مردہ سماعتوں سے نہ کر ذکر!

2,189

عدالتیں اس نظام کا ایک بہت پرانا حصہ ہیں۔ عدالت ایک ایسے احاطے کو کہا جاتا ہے، جہاں انصاف ہو سکے۔ دو لوگ اس احاطے کا رخ تب کرتے ہیں جب انہیں کسی بات پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکے تو وہ کیسے تیسرے کو اپنا بڑا بناتے ہیں اور اس سے فیصلہ کرواتے ہیں۔ ہمیشہ سے اس نظام کی ایک رمز رہی ہے، جس فریق کے حق میں فیصلہ آئے وہ فریق اس فیصلے کو پسند کرتا ہے اور دوسرا فریق جس کے خلاف آتا ہے– وہ ہمیشہ اس سے اختلاف کرتا ہے۔

ایک فیصلے کی مختلف رموز ہوتی ہیں۔ ایک فیصلہ دو زاویوں سے دیکھا جاتا ہے، ایک قانونی جو کہ ٹیکنکل ہوتی ہیں جبکہ دوسرا زاویہ سیاسی نگاہ ہوتا ہے۔ کسی بھی فیصلے کو سیاسی طور پر اپنے حق میں کرنے کے لئے بہت ہی دانش و عقل مندی ضروری ہوتی ہیں۔ کیوں کہ سیاست کا زاویہ مفروضوں سے زیادہ تجربے اور وقت کی بےساکھیوں پر سجایا جاتا ہے۔ ایک مناسب سیاسی فیصلہ کرنے کے لئے بنیادی طور پر فیصلہ کرنے والے یا اس کے مشیروں کا تجربہ کار اور وقت کی شناسائی ہونا نہایت ضروری ہے۔ تجربہ تو زندگی وقت کے ساتھ دیتی ہے جس کے لئے ایک ریاضت درکار ہوتی ہے، تجربہ زندگی میں حاصل ہو ہی جاتا ہے اس کی تفریق کے بغیر کے آپ نے اس تجربے سے کچھ سیکھا یا نہیں۔ اہم چیز وقت کی شناسائی ہے۔ وقت شناسائی کا ہنر تب ہی آتا ہے، جب انسان تجربوں سے سیکھتا ہے۔ اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور ہر اگلا قدم پچھلے سے بہتر کرنے کی تگ و دو کرتا ہے۔

دوسرا زاویہ جو کہ ایک قانونی زاویہ ہے، اس زاویے کے لئے قانون کے میدان کے میدان کی ایک ریاضت درکار ہے۔ ایک زاویہ جسے ہم عام طور پر نظرانداز کر دیتے ہیں وہ ہے تاریخ کا زاویہ۔ تاریخ کے لوازمات اور ہیں۔ تاریخ اپنے کٹہرے میں فیصلوں کو کھڑا کرتی ہے اور تاریخ کی عدالت کے فیصلے ماضی کی جھلکیوں اور اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ تاریخ خود گواہ ہے کہ یہ فیصلے حق یا باطل کی بنیاد پر نہیں اکثریت کی بنیاد پر کرتی ہے۔

دنیا کا ہر فیصلہ جو تاریخ نے یاد رکھا، اس میں اکثریت کا زاویہ قبول کیا گیا۔ سقراط کو موت کی سزا ہوئی، اس مقدمے میں اکثریت سقراط کے ساتھ تھی تو آج سقراط کو ایک مثبت کردار کے طور پر جانا جاتا ہے، کربلا کا میدان سجا، ابنِ زیاد کے مقابلے پر حسین ابنِ علی آئے تو ظاہری طور پر تو اہلِ بیعت وہ جنگ ہار گئے، مگر تاریخ نے اکثریت کے فیصلے کو یاد رکھا اور نواسہءِ رسولﷺ کو فاتح ٹھہرایا، تاریخ کے اوراق میں ایک نام نیلسن منڈیلا کا بھی ہے، جسے جیل ضرور ہوئی، مگر اکثریت اس کے ساتھ تھی اس لئے نیلسن کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے، ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی لیکن بھٹو کو وہ فیصلہ تاریخ میں امر کر گیا کیوں کہ بھٹو کو اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔ بلاشبہ تاریخ ایک بہت ظالم شہ ہے، اس کو آپ جتنا مرضی تخت کے نیچے چھپا لیں، تاریخ نہیں چھپتی، تاریخ ہمیشہ ایک دن خود کو منوا کر رہتی ہے۔

