ہونے والی بیوی کے نام ایک خط۔

1,499

اسلام و علیکم،

امید ہے کہ تم خیریت سے ہوگی۔ امید نہیں بلکہ یقیناً تم خیرت سے ہی ہوگی کیونکہ فی الحال تم اپنے دولت مند والدین کے ساتھ تمام سہولیات سے بھرپور پرسکون زندگی بسر کر رہی ہو اور انشاءاللہ آئیندہ بھی اپنی بقیہ زندگی میرے ساتھ پرسکون طریقے سے بسر کرو گی مگر اس کے لیے لازم ہے کہ تم میرا یہ خط بہت غور سے پڑھو۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ جہیز ایک “لعنت” ہے جس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ جہیز لینے والا شخص ایک لعنتی خاوند ہوتا ہے مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اہلیہ کی نظر میں لعنتی خاوند تو وہ بھی ہے جو اسے پرسکون اور آسائشوں والی زندگی نہیں دے پاتا۔ ایسی آسائشوں والی زندگی کے لیے بے تحاشہ دولت کا ہونا لازمی ہے اور میں ٹھہرا غریب آدمی۔

خدا تعالیٰ نے تمہارے والدین کو بے انتہا دولت سے نوازا ہے۔ اب تمہارے والدین نے یہ دولت اپنی قبر میں تو ساتھ لے کر نہیں جانی، اب وہ دولت تمہاری ہی ہے۔ شادی کے بعد چونکہ میں بھی تمہارا ہی ہو جائوں گا تو اس دولت پر تھوڑا بہت حق میرا بھی بنتا ہے۔

تم مجھے لالچی بالکل نہ سمجھو۔ میں غریب تو چارپائی یا زمین پر کپڑا بچھا کر سونے کا عادی ہوں۔ تم کہاں زمین پر سونے کی عادی ہوگی۔ میں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ پائوں گا۔ اس لیے اپنے ساتھ آتے ہوئے بستر بھی لے آنا۔

میں غریب تو اپنے پنکھے میں رہنے کا عادی ہوں۔ اس پنکھے کے شور کے بغیر تو اب مجھے نیند بھی نہیں آتی لیکن تم کہاں پنکھے میں سو سکو گی۔ اس لیے اپنے ساتھ آتے ہوئے اے سی بھی لے آنا۔

میں غریب تو اپنے غریب خانے میں ہی ہنی مون منا کر بے انتہاء خوشی محسوس کر لوں گا لیکن تم نے تو بیرونِ ملک ہنی مون منانے کے خواب دیکھے ہوں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تم اپنے ساتھ ترکی یا دبئی میں ہنی مون کا پیکج بھی لیتی آئو۔ کیونکہ میں تو تمہیں خوش ہی دیکھنا چاہتا ہوں۔

تمہارا ہونے والا فرمانبردار خاوند،

ا ب ج

 

عدنان احمد نے کامرس میں بیچیلرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.