پاکستانی فٹ بال کی جنگ

613

پانچ بار فیفا ورلڈ کپ جیتنے والی چیمپئن ٹیم برازیل اب ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی ہے۔ 1986 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ برازیل سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکا۔

فیفا ورلڈ کپ 2018 کے دوسرے کوارٹر فائنل میں بیلجیئم نے برازیل کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہرا کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ سیمی فائنل میں بیلجیئم کا مقابلہ فرانس سے ہو گا۔ اس سے قبل پہلے کوارٹر فائنل میں فرانس نے یوراگوئے کو دو صفر سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔

world-cup-quarter-final-brazil-vs-belgium_575ef466-815b-11e8-9920-75f90a7836bc

پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو فٹ بال فیور ہوگیا ہے۔ ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے ہر ٹیم سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے، بڑے اپ سیٹس نے مقابلوں کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ سنسنی خیز جیت ہار کے درمیان کئی شکستہ دل جان کی بازی بھی ہار گئے تو کئی پھولے نہیں سمارہے۔ فٹ بال میں بڑےبڑے برج الٹنے سے کئی معروف کمپنیوں کے دیوالیے کاخطرہ ہے۔

ایک طرف پاکستانی فٹ بال سے مقابلے ہو رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان کے الیکشن میں عوام فٹ بال بنے ہوئے ہیں۔ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کی تیار کردہ فٹ بال استعمال کی جا رہی ہے۔ ایک میچ کا ٹاس بھی پاکستانی نوجوان سے کرایا گیا لیکن پاکستان میں نہ تو عوام کی قدر ہے نہ ہی ملکی مصنوعات کی۔

Ahmed-Raza-in-FIFA-FROM-PAKISTAN-1030x481

فٹ بال ورلڈ کپ کے 24 سال میں پہلی بار سویڈن کوارٹر فائنل میں پہنچا ہے۔ جاپان کا فٹ بال ورلڈ کپ کا سفر بیلجیئم کے ہاتھوں تمام ہوا لیکن انہوں نے صفائی کی اعلیٰ مثال اور تاریخ رقم کردی۔

wptv-japan-world-cup-lockerphoto_1530715734130_91498651_ver1.0_900_675

فٹ بال ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیموں میں سے ایک، اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم پرتگال ناک آؤٹ مرحلے میں ہی مقابلے سے باہر ہوگئی۔ پہلے ناک آؤٹ میچ میں فرانس نے لائنل میسی کی ارجنٹائن کو 3-4 سے شکست دے کر انہیں گھر کی راہ دکھا دی تھی۔ انگلینڈ کی پاناما کے خلاف سب سے بڑے مارجن سے فتح بھی فٹ بال ورلڈ کپ میں یاد رکھی جائے گی۔ میسی اور رونالڈو تو کھیل سےآؤٹ ہو گئے لیکن نائیکی اور ایڈیڈاس کو اپنے اپنے سپانسرڈ کھلاڑیوں سے خاصی امیدیں ہیں۔

843125374.jpg-e1507194782199-900x540

فٹ بال ورلڈ کپ کا جنون اتنا ہے کہ پاکستانی عوام کو کچھ اور نظر ہی نہیں آرہا۔ حالانکہ پاکستان میں آج کل سیاستدان بھی فٹ بال بنے ہوئے ہیں۔ انتخابات کا موسم آتے ہی مفادات کی خاطر وہ کبھی ایک پارٹی میں تو کبھی دوسرے میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھ عوام کو بھی فٹ بال بنا دیا ہے۔ شخصیت پرستی میں اندھے عوام نظریے، ضروریات اور مفادات کو بھول کر بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بن گئے ہیں، جہاں ہانک دیا وہاں چل دیے، کبھی ایک طرف لڑھک جاتے ہیں تو کبھی دوسری طرف، کک لگنے پر کبھی ضمیر جاگتا ہے تو کبھی گول ہو جاتا ہے اور کبھی ریڈ کارڈ دکھا کر گیم سے آؤٹ کر دیا جاتا ہے۔

سچ پوچھئے تو ‘دو ٹکے کے پاکستانی عوام’ وہ فٹ بال بن چکے ہیں جسے ہر کوئی ٹھوکریں مار رہا ہے۔ ”ووٹ کو عزت دو” یا ووٹر کو عزت دو کا نعرہ بھی سیاستدانوں کے کھیل کا حصہ ہے۔

لیاری کو کراچی کے’سب سے خطرناک علاقے’ کے بجائے ‘منی برازیل ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

