یہ معزز منافقیں! مِری جاں

2,220

ایک کافی پرانی سطر ہے جو آج کل تواتر سے میرے ذہن کے تاریک گوشوں میں گردش کر رہی ہے کہ یہ دنیا عبرت کی جاہ ہے تماشا نہیں ہے۔ مجھ ایسے سیکیولر لبرل کے لئے ایسی چیزیں تحریر میں شامل کرنا مشکل ہوتا ہے مگر بہرحال قدرت چند اصولوں کے تحت ہمیشہ سے چلتی آ رہی ہے۔ اس کا ایک نظام ہے جو ہر دور میں اٹل رہا ہے اور اس نظام میں تبدیلی آج تک کسی بنی نوع سے نہیں ہو سکی لیکن جب جب ہم نے کوشش کی ہمیں منہ کی کھانی پڑی ہے۔ ہم نے طاقت کے پیمانوں میں ٹانگ اڑائی اور جوہری طاقت حاصل کر لی۔ ہم نے اس سے مثبت فائدے بھی حاصل کئے لیکن ساتھ ہی جوہری ہتھیار بھی بنا لئے اور اس کو آزمانے کے لئے جاپان کے دو شہر کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی کو قبرستان بنا دیا۔ لاکھوں لوگ اس کی نذر ہو گئے اور تو اور وہ ریاست جس نے یہ ظلم ڈھایا وہ آج انسانی حقوق کی سب سے بڑی ٹھیکیدار بھی بنی ہوئی ہے۔ خیر، بات کہاں سے کہاں نکل گئی، بات قدرت کے نظام کی ہو رہی تھی۔ قدرت کے اسی نظام کا ایک حصہ مکافاتِ عمل بھی ہے۔ اس دنیا میں آپ جو بھی کرتے ہیں اس کا صلہ دنیا میں بھی مل جاتا ہے اور آخرت کے لئے تو خدا نے وعدہ کر ہی رکھا ہے اور ساتھ ہی ایک تاثر کہ تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی آ رہی ہے۔اتفاق کہہ لیں یا سازش کہہ لیں مگر تاریخ کی ایک رمز ہے کہ یہ خود کو دہراتی ہے۔

آج سے ٹھیک 42 سال قبل ایک مارشل لاء نافذ ہوا تھا۔ تاریخ اس مارشل لاء کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دور لکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا تھا اور ان پر ایک ٹرائل کا آغاز کیا گیا۔ وہ مقدمہ تھا نواب احمد خان کے قتل کا۔ یہ مقدمہ بنا 1974ء میں تھا اور اس مقدمے کو آگے ذولفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ اس مقدمے کا پسِ منظر دیکھیں تو صرف پسِ منظر میں پاناما کیس سے تھوڑی مماثلت نظر آئے گی۔

مماثلت صرف پسِ منظر تک ہی محدود ہے ورنہ قانونی طور پر مکمل طور پر مختلف مقدمات ہیں اور ان کی کارروائیاں بھی مکمل طور پر مختلف ہیں۔

یہ مقدمہ جب بنا تو ذولفقار علی بھٹو نے اس پر توجہ نہیں دی۔ حیرت تو ہوتی ہے بھٹو جیسا دور اندیش شخص ایسی سنگین غلطی کیسے کر سکتا ہے۔ کوئی ڈکٹیٹر نہ سہی کوئی سیاسی مخالف ہی اقتدار میں آ کر اس مقدمے کو ان کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔ خیر، یہ ہی معاملہ آگے جا کر ان کے لئے پھانسی کا پھندہ ثابت ہوا۔ پانامہ کیس کے ساتھ بھی یہ ہی معاملہ درپیش ہوا۔ پانامہ پیپرز آئے مئی، 2016 میں لیکن مسلم لیگ یا شریف خاندان کہا جائے تو مناسب رہے گا، اس خاندان نے اس معاملے کو زیادہ اہمیت دی ہی نہیں۔ ان کا خیال تھا کہ لوگ اور بھی بہت سے معاملات کی طرح یہ بھی بھول جائیں گے۔ جیسا کہ خواجہ آصف ایک دفعہ اسمبلی میں کہہ بھی چکے کہ میاں صاحب! فکر نہ کریں لوگ بھول جائیں۔ پھر ہم نے دیکھا یہ کیس ان کی نااہلی کا سبب بنا۔

