عصمت چغتائی: روایات سے باغی مصنفہ

1,401

اردو ادب میں عصمت چغتائی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں انہوں نے جن نقاط کو موضوع بحث بنایا وہ آج کی جدت پسند آزادی نسواں تحریک کا خاصا ہیں۔

عصمت چغتائی نے مارکسزم کے پس منظر میں رہتے ہوئے سماجی طبقات کے مابین اختلافات، حقوقِ نسواں اور خواتین میں ہم جنس پرستی جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ معاشرتی ناہمواری اور خواتین میں احساسِ محرومی ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔

یہ وہ موضوعات ہیں جن پر موجودہ دور میں بھی کھل کر بات کرنا آسان نہیں۔

15 اگست 1915ء کو بدایوں (اترپردیش) میں پیدا ہونے والی عصمت دس بہن بھائیوں میں نویں نمبر پر تھیں۔ والد مرزا قاسم بیگ چغتائی سرکاری افسر تھے اور آئے دن تقرر و تبادلے کے سبب عصمت کو مختلف شہروں میں رہنے کا موقع ملا۔ تاہم مرزا قاسم کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس گھرانے نے آگرہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔

بڑی بہنوں کے بیاہے جانے کے سبب عصمت بھائیوں خصوصاً مرزا عظیم بیگ چغتائی (جو خود ایک ناولسٹ تھے) سے زیادہ قریب تھیں اور کہانی نویسی میں انہی کو اپنا محسن قرار دیتی تھیں۔

عصمت مزاجاً بغاوت پسند تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں انہوں نے سلائی اور کھانا پکانا جیسے گھریلو کام سیکھنے سے انکار کر دیا بلکہ روزمرہ کے کام کاج بھی اپنے بھائیوں کی طرز پر کرتی تھیں۔

یہی نہیں انہوں نے اپنے گھر والوں کو دھمکی دی کہ اگر انہیں میٹرک سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ عیسائی مذہب اختیار کر لیں گی۔

تیرہ سال کی عمر میں عصمت کو اپنے چھبیس سالہ ہمسائے سے محبت ہو گئی تھی جس کا وہ بلا جھجھک اعتراف کرتی رہیں کہ اس شخص کی جسمانی خوبصورتی نے انہیں اپنی جانب مائل کیا تھا۔

گھریلو مخالفت کے باوجود انہوں نے 1940ء میں ازابیلا تھوبرن کالج سے بیچلر آف آرٹس کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں علی گڑھ یونیورسٹی سے بیچلر آف ایجوکیشن کرنے کے بعد علی گڑھ میں ہی لڑکیوں کے ایک سکول میں بطور ہیڈ مسٹریس ملازمت اختیار کی۔ اسی دوران ان کی ملاقات شاہد لطیف سے ہوئی جو بالی وڈ میں ڈائیلاگ رائٹر تھے اور بعد ازاں عصمت انہی کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھیں۔

دورانِ تعلیم ہی عصمت پراگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن سے منسلک ہو چکی تھیں۔ 1936ء میں ایسوسی ایشن کی ہی میٹنگ میں ان کا تعارف راشد جہاں سے ہوا جنہوں نے آئندہ برسوں میں عصمت کو خواتین کے حقیقی کرداروں کو کہانی میں ڈھالنے کی ترغیب دی۔

اگرچہ عصمت نے نجی طور پر لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا مگر باقاعدہ اشاعت کا سلسلہ بہت بعد میں شروع ہوا۔

چوبیس برس کی عمر (1939ء) میں اردو میگزین ساقی کے لئے ان کا تحریر کردہ ڈرامہ ‘فسادی’ شائع ہوا جس کی اشاعت پر لوگوں کو غلط فہمی ہو گئی کہ یہ ان کے بھائی عظیم بیگ کی تحریر ہے کیونکہ عصمت ابتدا میں انہی کے نام سے لکھا کرتی تھیں۔

پہلی کہانی کی اشاعت نے عصمت کو حوصلہ دیا اور انہوں نے ناشران کو اپنی تحریریں روانہ کرنی شروع کیں لیکن موضوع کے چناؤ کے سبب انہیں بہرحال تنقید کا سامنا رہا۔ ان کی تحاریر کو گستاخانہ اور قرآنی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا۔