جہاں جرائم پیشہ افراد مخالفین کے سُروں سے فٹ بال کھیلتے ہوئے بھی پائے گئے۔ ارشد پپو اور عزیر بلوچ کی ویڈیو خوب وائرل ہوئی اور وہاں آپریشن کرنا پڑا۔ ماضی میں لیاری کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کی ‘غلط پالیسیوں اور گینگ وار کی سر پرستی’ کا خمیازہ بلاول بھٹو زرداری کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کی انتخابی زندگی کے آغاز کے لیے اپنے سب سے مضبوط حلقوں لاڑکانہ اور لیاری کو ہی چُنا۔ لیکن بلا اجازت بنا بتائے لیاری پہنچنے پر بلاول کی ریلی کا پتھروں اور ٹماٹروں سے استقبال کیا گیا۔

Bilawal

لیاری وہ واحد جگہ ہے جہاں کھیل کے لیے عوام کا جذبہ ہر چیز پر سبقت لے جاتا ہے، پھر چاہے یہ سبقت یہاں کے عوام کی سیاسی وابستگی ہی کیوں نہ ہو۔ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے باوجود لیاری والوں نے اس بار فیفا ورلڈ کپ کو ترجیح دی ہے۔ جہاں جگہ جگہ ورلڈ کپ میں شامل ملکوں اور ان کے کھلاڑیوں کی تصاویر موجود ہیں۔ جنھیں دیکھ کر یہ تاثر مل رہا ہے جیسے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری اور حلقے کے تمام امیدواروں کا مقابلہ برازیل اور دیگر فٹ بال ٹیموں سے ہو رہا ہے۔

A soccer fan, Mohammad Saleh, 38, paints on a wall depicting the Brazilian footballer Neymar, ahead of the FIFA World Cup Russia, in a low-income neighbourhood in Karachi

انتخابات میں کچھ ہی روز رہ گئے ہیں لیکن لیاری میں سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور نمائندوں کے جلسے اور تصاویر ندارد۔ 15جولائی کو فٹ بال ورلڈ کپ فائنل کے بعد ہی شاید لیاری میں انتخابی مہم کا ہاف شروع ہوسکے۔

نئے لیگی صدر نے بھی اپنے انتخابی میچ کا آغاز کراچی سے کیا۔ دیگر ٹیموں نے انہیں کھیلنے کیلئے کھلا میدان فراہم کیا۔ لیکن ایک غلطی کی تصحیح اور پان کے معاملے پر پکڑ ہوگئی اور ایسی لے دے ہوئی کہ ان کی انتخابی فٹ بال سے ہوا ہی نکل گئی۔ 30 برس سے کراچی پر حکومت کرنے والی جماعت تقسیم در تقسیم ہوگئی۔ رفاقتیں، عداوتیں اور فوری ردعمل میں ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر بولنے پر عوام کا اس ٹیم سے اعتماد اٹھ گیا، کس پر یقین کریں ؟کون سچا ہے کراچی والے تو اسی شش وپنچ میں ہیں۔ تقسیم ہوئی متحدہ کی ٹیم اس سوچ میں کہ گول پوسٹ پر کس کو کھڑا کریں، گول کرنے کے لیے کون سے کھلاڑیوں کو آگے کریں؟ ٹیم کی شرٹس کیسی ہوں؟ جیت پر کون سا جھنڈ لہرایا جائے؟

Shahbaz-3

انتخابات میں کس کو اکثریت ملے گی؟ عوامی ردعمل کے بعد اس کا فیصلہ کٹھن ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے دیرینہ اور سخت مخالف ٹیموں نے مفادات کے لیے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسی عوامی ردعمل نےصاف چلی شفاف چلی کو جگہ بنانے نہ دی۔ گول کے بارے میں سوچنے اور بات کرنےسے قبل ہی کپتان کو کراچی چھوڑ کر جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ ملک کے دیگر شہروں اور علاقوں کا بھی یہی حال ہے۔ انتخابی امیدواروں کو عوام کے سخت سوالوں کا جواب اور غصہ مل رہا ہے۔ عوام کہتے ہیں ووٹ کا سوال اب بعد میں۔

عوام کسی بھی جماعت یا امیدوار کے لیے فٹ بال بننا نہیں چاہتے لیکن ان کے سامنے ساڑھے 12 ہزارامیدوار ہونے کے باوجود بھی کوئی چوائس نہیں۔

روس میں فیفا ورلڈ کپ ہوگا کس کے نام، اس کا فیصلہ ہے قدرے آسان لیکن پاکستان میں ہونے والے انتخابی میچ میں اس بار کیا جیت ہوگی خواجہ سرا ؤں کی؟ کیااس بار کوئی ”مخلوط” مخلوق حکمران ہوگا یا ہوگی؟ اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے۔

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.