نہ ہونے کی دہائی بھی بیچی جا رہی ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ شہر میں موجود کچرے، پانی اور بجلی کے بحران نے جیے مہاجر کے نعرے کی بکری کم کر دی اور لوگوں نے تبدیلی کے خواب خریدنے شروع کر دیے ہیں۔ ایم کیو ایم کو پہلے اپنی چھوٹی چھوٹی دکانوں کو یکجا کرنا ہوگا تب ہی انکی دکان کا سودا بکے گا۔

اس الیکشن کے بازار میں ایم ایم اے نے بھی ایک بڑی دکان سجائی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے سٹال جو دوسری دکانوں کا حصہ تھے اب مل کر ایک بڑی دوکان بن گئے ہیں۔ ان کا سودا پچھلی مرتبہ افغان دفاع تھا۔ امریکہ کی مخالفت بھی خوب بکی تھی۔ اس مرتبہ یہ ناموسِ رسالت کا نعرہ بیچیں گے اور انہی حکومتوں کے خلاف بیچیں گے جن سے پورے پانچ سال یہ مراعات لیتے رہے ہیں۔ جب یہ ترمیمات ہو رہی تھیں تب یہ سو رہے تھے۔ ان کا سودا ہے منافقت۔ مذہب کے نام پر ہر چیز بکتی ہے بلکہ بہت زیادہ بکتی ہے ممکنہ طور پر یہ سب سے زیادہ بکنے والا سودا ہو۔

ایک مذہبی سٹال اور ہے جو سب سے زیادہ منفرد ہے۔ سودا تو انکا بھی وہی ہے جو اور مذہبی جماعتوں کا ہے پر انکی تو شان ہی نرالی ہے۔ انہیں جو سیکورٹی دی جاتی ہے گماں ہوتا ہے جیسے یہ پاکستان کا ایٹمی اثاثہ ہوں، پر یہ اپنی ذات میں ایٹم بم ہی ہیں۔ ان کے منہ سے جو تابکاری شعاعیں نکلتی ہیں ان کے اثرات اچھے اچھوں کے منہ بند کروا دیتے ہیں۔ انکی دکان پر پڑی ہے پین دی سری اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کمال کی بات ہے اس سودے کے بھی بڑے خریدار ہیں۔

دیکھتے ہیں عوام اب کی بار اس بازار سے اپنے لیے سہولتیں خریدتی ہے یا پریشانیاں۔ میں صرف اتنا ہی کہونگی جو سودا خریدیں سوچ سمجھ کر خریدیں۔ اپنے لیے خریدیں نہ کہ دکان دار کے لیے۔ اس کا تو کام ہی مال بیچنا اور دام کمانا ہے۔ آپ کی آج کی سمجھداری نہ صرف آپکے بچوں کا مستقبل محفوظ کرے گی بلکہ پاکستان کا بھی۔

فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. عبدالحسیب کہتے ہیں

    ماشاءاللہ صائمہ صاحبہ کا کالم بلکل ‏100% سچائی پر مبنی ھے. سب دکانداروں نے گلا سڑا ہوا اور بوسیدہ مال رکھا ھوا ھے.
    اس لیے بہترھےکہ کسی بھی دکان سے کوئی سودا نہ لیاجائے.

  2. بلاگر کہتے ہیں

    تحریر کے پہلے پیراگراف سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ لکھنے والا غیر جانب دار نہیں بلکہ اسکا جھکاو پی ٹی آئی کی طرف ہے،۔ اس لیے آگے پرھنے کا دل نہیں چاہا ایک لکھاری کو اپنے قلم سے غیر جانبدار ہو کر صرف سچ لکھنا چاہیے

تبصرے بند ہیں.