عصمت کی ابتدائی تحریروں میں ‘بچپن’ (اولین مطبوعہ افسانہ)، ‘کافر’ اور ‘ڈھیٹ’ شامل ہیں۔ ان کا پہلا ناول ‘ضدی’ 1941ء میں شائع ہوا جس کا بعد ازاں انگریزی زبان میں ‘وائلڈ ایٹ ہارٹ’ کے نام سے ترجمہ کیا گیا۔

یوں تو عصمت نے بیشتر مختصر کہانیاں اور ناول تحریر کئے مگر ان کی وجہ شہرت بنیادی طور پر ان کی مختصر کہانی ‘لحاف’ ہے جو 1942ء میں لاہور کے ایک ادبی رسالہ ‘ادبِ لطیف’ میں شائع ہوئی۔

یہ کہانی ایک شادی شدہ مگر جنسی طور پر ناآسودہ عورت بیگم جان اور ان کی خاتون خدمت گار کے درمیان جنسی رشتے کی روداد ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار بیگم جان علی گڑھ کے ایک نواب کی بیوی تھیں مگر شوہر کی جانب سے مسلسل نظر انداز کئے جانے کے باعث ہم جنس پرستی کی جانب راغب ہوئیں۔

اس تحریر کے باعث عصمت کو ناصرف شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا بلکہ فحاشی پھیلانے کے مقدمے میں عدالت بھی جانا پڑا۔ تاہم تمام تر تنقید کے باوجود “لحاف” ان کی شاہکار تخلیق مانی جاتی ہے۔

عصمت کے مطابق ان کی تحریریں مشاہدات پر مبنی ہیں نہ کہ ان کے اپنے تجربات پر۔ اسی سبب اپنے لیے کہانی کار یا مصور کی بجائے فوٹوگرافر کا لفظ منتخب کیا کیونکہ وہ اپنی ذات کو بالائے طاق رکھ کر سماجی حالات کی عکس بندی کرتی ہیں۔

انہیں ہندوستانی معاشرے میں مرد و عورت کے تعلقات بارے پائی جانی والی گھٹن سے شدید اختلاف رہا۔ عصمت کے نزدیک نام نہاد اخلاقی اقدار ہی معاشرتی گراوٹ کا سبب تھیں۔ خود ان کے کرداروں کا اصل دشمن بھی سماج، ریاست اور معاشرتی روئیے رہے جنہیں وہ بدلنا چاہتی تھیں۔

ان کا ناول ‘ٹیڑھی لکیر’ ہندوستان کی مسلم خواتین کے گرد گھومتا ہے جسے شاہکار مانا گیا۔ طاہر نقوی نے اس کا انگریزی ترجمہ کیا اور عصمت کے انداز تحریر کو فرانسیسی فیمینسٹ مصنفہ سائمن ڈی بوار سے تشبیہہ دی۔

آگرہ میں رہائش تک ان کی تحریروں کا مرکز یہی موضوعات رہے تاہم ممبئی کے ماحول نے ان کی تحریروں میں نیا رنگ ڈالا۔

ممبئی میں پہلی مرتبہ انہیں غربت کی چکی میں پسنے والوں کے شب و روز سے آگاہی ہوئی شاید اسی لیے وہ کمیونسٹ پارٹی سے بھی منسلک ہوئیں اور اس دور میں ان کی تحریروں میں گہرائی اور نکھار نظر آتا ہے۔

منٹو ہی کی طرح عصمت کو بھی فحاشی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا مگر حیرت انگیز طور پر یہ الزام ان پر ممبئی میں نہیں لگا جہاں ان کی تحریریں شائع ہوئیں بلکہ ایسا لاہور میں ہوا۔

عصمت نے اپنی کہانیوں میں ادبی رکھ رکھاؤ سے مبرا روزمرہ کی زبان استعمال کی یہی وجہ ہے کہ زبان اور الفاظ کے چناؤ پر ان کے ہم عصر لکھاریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

ہندی فلمی صنعت میں عصمت کو ان کے شوہر شاہد لطیف نے متعارف کروایا جہاں سکرین پلے اور ڈائیلاگز لکھنے کے علاوہ بطور فلم ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

ان کے پسندیدہ مصنفین او-ہنری اور برنارڈ شاہ تھے جبکہ بطور قاری وہ انٹن چکہو کی خاص طور پر معترف تھیں۔

