عبرت غداروں کا پیچھا کرتی ہے

2,589

نااہل حکمرانوں، خود غرض طالع آزمائوں اور ملت کے غداروں سے تاریخ نے ہمیشہ عبرت ناک انتقام لیا ہے۔ نواز شریف آج در بدر ہے تو اس کا سبب بھی اس کی نااہلی، خودغرضی، حرص، ہوس اور لالچ تھا جس نے اسے اپنوں کا غدار بنا ڈالا۔

ریاست پاکستان کا کل کا وزیراعظم اپنی حرص، ہوس، خود غرضی اور لالچ کی وجہ سے غیروں کا آلہ کار بن کر آج اپنے ہی وطن کی زمین کو خود پر تنگ کر بیٹھا ہے۔

آج لندن سے جب دونوں باپ بیٹی کو میڈیا پر بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کسی اجڑے ہوئے مسافر کی طرح اداس شکلوں کے ساتھ گلوگیر آواز میں اپنا مدعا بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے ہسپانیہ کے آخری تاجدار ابوعبداللہ کا الحمراء کی طرف آخری بار پلٹ کر دیکھنا اور آنکھوں سے رواں آنسو یاد آ جاتے ہیں۔ اس کو روتا دیکھ کر اس کی ماں نے کہا تھا کہ ‘عبداللہ جس چیز کے لئے مردوں کی طرح لڑ نہیں سکے، اس شے پر عورتوں کی طرح آنسو بھی مت بہائو۔’ لندن میں میڈیا سے بات کرتے باپ بیٹی کو دیکھ کر میرے کانوں میں ابو عبداللہ کی ماں کے غیرت و اہمیت میں ڈوبے الفاظ  گونجنے لگتے ہیں۔

المیہ یہ رہا کہ میاں نواز شریف کو تین بار اس ملک پاکستان کا حکمران بننے کا موقع ملا۔ بجائے اسکے کہ وہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں اپنا نام درج کرواتے، انکا سارا دور ٹکراؤ کی سیاست پر مبنی تھا۔ اداروں کو کمزور اور شخصیات کو طاقتور کرنا انکی اولین ترجیح تھی جس کا خمیازہ وہ آج بھگت رہے ہیں۔

جلا وطنی، این۔ آر۔ او کی وساطت سے ختم ہوئی تو فوج کو زیر نگیں رکھنے کے لئے بیرونی آقائوں سے ساز باز کر لی۔ نواز شریف جو اقتدار کی ہوس میں اس قدر اندھا ہو گیا کہ یہ بھی بھول گیا کہ افواج کسی بھی ملک کا دفاعی حصار ہوتی ہیں۔

جس ملک کی فوج ٹوٹ جائے یا کمزور پڑ جائے یا اپنی خود اعتمادی کھو دے، وہ ملک اور ریاستیں بھی سلامت نہیں رہتیں۔

پس نواز شریف نے اپنی ہی فوج کے خلاف غیروں کے اشاروں پر چلنا شروع کر دیا۔ انڈین را تک سے مراسم بنا لئے۔ را کے آزادانہ پاکستان میں آنے جانے کے لئے راستہ ہموار کیا اور سازشوں کے تانے بانے بنے جانے لگے۔

نواز شریف نے اپنی ہی قوم کے پیٹ میں چھرا کھونپنے کی کوشش کی۔ آج اللہ رب العزت نے اسے نشان عبرت بنا بھی دیا اور ابھی مزید رسوائیاں اس کا مقدر ہیں۔

نواز شریف کے نو رتنوں نے اسے اتنی ہوا دی کہ وہ اپنی ہی قوم کی سلامتی کا دشمن بن گیا۔

ابو عبداللہ کو تو غیروں نے آ کر الحمراء سے بےدخل کیا تھا، نواز شریف کو اپنوں سے بے وفائی کی وجہ سے خود ہی ترک وطن کرنا پڑ رہا ہے۔

بیگم کلثوم نواز کی علالت کو لے کر جو سیاست کی جا رہی ہے، وہ سمجھ سے باہر ہے۔ ہماری دعا ہے اللہ پاک انہیں شفا عطا فرمائے۔

