ہندوستان میں اردو بولنے والے کہاں گم ہوگئے؟

1,215

ہندوستان کی آزادی کے بعد ہر دہائی میں اردو بولنے والوں کی تعداد بتدریج بڑھتی رہی ہے لیکن اب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اردو بولنے والوں کی تعداد چار فی صد سے بھی کم ہوگئی ہے۔

1971 کی مردم شماری میں اردو بولنے والوں کی تعداد دو کروڑ 86 لاکھ تھی جو دس سال بعد 1981 میں ساڑھے تین کروڑ ہو گئی تھی۔ اس کے بعد 1991 میں یہ تعداد چار کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور 2001 میں یہ تعداد پانچ کروڑ 15 لاکھ تک بتائی گئی تھی۔ مگر 2011 کی مردم شماری میں اردو بولنے والوں کی تعداد صرف چار فی صد رہ گئی اور اردو اب ساتویں نمبر پر گر گئی ہے۔

سخت حیرت کی بات ہے کہ اردو بولنے والوں کی اتنی بڑی تعداد آخر کہاں گئی؟ اردو بولنے والوں کی تعداد میں اچانک اتنی کمی کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ اردو بولنے والے اردو کو اپنی مادری زبان درج نہیں کراتے ہیں۔

اتر پردیش اردو بولنے والوں کا وطن مانا جاتا ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد پونے چار کروڑ ہے لیکن صرف ایک کروڑ افراد نے اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر درج کرایا ہے۔ یہی حال بہار کا ہے جہاں اردو بولنے والے مسلمانوں کی آبادی پونے دو کروڑ ہے لیکن صرف 87 لاکھ افراد نے اپنی مادری زبان اردو درج کرائی ہے۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دس برس میں ہندی بولنے والوں کی تعداد میں دس کروڑ کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ہندی بولنے والوں کی تعداد 42 کروڑ سے بڑھ کر اب 52 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندی، اردو بولنے والوں کو کھاتی جارہی ہے اور اردو بولنے والے نہ جانے کیوں اپنی مادری زبان اردو درج کرانے کے بجائے ہندی درج کراتے ہیں۔

ہندوستان کے آئین میں کسی زبان کو قومی زبان تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ ہندی کو بھی یہ درجہ نہیں دیا گیا ہے البتہ اسے صرف انگریزی کے ساتھ سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ آئین میں 22 زبانوں کو تسلیم کیا گیا ہے جن میں ارد و بھی شامل ہے۔

اردو، جموں و کشمیر کی ریاستی سرکاری زبان تسلیم کی گئی ہے اسی کے ساتھ بہار، جھار کنڈ، تلنگانہ، اور اتر پردیش میں اردو کو اضافی ریاستی سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.