لیکن اس کا تمام تر کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو زندہ رکھا۔ یہ بات کہنا مناسب تو نہیں لیکن حقیقت ہے کہ اس ملک کے فرسودہ نظام کے اندر ایسے کسی بھی مسئلے کو تخت کے نیچے چھپانا یا سنبھالنا کچھ مشکل تھا ہی نہیں۔ لیکن شریف خاندان میں نواز شریف کی سستی اور مریم نواز کے متکبر رویے نے اس کو اس نہج تک پہنچا دیا۔ اگر وہ اپوزیشن میں موجود پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی اچھی بارگیننگ کر کے معاملے کو حل کر لیتے تو فائدے میں رہتے لیکن میاں محمد نواز شریف نے اس معاملے کو لٹکایا اور بات یہاں تک آن پہنچی۔ اس کے بعد میاں صاحب نے قوم سے دو دفعہ خطاب بھی کیا اور وضاحتیں بھی دیں۔ پھر اسمبلی میں تقریر بھی کی۔ جس کے بارے میں میں یہ اکثر کہتا ہوں میاں صاحب کو سب سے پہلے اس بندے کو تلاش کرنا چاہئے جس نے ان کی اسمبلی والی تقریر لکھی تھی کہ “حضور یہ ہیں وہ ذرائع۔” اس تمام وقت میں میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ سے بھی پنجہ آزماں تھے۔ جس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ نے کسی بھی قسم کا تعاون فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ جیسا کہ ڈان لیکس میں اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف نے ایکسٹینشن کے لارے پر ان کو ریلیف فراہم کیا اور اس ریلیف میں کردار اس وقت کے ڈی۔ جی۔ آئی۔ ایس۔ آئی رضوان اختر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ خیر، کیس عدالت پہنچا تو شریف خاندان نے کیس عدالت میں لڑنے سے زیادہ کیس کو میڈیا میں لڑنے پر زیادہ توجہ دی۔ معاملات عدالت تک بھی اتنے بگڑے نہیں تھے کہ ہینڈل نہ کئے جا سکتے ہوں۔ اس کے بعد، جے۔ آئی۔ ٹی۔ بنی تو مسلم لیگ (ن) مٹھائیاں تقسیم کیں اور بعد میں اسی جے۔ آئی۔ ٹی۔ پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں۔ اس سب کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف دھرنے کی سیاست اور امپائر کی انگلی کےجو داغ اس نے اپنے ماتھے پر لگا لئے تھے وہ دھونے میں کامیاب ہو گئی۔ اس سب میں مسلم لیگ کو ایک نقصان اور ہوا، دھرنے کے دوران جو پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی تھی کیونکہ میاں نواز شریف آصف علی زرداری کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ وہ مشرف کا احتساب کریں گے اور بعد ازاں دباؤ میں آگئے۔ اس پیپلز پارٹی نے پانامہ لیکس میں مسلم لیگ (ن) کا ساتھ قطعی طور پر نہیں دیا۔ وہ گاہے بگاہے عدالتی کارروائی پر تنقید کرتی رہی مگر اس نے اپنی حمایت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہی رکھی۔ وہ فیصلہ آج ہونے جا رہا ہے، ممکن ہے جب تک یہ بلاگ چھپے تب تک فیصلہ آ جائے لیکن چونکہ فیصلہ ابھی تک آیا نہیں ہے، تو ایک ایسے مقدمے پر جو عدالت میں چل رہا ہو کچھ لکھنا مناسب نہیں ہو گا۔

میاں صاحب کے لئے عبرت کا مقام ہے کہ ایک وقت تھا جب یہ فون کروا کر اپنے سیاسی حریفوں کے لئے فیصلے لکھوایا کرتے تھے۔ بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ساتھ میاں صاحب نے کیا کیا نہیں کیا۔ آصف علی زرداری کو جب سیاسی مقدمات میں پابندِ سلاسل کیا تو وہ تصاویر آج تک موجود ہیں جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ بلاول اور بختاور کو لئے مختلف جیلوں کے چکر کاٹتی رہیں۔ کبھی فٹ پاتھ پر گرمی میں بیٹھیں جواب کا انتظار کرتی رہیں۔ آج نواز شریف تیس گاڑیوں کے قافلے میں احتساب عدالت کے دروازے تک آتے ہیں تو پیشیاں گنواتے ہیں خیر وہ بھی ایک وقت تھا۔ پھر اسی بےنظیر کو جب سکھر جیل میں رکھا اور جو سلوک ان کے ساتھ وہاں رکھا گیا وہ یہاں لکھے جانے کے قابل نہیں ہے۔ سلام ہے اس بہادر و اعلیٰ ظرف عورت کو کہ جب طاقت میں آئی تو بےنظیر نے انتقامی سیاست نہیں کی۔ خیر، بی بی کا موازنہ نواز شریف کے ساتھ بنتا نہیں ہے، وہ ایک بہت اعلیٰ ظرف خاتون تھیں۔

