شریف خاندان کا انجام، جو کہا وہی ہوا

9 1,831

2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے سادہ اکثریت حاصل کی اور حلیف رہنماؤں کے ساتھ ملکر اپنی حکومت قائم کی۔ یوں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے۔ شروع شروع میں سب اچھا رہا, مگر پھر نواز شریف اداروں میں مداخلت اور ان پر اپنے فیصلے تھوپنے لگے۔ یوں ان کی اداروں سے ان بن شروع ہوگئی۔

2014 میں پی ٹی آئی دھرنے نے ن لیگ کی حکومت میں دراڑیں ڈالنا شروع کیں۔ وزیراعظم نواز شریف بجائے تحمل و صبر سے کام لیتے وہ مزید مشتعل اور جارحانہ ہو گئے۔ راقم نے دھرنے کے دوران اپنے کالم میں لکھا تھا کہ نواز شریف اپنی مدت پوری نہیں کر سکیں گے اور ایسا ہی ہوا۔

پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا تو اس وقت عام رائے یہی تھی کہ ایسے سکینڈلز بنتے رہتے ہیں اور وقت گزرنے کےساتھ ساتھ ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ملک بھر کے بڑے بڑے تجزیہ کار یہی کہہ رہے تھے کہ نوازشریف کو کچھ نہیں ہوگا مگر راقم نے اپنے کالم میں واضح طور پر لکھا کہ یہ نواز شریف کی سیاسی زندگی میں پھندا بن کر آئیگا اور ان کا سیاسی سورج غروب کر دے گا۔


اسی بارے میں:

گئے تھے نماز بخشوانے الٹے روزے گلے پڑ گئے
کرپٹ سیاستدانوں کا سورج غروب ہونے کے قریب

راقم بطورثبوت یاداشت ماضی میں لکھے کالمز کا حوالہ دے رہا ہے جس میں نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی کا کئی ماہ پہلے تجزیہ کیا گیا تھا۔ نواز شریف کی بطور پارٹی صدر نا اہلی کا کئی ماہ پہلے تجزیہ دیا۔ نواز شریف اور ان کے بچوں کے سیاسی مستقبل اور سزاؤں کا تجزیہ کئی ماہ پہلے کیا۔ راقم اپنے کالم پڑھنے والے تمام افراد کا شکرگزار بھی ہے جنہوں نے اپنی مثبت تنقید اور اصلاح سے مستفید کیا۔

آج کل اصطلاح عام ہے کہ تمام تر سہولیات ایک ہی چھت تلے۔ اسی کے مصداق راقم گزشتہ تمام کالمز کا حوالہ اسی ایک کالم میں دے رہا ہے۔ ان تمام کالمز میں کئی کئی ماہ پہلے نواز شریف کے انجام اور سیاسی سفر کے اختتام کا تجزیہ کیا گیا تھا جو الحمداللہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوا۔ قارئین ان کالمز پر کلک کرکے دوبارہ اپنی یاداشت تازہ کر سکتے ہیں۔

20 اپریل 2017 کو کالم ” گئے تھے نماز بخشوانے الٹے روزے گلے پڑ گئے ” میں نواز شریف کی نااہلی اور انکی سزا کا تجزیہ کیا تھا اور 15 ماہ پہلے ہی واضح لکھا تھا کہ 2018 کا موسم گرما ان کیلئے سزاؤں کا پیغام لیکر آئیگا۔ اسی طرح 22 اکتوبر 2017 کے کالم “کرپٹ سیاستدانوں کا سورج غروب ہونے کے قریب” لکھا جس میں ایک بار پھر لکھا کہ الیکشن 2018 نواز شریف کے بغیر ہوگا اور اس میں ن لیگ کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا جو اس کی قیادت نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔ اس کالم کو پڑھ کر آج کی صورتحال کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بھی راقم کا تجزیہ درست ثابت ہوا۔ راقم نے 24 فروری 2018 کو اپنے کالم “نواز شریف اور ان کے بچوں کا مستقبل” میں اسٹیبلشمنٹ اور نوازشریف کی محاذ آرائی کا ذکر کیا اور تجزیہ پیش کیا کہ نوازشریف اور ان کے بچے اب بھنور میں پھنس چکے ہیں جس میں سے نکلنا ناممکن جیسا دکھائی دے رہا ہے۔