مگر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ پہلے کینسر پھر وینٹیلیٹر، آج تک ہارلے اسٹریٹ کلینک کے کسی ترجمان یا ڈاکٹر کا آفیشلی بیان سامنے نہیں آیا۔ بیگم کلثوم نواز ممبر قومی اسمبلی رہی ہیں، لیڈر رہی ہیں۔ لیڈر کے معاملات پبلک پراپرٹی ہوجاتے ہیں مگر کیا کریں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اگر بیگم کلثوم نواز کی صحت کو لے کر میاں صاحب کوئی سیاست کر رہے ہیں تو انہیں اسکا مزید نقصان اٹھانا پڑ سکتآ ہے۔ سنا ہے لوگ غلطیوں اور ٹھوکروں سے سیکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ پیر پر کلہاڑی نہ ماریں مگر تاریخ گواہ ہے میاں صاحب نے ہر بار اپنا پیر کلہاڑے پر مارا ہے۔

آج میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ میں مریم نواز صاحبہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ان کی آواز، ان کی باڈی لینگویج اور ان کے چہرے کے تاثرات سے بلکل عیاں تھا کہ وہ سوگ کے عالم میں ڈوبی ہمدردی کی طلب گار ہیں۔

مگر ناس ہو اس دنیا طلبی کا، اس قوت و اقتدار کی طلب کا جو رشتوں کا خون کر کے بھی بھوکی کی بھوکی ہی رہتی ہے۔

یہ عبرت کی علامتیں ہیں۔ اقتدار کے پیچھے بھاگنے والوں کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہئیے اور اپنے عمال و کردار کو اس حد تک بہکنے سے بچائے رکھنا چاہئیے جہاں سے اپنی قوم اپنی ملت کے حقوق کو پامال کر کے اپنی نسلوں کی آسائشوں کا ساماں پیدا کرنے کی حرص اور ہوس بڑھنے لگے۔ اور ملک و ملت سے بہت دور کر دے اتنا دور کہ پھر ابوعبداللہ کی ماں بیٹے کی بےبسی کے آنسو دیکھے تو وہ ماں یہ نہ کہے کہ عبداللہ جس چیز کی حفاظت مردوں کی طرح نہیں کر سکے اس پر عورتوں کی طرح آنسو بھی مت بہائو۔

 

محمد جاوید قریشی ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کرتے ہیں۔ لیبریونین سے وابستہ ہیں اور سوشل ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

12 تبصرے

  1. Shirazi کہتے ہیں

    غدار پاکستان نواز اپنے پیر پہ کلہاڑی اگر ماری ہو تو اسکا بطور پاکستانی مجھے کوئی پریشانی نہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ اس غدار اعظم نے میرے پیارے وطن کے گردن پہ کلہاڑی مارنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ بھلا ہو ہماری دلیر ،جانثاراور عظیم فوج کا کہ وہ ایک سیسہ پلائی دیوار کی مند اس مٹی کے ہر ذرے کی حفاظت اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر کر رہی ہے۔

  2. محمدجاویدقریشی کہتے ہیں

    بیشک شیرازی صاحب ملت فروشی میں نواز شریف نے حد کر دی ۔انجام عبرت دیکھ کر بھی وہ اپنے اعمال بد سے رجوع پر راضی نہیں۔دیکھیں تاریخ اس کردار کا کیا حشر کرتی ہے۔

  3. Umar کہتے ہیں

    قریشی صاحب، آپ کا تجزیہ بالکل درست ہے میں اس سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ البتہ مجھے آپ کی توجہ اس امر کی طرف دلوانی ہے کہ براہ مہربانی آپ اپنی تحریر میں خالص اردو کا ستعمال کریں۔ مثلا ” خراب صحت کو لے کر” کی بجائے “خراب صحت کو وجہ بنا کر” کا استعمال کریں۔ ہماری پیاری اردو میں ہندی کی ملاوٹ مناسب نہیں اور نہ ہی اس کی حاجت ہے۔

  4. Tahir کہتے ہیں

    I am surprised to see the short sighted approach of Mr Javed Qureshi about Mian Nawaz Sharif. After Zia Ul Haq army tenure the democratic government were not independent to work out on their strategy. The dictators like Zia and Musharaf never allowed other specially civilian institutions to grow.
    Out of two dictator , Zia died and Musharaf survive , he is fully supported by his institution because they are the one who dictate what is right and what is wrong.
    I remember the day when Ayub Khan government was running publicity of his 10 golden years and the train which was showcasing his success was passing Multan at the same time in Multan people specially student were chanting slogan against him and suddenly the most popular leader was started calling him with bad names.
    History will write that peoples like Mujeeb , Bhutto , Benazir , Nawaz and many more were not bad leader they were the victim of our institutions which don’t like democratic civilian government to survive.

