عرضِ سائل اور غرضِ تحریر

340

الیکشن دو ہفتوں کی دوری پر ہیں۔ سوشل میڈیا، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا متحرک عوام میں مزید جوش و جذبہ پیدا کر رہے ہیں۔ ہر طرف تبدیلی کی پکار اور نئے وعدوں کی گونج ہے۔ اس جوش اور جذبے میں جیالے، متوالے اور رکھوالے اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ اخلاقیات کے اصولوں کی دھجیاں اڑ گئی ہیں۔

ہر گھر میں بھی ایک انتخابی میدان ہے جس میں بزرگ اور نوجوان نسل مدِ مقابل ہیں۔ باپ بیٹا مخالف، بھائی بھائی کا دشمن، ماں بیٹی میں جھگڑا، دوست دوست سے گریزاں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ الیکشن جنگِ بدر کا سماں پیدا کرے گا جس میں خون خون کا دشمن تھا مگر وہ اسلام اور کفر کی جنگ تھی جس میں مسلمان اور کافر مد مقابل تھے۔ مگر خدارا یہ مت بھولیں کہ یہاں سب مسلمان ہیں۔

مسلمان جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ مسلمان کی جان، مال اور عزت ایک دوسرے پر حرام ہے۔

ووٹ دینا آپ کا حق ہے۔ تبدیلی کو دیں، تعمیر و ترقی کے وعدوں پر اعتماد کریں، نون، جنون، بی بی کے خون یا کسی اور جماعت کا انتخاب کریں مگر خدارا اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ گالی نہ دیں، یہ شریفوں کا شیوہ نہیں۔

جھوٹے الزامات مت لگائیں۔ آنکھوں سے نہیں دیکھا تو کسی کے کردار پہ بات نہ کریں۔ تہمت لگانا گناہ ہے۔ یہ کبھی نہ بھولیں کہ روز قیامت ہر ایک کو اپنی زبان سے نکلے ہر لفظ، اپنے کیے ہر عمل کا حساب خود دینا ہوگا۔ عمران، نواز اور بلاول میں سے کوئی آپ کا دفاع کرنے کو نہیں آئے گا جیسے آج آپ ان کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

عرضِ سائل اور غرضِ تحریر بس یہی ہے کہ حمایت یا مخالفت دونوں صورتوں میں تہذیب، اخلاقیات، اسلام کے اصولوں اور ہادی اعظم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو مد نظر رکھیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. عبدالحسیب کہتے ہیں

    آپ نےبہت اعلی بات کی ھے لیکن عوام میں اتنا شعور نہیں ھے. ھوش کی بجائے جوش سےکام لیتےھیں.

تبصرے بند ہیں.