اسی طرح 20 مارچ 2018 کو کالم “میرے رشک قمر” لکھا جس میں نواز شریف کی سیاسی موت کا بہت جلد تجزیہ کیا۔ شہباز شریف کے مستقبل کے عام انتخابات کے حوالے سے تجزیے کیے۔21 مئی 2018 کو راقم نے نواز شریف کے حوالے ایک اور کالم ” نواز شریف کے انجام کا آغاز ” تحریر کیا۔ جس میں ان کی سزاؤں کا تذکرہ کیا اور عید سے قبل ہی لندن روانگی کا ذکر کیا۔ 21 مئی کو لکھےاس کالم میں سے ایک پیرا قارئین کی پیش خدمت ہے،

“راقم نے بھولے سے پوچھا کہ عدالتی کیسز کا فیصلہ کب تک متوقع ہے تو بھولے نے پھر اپنی ایک سال پرانی بات راقم کو یاد کرائی۔ بھولے نے گزشتہ سال کہا تھا کہ نواز شریف اور ان کے بچے ایک سال بعد گرمیوں میں سزا یافتہ ہو کر سزائیں بھگت رہے ہوں گے مگر اس بار بھولا خبری بولا کہ 20 جون سے 30 جولائی تک نوازشریف اور ان کے بچوں کیخلاف معاملہ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا۔ اور عید کے بعد نواز شریف کسی بھی بدترین صورتحال کیلئے تیار رہیں۔ تاہم بھولے خبری نے ایک اور بات کا انکشاف بھی کیا ہے کہ نواز شریف کے پاس ان سزاؤں سے بچنے کیلئے بیرون ملک جانے کا آپشن بھی موجود ہے اور امکان قوی ہے کہ وہ عید سے قبل پرواز کر جائیں۔”


اسی بارے میں:

نواز شریف اور ان کے بچوں کا مستقبل
میرے رشک قمر

سب سے آخر میں ایک بار تمام قارئین کی چاہتوں کا شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے زورِ قلم میں ہر گزرتے روز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک صحافی حالات و واقعات کو مدنظررکھ کر ممکنہ پیش آنے والے حالات کی منظرکشی کر دیتا ہے اور یہی اس کا تجزیہ کہلاتا ہے جو قبل از وقت کیا جاتا ہے لیکن وقت آنے پر کوئی تجزیہ درست ثابت ہو اور خصوصاً بڑے معاملات اور بڑی شخصیات کے حوالے کیے تجزیے درست ثابت ہوں تو ایک تجزیہ کار کا حوصلہ مزید بلند ہو جاتا ہے اور وہ مستقبل میں مزید بہتر انداز میں کالم لکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

9 تبصرے

  1. Athar کہتے ہیں

    Boht khobsorti sy ap ny tamam halat o waqeaat ka tajzeeia kiaa….. or pridictions such bhi sabit hoi

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Ather Sab Shukriya

  2. Sarosh latif کہتے ہیں

    GO NAWAZ GO

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Everyone has rights in democracy

  3. مھمد روءف کہتے ہیں

    اس پودے تجزیہ میں یہ بھائی اپنی ہی میں میں کر ے چا رھا ہے

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      رؤف صاحب ۔پرانے کالم پڑھیں گے تو پتہ چل جائیگا یہ کس لیے لیے ۔ میرے پچھلے کالمز میں جو کچھ لکھا وہ اپنے وقتپر درست ثابت ہوا اسی کی یاد دہانی کرائی ہے

  4. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Athar sab thank you

  5. moviesbelt.com کہتے ہیں

    kia khob likha wakai wohi hoa sir,
    bas ALLAAH ki rehmat ho rahi hai in ganday hukam rano se pakistan ki jaan chot jay bas isi tarha or koi islamic kanoon aye

    1. Muhammad Ali mayo کہتے ہیں

      thank you very much

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.