یہ حقیقت بھی کم لوگ جانتے ہیں کہ عصمت کی اردو املا بہت کمزور تھی۔ ملتی جُلتی آوازوں کے حروف تہجی جیسے “س، ث، ہ، ھ، ز اورذ ” وغیرہ اکثر گڈ مڈ ہو جایا کرتے تھے جس کا اعتراف انہوں نے خود کیا۔

اداکار نصیر الدین شاہ اور ان کے ساتھی اداکاروں کے گروپ بنام “موٹلے” نے جب سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کی تحریروں کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کا آغاز کیا تو عصمت کی تحریروں کو ڈرامائی تشکیل میں آسان پایا۔ اس کا سبب ان کی تحریر کی سادگی اور عام فہمی رہی۔

اس ڈرامائی تشکیل کی پہلی سیریز میں عصمت کی تحریریں “چھوئی موئی”، “مغل بچہ” اور “گھر والی” شامل تھیں۔

عصمت ایک روشن خیال مسلمان تھیں اور قرآن کے ساتھ ساتھ گیتا اور بائبل بھی پڑھا کرتی تھیں۔ خود ان کی بیٹی، بھتیجی اور ایک بھتیجے نے ہندو خاندانوں میں شادیاں کر رکھی تھیں۔

ان کی تحریریں خطے میں اس وقت کی مذہبی، سماجی اور ثقافتی روایتوں کی عکاس ہیں۔ ان کی کتابیں مختلف ادوار میں پابندی کی زد میں آتی رہی ہیں جبکہ بہت سی تحریروں بشمول ‘لحاف’ پر جنوبی ایشیا میں پابندی بھی لگی کیونکہ ان میں خواتین کی سماجی اور جنسی آزادی کے رجحانات کا کھل کر اظہار کیا گیا تھا۔

عصمت کے نظریات بھی بنیاد پرستوں کی جانب سے شدید تنقید کا باعث بنے رہے۔ وہ مسلمان خواتین کے نقاب اوڑھنے کی حوصلہ شکنی کرتی تھیں جو ان کے نزدیک ظالمانہ اور جاگیردارانہ سوچ کا حامل عمل ہے۔

تاہم بنیاد پرست حلقوں کی تنقید کے باوجود انہیں وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔ ہندوستانی حکومت کی جانب سے انہیں ناول ‘ٹیڑھی لکیر’ کے لئے غالب ایوارڈ جبکہ فلم ‘گرم ہوا’ کے لئے بہترین کہانی نویسی پر فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

علاوہ ازیں انہیں گورنمنٹ آف انڈیا سٹیٹ ایوارڈ، انڈین سویلین ایوارڈ، آندھرا پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ، سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ اور راجستھان اردو اکیڈمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

عصمت نے 24 اکتوبر 1991ء میں وفات پائی۔ روایات سے ان کی بغاوت بعد از مرگ بھی نظر آئی جب خواہش کے مطابق ان کی نعش کو دفنانے کی بجائے جلا دیا گیا۔

صائمہ مرزا یونیورسٹی آف گجرات سے پی۔ایچ۔ڈی پولیٹیکل سائنس کی طالبہ ہیں اور سماجی و سیاسی مسائل پر لکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. ظفر ملک کہتے ہیں

    زیادہ بہتر یہ ہے کہ کبھی کبھی لحف جیسے شاہکار افسانے بھی شائع کیے جائیں تا کہ نئ نسل بھی انہیں پڑھ سکے

  2. Shirazi کہتے ہیں

    کل بظاہر گزرے ہوے یا آنے والے دن کا نام ہے۔ درحقیقت ہر دو “کل” اپنے آپ میں لامتناہی عرصہ اور اس عرصہ میں انمول لوگوں کی زندگیوں کے شب و روز سموئے ہوے ہے۔ آنے والا کل کیا رنگ بکھرے گا اسکا احاطہ کرنا تو نجومیوں کا شعبہ ہے ہاں مگر گزرے ہوئے کل کے گرد و غبار میں اٹی پڑی ہوئی بیش بہا موتیوں کی پہچاننا اور ان پہ دلپزیر تبصرہ کم ہی قلمکاروں کے حصے میں آتا ہے۔ یادو ش بخیر، آپکی کی آج کی کوشش بہت اچھی لگی۔

  3. ثناء شفیع کہتے ہیں

    بہت ہی خوبصورت تحریر ہے اللہ پاک آپکو اور توفیق عطا فرمائے امین

    1. Shirazi کہتے ہیں

      قدر زر بلا شک زر گر می شناسد۔۔۔شکریہ

تبصرے بند ہیں.