کل ایون فیلڈ کا فیصلہ آگیا۔ قانونی طور پر ایک نہایت ہی کمزور فیصلہ، ہائیکورٹ میں اس فیصلے کو معطل کروانا شاید ہی کچھ مشکل ثابت ہو۔ کرپشن کا کوئی بھی الزام نیب ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اس فیصلے میں نواز شریف کو سزا ایک شک کی بنیاد پر دی گئی ہے حالانکہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے اور آنے والے وقت میں یہ فیصلہ ایک متنازعہ فیصلہ ثابت ہو گا۔ ابھی تک اس پر خاموشی اس لئے بھی ہے کیوں کہ میاں محمد نواز شریف کی جانب سے اس پر کوئی سخت مزاحمت دکھائی نہیں گئی۔ لازمی طور پر ان کے وکلاء اور قانونی ٹیم اس پر کام کر رہی ہو گی اور اس میں جو بھی کمزوریاں ہوں گی اس پر آنے والے وقت میں سیاست کی جائے گی۔

عام طور پر مہذب معاشروں میں بات اخلاقیات سے شروع ہو کر اخلاقیات پر ہی ختم ہو جاتی ہے، زمینی حقائق کا تذکرہ تو سرے سے موجود ہی نہیں رہتا لیکن ہم ایسے کمزور معاشرے ہمیشہ زمینی حقائق کے پیچھے بھاگتے ہیں کیوں کہ ہم قانون سے زیادہ مصلحتوں پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایک فیصلہ آیا، اس پر سرِ تسلیم خم کیا جاتا اور اس پر عمل درامد کیا جاتا لیکن ہمارے ہاں عدالتوں کی تاریخ اتنی کوئی اچھی نہیں رہی۔ ہماری عدالتیں ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے چنگل میں پھنسی رہی ہیں۔

ایک سیاہ حقیقت تو ہماری یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں ایک ٹرم وکٹمائزیشن اور سمپیتھی کے نام سے بھی مشہور ہے۔ ہم عدالت سے سزا یافتہ مجروں کے ساتھ ہمدردی کرنے میں بھی ایک مثال رکھتے ہیں۔ اس ہمدردی کی بھی ایک تاریخ ہے۔ بہرحال، سیاسی طور پر کیا ہی بہتر ہوتا کہ نواز شریف اور مریم نواز ایک بہت بڑے مجمع کے ساتھ عدالت آتے اور ہوتے اور جب انہیں ہتھکڑیاں لگائی جاتیں تو یقیناً اس ملک کے لوگ ٹیلیویژن سکرین پر یہ منظر دیکھ کر اش اش کر اٹھتے۔ یہ کوئی فخر کی بات قطعا نہیں ہے لیکن ایک حقیقت ہے۔ اس سے بلاشبہ بہت زیادہ سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا کیوں کہ یقیناً یہ اس چٹخوری قوم کے لئے نہایت ہی فخر کی بات ثابت ہوتی۔ اس سے نواز شریف کے سیاسی قد میں بھی اضافہ ہوتا۔

اگر نواز شریف اور مریم شریف کی کمرہ عدالت سے گرفتاری عمل میں آتی تو پورے پاکستان میں مسلم لیگ کے کارکنوں کے لئے اس پر مزاحمت کے لئے نکلنا آسان ہوتا کیوں کہ وقتی طور پر ایک تو یہ اچانک فیصلہ کارکنان کو جذباتی کرنے کا باعث بنتا بلکہ میاں صاحب کی گرفتاری ان جذبات میں اور زیادہ اضافہ کرتی۔ ایک سنہری موقع وہ کل کے روز گنوا چکے ہیں۔ مختلف اطلاعات کے مطابق وہ اتوار کے روز واپس آئیں گے۔ وہ موقع جو انہیں کل کے روز میسر تھا وہ آج نہیں مل سکے گا کیوں کہ مسلم لیگی کارکنان ذہنی طور پر اس فیصلے کو قبول کر چکے ہوں گے اور مزاحمت جو کل ہو سکتی تھی وہ آنے والے دنوں میں مشکل ہی نظر آئے گی۔