میاں محمد نواز شریف خود ذولفقار علی بھٹو اور مریم نواز کو بےنظیر بھٹو تعبیر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ جبکہ یہ موازنا بنتا ہی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی اگر چاہتے تھے تو ضروری تھا کہ مریم نواز کو اس انتخابی مہم میں مکمل طور پر آزاد کرتے کیوں کہ رہنما ہمیشہ مزاحمت کرنے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے سے بنتا ہے۔ بلاول اگر بےنظیر بھٹو شہید صاحبہ جتنی مقبولیت حاصل نہیں کر سکا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ بلاول کو وہ حالات نہیں ملے جو کہ بےنظیر بھٹو کو ملے۔ ان کے والد صاحب کو پھانسی چڑھایا جا چکا تھا اور ایسے وقت میں جب وہ عوامی طاقت کی بلندیوں پر تھے۔ مارشل لاء کا دور تھا اور بےنظیر نے ان حالات میں بہت مصائب کا سامنا کیا۔ جس کے باعث وہ والد والا مرتبہ نہ سہی لیکن ایک بہت بلند سیاسی قد بنانے میں کامیاب رہیں۔ مریم نواز حلقہ چھوڑ کر ایک ایسے حلقے میں جا چکی ہیں جو کہ مسلم لیگ کے لئے نہایت محفوظ حلقہ ہے۔ وہاں سے مریم نواز کی جیت کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس پر مریم نواز کا مؤقف تھا کہ ان کے ساتھیوں کو بندشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، مسلسل دباؤ تھا اس لئے وہ حلقہ چھوڑ کر اس محفوظ حلقے میں آگئیں۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر مریم نواز وہاں سے لڑتیں اور دباؤ کا مقابلہ کرتیں، تو شاید بےنظیر نہ سہی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا آغاز ہی کرلیتیں۔ ورنہ مریم نواز کو یہ سمجھنا ہو گا بغیر جدوجہد کے وہ سیاسی جماعت کی قائد تو بن سکتی ہیں مگر ایک سیاسی ورکر و رہنما نہ بن سکیں گی۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    متسسفانہ آپکے مضمون سے شریف خاندان کے ساتھ نرم گوشہ رکھنے کی بو آرہی ہے۔ بھلے آپ نکار کریں۔ آپ کس حجت کے تحت فرما تھے ہیں کہ اگر فلاں رویہ اختیار کرتے تو صاف بچنے میں کامیاب ہو جاتے۔ آپ نے بھٹو کا حولہ بھی دیا ہے۔ جو کسی بھی طرح نواز کے جرائم سے دور دور تک مطابقت نہیں رکھتا۔ نواز ننےمفلس قوم کے جیبوں پہ بڑی بے دردی سے ھاتھ صاف کیا، یہی نہیں ملک دشمن بھارت کے ساتھ کلم کھللا مودی اور جندال سے مل کر اپنی اس قوم کے خلاف غدارانہ سازشیں کیں جس قوم نے اس نیم پڑھے، انڈر ایوریج شخص کو ایک نہیں تین بار وہ عزت بخشی جسکی مثال دنیا کی تاریخ میں بمشکل سےملتی ہے۔ ۔۔۔۔مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ حکومت پاکستان کم سے کم دو بوسیدہ نام نہاد شخصیات ، نواز اور زرداری کی تاریخ پیدائش کو روز ہاےء ماتم ڈکلیئرکرکے یہ ہدایت کرے کہ مذکورہ ماتم ڈیوٹی پاورز کے بعد ہو گا۔ کام کا وقت ان ککمبختوں پہ ضائع نہ کرنے کی پابندی ہو۔

تبصرے بند ہیں.