کچھ کر کے کمال کریں

500

کافی پرانا اور زبان زدِ عام شعر ہے،

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہرنے پہنے ہوئے ہیں دستانے

لگتا ہے شعر لکھنے والا نیم بے ہوشی یا فُل ٹُن ہوکر کسی بڑے ہسپتال میں گیا اور آپریشن تھیڑوں سے گزرتے ہوئے اس نے یہ شعر لکھا یا پھر وہ خود ڈاکٹر ہوگا۔ ویسے آجکل کے ڈاکو بھی انگلیوں کے نشان نہ لگنے دینے کی وجہ سے دستانے پہنتے ہیں۔ ڈاکٹر تو پہلے بھی پہنتے ہی تھے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے ہمارے ہسپتالوں کا معائنہ کیا ہو یا اخبارات کا جرائم والا صفحہ پڑھا ہوگا۔ جہاں پر ڈاکٹروں اور ڈاکوؤں کی خبریں ایک ساتھ شائع ہوتی ہیں۔

بعد از تمہید عرض یہ ہے کہ ڈاکوؤں اور ڈاکٹروں کا ذکر تو ضمناً آگیا۔ اصل بات تو ہم نے اپنے دوستوں کی کرنی تھی۔ ہمارے دوست بھی ہمارے ملکی خزانے جیسے ہیں جس کو جب بھی ’’پھرولو ‘‘ خالی ہی نکلتا ہے۔ ان دوستوں سے اچھے تو وہ دشمن ہیں جو بیرونی قرضے کی طرح بڑھتے جا رہے ہیں اور ہماری جان بھی نہیں چھوڑرہے۔

در بدرکاسہ لئے پھرتے ہیں۔
خزانہ خالی لئے پھرتے ہیں
ایسی حالت میں ڈھونڈتے ہیں دوست۔
عجیب سا یہ واہمہ لئے پھرتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ خزاں میں درختوں کے پتے اس لئے سوکھ کر گر جاتے ہیں کہ اب اس درخت کا تنا اُنہیں کھِلا نہیں سکتا۔ جب اُس کا خزانہ خالی ہوتا ہے توپتے آخری وقت تک تنے کا رس چوستے رہتے ہیں جب تک وہ خود نیم بے ہوش نہ ہو جائے یعنی ڈارمنٹ!

اس مثال سے ہم اپنا موازنہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کے تھانے دار کا موازنہ کرنے کی سعی کرتے ہیں توہمیں یہ بات عیاں نظر آتی ہے کہ اس تنے سے جو پتے چمٹے ہوئے ہیں وہ اُس کے نیم بے ہوش ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ خزاں تو اُس پر آچکی ہے۔ اور کیسا قانونِ قدرت ہے کہ اس دنیا میں اس زمین پر ہر طرف موسم ایک سا نہیں رہتا۔ ایک قطب پر خزاں چھاتی ہے تو دوسرے پر بہار آتی ہے۔ اِدھر گرمی ہے تو اُدھر سردی ہے۔ اب بہار مشرق پر آرہی ہے۔

ہمسائے کی بات یعنی اپنے ’’ازلی دشمن‘‘ کی بات کرتے ہیں۔ ویسے ہمارے بہت سے سابقہ حکمرانوں نے تو پوری پوری نبھائی۔ ایک نمبر طریقے سے یعنی بظاہر بھی اور زیادہ دو نمبر (ٹریک ٹو ڈئیویسی) اور جس دوستی کی بنیاد دو نمبر پر ہو اُس کا انجام بھی وزیرستان اور تاج ہوٹل بمبئی کے حالات جیسا ہوتا ہے۔ بیانگ دہل دوستی ہو جسے ہر کوئی دیکھے تو سی پیک جیسے منصوبے جنم لیتے ہیں جو اغیار کی آنکھ میں رڑکتے بھی ہیں اور گلے کی پھانس بھی بن جاتے ہیں۔ ہمارا ہمسایہ تو ویسے بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس کا کردار ہی یہی ہے کہ ؂بغل میں چُھری منہ میں رام رام۔ مگر ہم چُھری کو اُس وقت دیکھتے ہیں جب وہ دستانے والے ہاتھ میں آجاتی ہے اور ہمارا کوئی حِصہ زخمی کر ڈالتی ہے یا ہم سے الگ کر جاتی ہے۔

پتہ تو خزاں کی بدولت خوراک نہ ملنے کے خوف سے گر جاتا ہے مگر جس کے پاس چُھری ہوتی ہے وہ شاخیں کاٹ لیتے ہیں اور مسواک سے لے کر بیڈ تک بنا لیتے ہیں۔ وہ نیم خوابیدگی یا نیم بے ہوشی کا فائدہ اُٹھاتے ہیں اور جب تنے کو ہوش آتا ہے تو وہ پتے پتے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ اُسے سایہ بھی میسر نہیں آتا اور سانس بھی دشوار ہو جاتی ہے۔ قسمت اچھی ہو تو بچ جاتا ہے۔ اپنی محنت سے پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ آج ہمارا بھی یہی حال ہے۔ دشمن نے ہمیں چاروں طرف سے ان پتوں کی طرح گھیر لیا ہے جو خزاں میں تنے کا رس چوستے ہیں۔ ہمارے لئے آبی وسائل ناپید کرنے کی گھنائونی سازش پر عمل کر چکا ہے۔ آج ہم نے اپنی محنت سے اگر اپنے تنے کو زندہ نہ کیا تو پھر آئندہ بہار کی امید رکھنا دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہو گا۔ یہ سیاسی جھوٹی پارٹیاں جو سب کی سب لوٹوں پر مشتمل ہیں اور وہی چہرے کبھی ایک طرف لڑکھ رہے ہیں اور کبھی دوسری طرف انہیں صرف حکمرانی سے سروکار ہے۔ سب کی دلچسپی صرف حکومت حاصل کرنے میں ہے۔ اب ہم عوام حکومت اس تنے کے سپرد کریں جو ہمیں پانی جیسی نعمت سے مالا مال کرے نہ کہ ہماری آنکھوں کے آنسو بھی خشک کر کے چلتا بنے۔

اکرم ثاقب اردو انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ کئی ایک ناول، بھی لکھ چکے ہیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں میں گہری بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈرامہ نگاری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. Nasir کہتے ہیں

    good

  2. عبدالحسیب کہتے ہیں

    یہ سب سیاسی گندے انڈے ھیں.

تبصرے بند ہیں.