مسلم لیگ کو کل کی غلطی کی وجہ سے بہت زیادہ سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے جس کو ریکور کرنا نہایت ہی مشکل ہو گا۔ تحریک چلانا مسلم لیگ (ن) کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کیوں کہ مسلم لیگ کا جو اصل ووٹ ہے وہ مڈل کلاس اور بزنس کلاس کا ہے۔ جو ووٹ ڈالنے تو ضرور آتا ہے لیکن سڑک پر یا اپنا کاروبار کسی سیاسی تحریک کے باعث بند نہیں کرتا۔ ماضی میں بھی مسلم لیگ (ن) ایک کامیاب تحریک چلانے میں ناکام رہی ہے۔ تحریک چلانے کی صلاحیت تو آج کی تاریخ میں کسی جماعت کے اندر نہیں ہے، پاکستان تحریکِ انصاف لوگ سڑک پر نکال تو لیتی ہے لیکن انہیں آرگنائز و متحرک رکھنا تحریک انصاف کے بس کی بات نہیں ہے۔

کل کے فیصلے پر جو مزاحمت میاں صاحب کی طرف سے یاان کی جماعت کی طرف سے آنی چاہئے تھی وہ نہیں آئی۔ کل جب لندن میں وہ پریس کانفرنس کے لئے آئے تو جو غصہ اور جارحانہ پن ایک مزاحمتی تحریک کے لئے ضروری ہے وہ نظر نہیں آیا۔ اس کے برعکس وہ کافی مایوس اور اداس نظر آئے جبکہ مریم نواز چہرے پر مسکراہٹ سجائے سامنے آئیں۔ اسے خوش قسمتی کہہ لیں یا بدقسمتی کہہ لیں نواز شریف کو اپنے چہرے کے تاثرات پر اختیار نہیں ہے۔ ان کے متعلق عام رائے یہ ہی ہے کہ جو ان کے دل کی کیفیت ہوتی ہے وہی ان کے چہرے پر نظر آتی ہے۔ یہ وہی سیاسی بلنڈر ہے جو کہ تحریکِ انصاف نے سپریم کورٹ کے جے۔ آئی۔ ٹی۔ کے قیام کے فیصلے کے بعد کیا تھا اور مسلم لیگ (ن) نے کمال مہارت سے سیاسی طور پر کچھ وقت کے لئے ہی سہی اس کو اپنے حق میں ثابت کر ہی لیا تھا۔

فیصلہ آنے سے قبل جو بار بار مؤخر کیا گیا، اس کو بھی سیاسی گیم اسکورنگ کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن یہ ایک کمزور دلیل ہے جو زیادہ دیر تک چل نہیں پائے گی۔ یہ فیصلہ انتخابی عمل پر اثرانداز نہیں ہو پائے گا، کیوں کہ سمپیتھی کے لئے ایک لہر اٹھانے کے لئے چند ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اب جبکہ انتخابات اٹھارہ روز میں ہونے جا رہے ہیں، تو یہ لہر نہایت مشکل ہو گی اورکل کے سیاسی بلنڈر کے بعد تو ناممکن نظر آتا ہے۔

ایک متوقع بیانیہ جو وہ آنے والے وقت میں لے کر چلیں گے وہ یہ ہی ہے کہ مجھے سزا کرپشن کی بنیاد پر نہیں ہوئی نہ ہی مجھ پر کوئی کرپشن ثابت ہو سکی ہے۔ یہ بیانیہ اقامے کے مقابلے میں بہت قابل قبول لگتا ہے اور تاش کے پتے ان کے حق میں جاتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ وطن واپسی پر گرفتار ہو جائیں گے تو ان کی اس تحریک اگر وہ چلاتے ہیں، تو اس کو کون چلائے گا؟ کیوں کہ شہباز شریف کی کل کی پریس کانفرنس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی قسم کی سیاسی مزاحمت کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ان کی تمام تر توجہ انتخابات پر ہے اور انتخابات میں جو بیانیہ وہ دینا چاہتے ہیں وہ ان کا ترقی کا بیانیہ ہے۔