    1. Shirazi کہتے ہیں

      With respect and regret your analysis of recent past to which I myself am a witness, is nowhere near reality. Whoever so for, with exception to a couple souls, came into the magic ring of Pakistan politics, unfortunately totally negated the first principle of politics which is the determination, sincere and relentless effort of a single sentence to materialize and that is “ It is not what a country will give me rather it is what I as citizen and a leader can give to my country. Non of the politicians you named in your above article even tried to practice what this tiny sentence I have quoted. Appart, the word “vacuum” exists only in dictionary, in any sphere of life it doesn’t, politics is no exemption. If Mohammad Ali Jinah can snatch the independence of Pakistan from the multiple bloody claws of the most powerful, most cunning’s and crookeds and remain triumphant then no obstacle and no excuse remain for a real politician to get success from the custody of any power. But ….but … but you need a real …real selfless politician..

  5. عبدالحسیب کہتے ہیں

    قریشی صاحب نواز ابھی عبرت کانشان نہیں بنا. بن ضرور جائیگا عنقریب.
    ویسے تو سارے نام نہاد سیاستدان ھیں. اندر سے سبھی ملک و قوم کے غدار ھیں.

  6. محمدجاویدقریشی کہتے ہیں

    عبدالعصیب صاحب آپ درست فرماتے ہیں ۔مگر میرے نزدیک تو نواز شریف اسی دن نشان عبرت بن گیا تھا جس دن میاں محمد شریف صاحب کی بہو کلثوم نواز اور پوتی مریم نواز اپنے میاں اور باپ کے سیاسی گناہوں کا کفارہ ادا کرنے میدان سیاست میں کودیں ۔ اور پھر خود بھی عبرت کی علامت بنتی چلی گہیں۔

  7. محمدجاویدقریشی کہتے ہیں

    عبدالحسیب صاحب آپ درست فرماتے ہیں ۔مگر میرے نزدیک تو نواز شریف اسی دن نشان عبرت بن گیا تھا جس دن میاں محمد شریف صاحب کی بہو کلثوم نواز اور پوتی مریم نواز اپنے میاں اور باپ کے سیاسی گناہوں کا کفارہ ادا کرنے میدان سیاست میں کودیں ۔ اور پھر خود بھی عبرت کی علامت بنتی چلی گہیں۔

  8. عمران خان کہتے ہیں

    ہم تو یہ جانتے ہیں کہ حب الوطنی صرف ہمارے جرنیلوں کا استحقاق ہے چاہے وہ کشمیر بیچ دیں یا ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرا دیں یا کارگل میں سجیلے جوانوں کو اپنے مکروہ عزائم کی بھینٹ چڑھا دیں یا امریکہ کے سامنے پوری قوم کو سجدہ ریز کرا دیں ۔۔۔۔۔ باقی رہے غدار تو ۔۔ وہ بلڈی سویلین ہی ہوتے ہیں۔
    آپ کی تحریر میں بوٹوں کی مہک سے لبریز ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

    1. Shirazi کہتے ہیں

      جن قربانیوں کی مرہون منت آج آپ آزادی سے سانس لے رہے ہیں وہ کسی نام نہاد سیاستدان کے ہرگز مرہون منتنہیں۔ وہ ہماری جری فوج ہے۔ اگر سیاستدانوں بالخصوص نواز اور زرداری کے ہاتھ میں اختیار ہوتا تو آج ہم کسی ناروا، بدبودار دشمن کی گود میں بیٹھ کر ناکامی نامرادی کے قصے سنا سنا کر اپنے گریبانوں کو اپنے ہی آنسووں سے تر کررہے ہوتے۔

  9. محمدجاویدقریشی کہتے ہیں

    عمران خان صاحب میں نہیں جانتا کہ آپ نے کیسے محسوس کر لیا کہ میں نے کہیں بوٹ والوں کی چاپلوسی کی ہے۔البتہ میں اتنا ضرور کہوں گا۔اگر ہمارے سویلین اہل ہوتے تو کبھی کسی دور میں بھی فوج سویلین گورنمنٹ سے باہر ہو کر کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتی تھی۔ایوب خان صاحب سے مشرف تک ہر فوجی آمر اور ڈکٹیٹر کو خود سیاستدانوں نے مدد اور معاونت فراہم کی تو انہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا اور سالوں تک اقتدار میں بیٹھے رہے۔باقی کارگل ،کشمیر اور دیگر دفاعی معاملات بھی اگر حکومت اہل ،ہاتھوں میں ہوجرحت مند قیادت ہوقوت فیصلہ کرنے والی لیڈر شپ ہو دوراندیش اور معاملہ فہم لیڈر شپ ہو تو ایسے حالات و واقعات سے بھی نمٹا جا سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.