تاریخ اس فیصلے کو کس حیثیت میں یاد رکھے گی توہ آنے والے چند روز فیصلہ کر دیں گے۔ اگر اس فیصلے کے خلاف نواز شریف کوئی بیانیہ بنانے میں اور عوام میں اپنا بیانیہ پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، عوام اس بیانیے کو قبول کرتے ہیں تو بلاشبہ اس فیصلے کو کمزور فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اگر نواز شریف اس بیانیے کو پیش کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو فیصلے کے لئے تاریخ میں شاید کوئی مثبت گنجائش نکل آئے۔ اس کے علاوہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی عدلیہ کے فیصلے مثبت فیصلے کے طور پر زندہ رہنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

اب اس ملک میں ایک اور بحث جنم لے گی اور بحث ہونی بھی چاہئے کہ کیا قانون محض کمزور کرپٹ سیاستدانوں کے لئے ہی ہے، کیا طاقتور کرپٹ جرنیلوں کے لئے کوئی قانون نہیں ہے۔ اصغر خان کیس کئی سالوں سے چل رہا ہے، جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی اعترافِ جرم کر چکے ہیں، مشرف جس پر اکبر بگٹی کے قتل کا الزام ہے اور ساتھ ہی آرٹیکل 6 سنگین غداری کا مقدمہ بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرف کو اجازت مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دی، تو کیا عدالتیں اتنی بااختیار نہیں کہ وہ آئین توڑنے والے اس آمر کو ملک واپس بلا سکے؟ کیا ان لوگوں کا بھی کبھی احتساب ہو سکے گا۔ یہ احتساب کا عمل یہاں رکنا نہیں چاہئے، بغیر کسی تفریق کے احتساب ہونا چاہئے۔ جو کہ اس ملک و قوم کی بقاء کے لئے ضروری ہے۔ اگر یہ عمل یہیں رک گیا تو بہت سی انگلیاں اٹھیں گی اور وہ کہاوت سچ قرار پائے گی،

“Civilians are always main and big offenders and law is applicable to them only.”

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. Shirazi کہتے ہیں

    عدالت کا فیصلہ کمزور تو یقیناً نہیں البتہ آپکا یہ مضمون نہایت لاغر ہے ہی ،معاف رکھنا لغو اور بے بنیاد مثالوں کا ملغوبہ ہے۔ آپ نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی سر توڑ مگر کلیتا ناکام کوشش کی۔ کوتوال اگر خودچوری چکاری کا مرتکب ہو ،جو کہ بمطابق شواہد ہے، تو اس کی سزا اسی نوع کے مجرم کی بنسبت دگنی نہیں دس گنا ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہئے۔ ہاں جو بھی شخص ، اشخاص یا گروہ مجرم کی کی ہوئی چوری میں مستفید ہونے والوں کی فہرست میں شامل ہو تو یقیناً ایسے لوگ مجرم کو بچانے کی منطقی طر پر سر توڑ کوشش ہر طرح سے کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ میری، آپکو جانے بغیر، خواہش اور دعا ہے ک آپ کا نام اس فہرست میں نہ ہو۔ آخری بات۔۔۔مجرم کو بچانا جرم اور قومی مجرم کو بچانے کی کوشش جرم عظیم اور نا قابل معافی ہے۔ اپنےقلم کی قوت کو مثبت کاموں میں سرف کیجئے۔ شکریہ

    1. shahjii کہتے ہیں

      very nice my freined i dont know what the heck is he talking about history ?? shit the f up you talkoing about the people who bulid up nations who work hard for the freidom this guy nawaz sharif ?? yo he is cropted person he is thife motherfucker suck the blood from poor people to feed his own pegs … wake up fuck

  2. اے_الحسیب کہتے ہیں

    گنجے دا چیلا. ن لیگی کارکن

  3. عبدالحسیب کہتے ہیں

    جی بالکل صحیح کہا.! شیرازی صاحب اس طرح کے نام نہاد صحافی اورکالم نگار جس بھونڈے انداز میں مجرموں کی حمایت کرتےھیں دراصل وہ ثابت کرنےکی کوشش میں ھیں کہ یہ گندہ نظام ان کی نظر میں انتہائی اعلی ھے اور وہ اسکے حامی ھیں. یہ سب لفافوں پر چلنےاورپلنےوالے دراصل صحافت کے خول میں چھپےھوئے بھیانک بھیڑیے ھیں.

تبصرے بند ہیں.