پراسرار نشان

2,854

آج ہمارا موضوعِ سخن کھڑی چٹانوں کا مسافر، پتھریلی ڈھولوانوں کا کھوجی، بے حیات پہاڑوں کا باسی اور برف پوش چوٹیوں کی رونق ہے۔ اسے طاقت کی علامت اور شجاعت کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا گوشت لذیز، کھال قیمتی، جھاگ امرت، سینگ نادر، کھر نایاب، بال سلکی اور آنکھیں بلوری ہیں۔ اس بے سکون کی ٹھوڑی پر بے حجام داڑھی اور گردن پر لچکتے بال دیکھ کر بے اختیار ڈارون یاد آ جاتا ہے۔

یہ کوہِ سلمان، ہندوکش اور ہمالیہ کے بلند سلسلوں میں کلیلیں کرتا، کلانچیں بھرتا اور چھلانگیں لگاتا پھرتا ہے۔ یہ ہزار گنجی کی ریل پیل، چترال گول کی چہل پہل، بلتی فورٹس کی تب و تاب اور گلگتی ڈرائنگ رومز کی زینت ہے۔ عمودی چٹانوں پر اس کی کیٹ واک دیکھ کر دل ڈولتا ہے، مجال نہیں کہ کوئی قدم غلط پڑے۔

یہ خوش رفتار ہی نہیں خوش خوراک بھی ہے۔ شاہ بلوط اور صنوبر سے ناشتہ کرتا ہے۔ چونکہ فطرتاً عاجز ہے اس لیے جڑی بوٹیاں، گهاس پھوس، پتے شاخیں جو خشک و تر میسر ہو کھا لیتا ہے۔ کم گو ہے لیکن حسبِ ضرورت ممیاتا ہے۔ اپنے سینگوں کے بانکپن کے باوجود مور کی طرح مغرور نہیں ہے۔ اپنوں سے فاصلے پر رہ کر ان کی حفاظت کرتا ہے اور کسی لمحہ اپنی اس ذمہ داری سےغافل نہیں ہوتا۔

ویسے تو اس کی ہر چیز قیمتی ہے لیکن اس نے ایک دنیا کو اپنے تاج کے چکروں میں الجھایا ہوا ہے۔ اس لیے اس پر ٹکٹکی باندھنے کی قمیت ایک کروڑ روپے تک ہے۔

یہ ہمارے قومی نشانات میں سے ایک ہے۔ 1954 میں اس تاجور کے لیے سایہ دار دیوداروں کے نیچے سرسبز تخت بچھایا گیا، جس کے ایک طرف چکوریوں اور دوسری طرف چنبیلیوں کی نشستیں لگی ہوئی تھیں۔ ہر قومی نشان کسی نہ کسی ادارے نے اپنی علامت (لوگو) بنا لیا لیکن اسے کسی نے دیکھنا گوارہ نہیں کیا۔ مدتوں بعد اس وقت اس کا نصیب جاگا جب ”ڈبل آئی” پر اس کے نام ”مارخور” کے فاتحانہ اسرار کھلے اور اس نے اسے اپنی پہچان بنا لیا۔

ڈبل آئی کی مداحوں میں نشان کے حق اور مخالفت میں بحث چھڑ گئی۔ مخالف کہنے لگے کہ کسی چرند کا سانپ کھانا کہانی ہے۔ یہ حقیقتوں کا دور ہے۔ لوگو خوش رنگ اور خوش شکل ہونا چاہیے۔ یہ بھورا سیاہی مائل، بے ترتیب بال، ٹیڑھے میڑھے سینگ اور منہ میں سانپ کراہت آمیز تاثر دیتا ہے۔

حمایتی کہنے لگے کہ مارخور کا نام اور صفات ڈبل آئی کے مشن سے غیرمعمولی مطابق رکھتی ہیں۔ اس میں عربوں کی بکری اور عجم کی سینگ کی مضبوط روایت جھلکتی ہے۔ کبھی فارس میں سردار کے تاج میں سینگ (شاخ) ہوتے تھے، لفظ شاخ کو وقت نے شاہ بنا دیا، بادشاہت کا یہ نشان ڈبل آئی کے شایانِ شان ہے۔

ہمیں مخالفوں کی باتیں زیادہ اپیل کرتی تھیں لیکن اپنی پاک دھرتی پر جب شیش ناگوں کی دھشت پھیلی تو مارخور کے کردار نے ہمارا دل جیت لیا۔ مارخور نے ایک ایک کو جا لیا، کچھ کو چبا دیا، کچھ کو اپنے قینچی نما کھروں سے کتر دیا، کچھ کو اپنی سانس سے ان کے بلوں سے نکال باہر کیا، عبرت کے لیے ایک کالا شیش ناگ اب بھی اس کے منہ میں ہے۔

ایک سنگل آئی ادارے کو اپنی حالت بدلنے کے بجائے اپنا لوگو بدلنے کی سوجھی۔ اس مقصد کے لیے اس نے قومی نشانات پر نگاہ ڈالی تو دیودار جھلسے ہوئے تھے، چکور فارمی تھے، چنبیلیوں کا رس نکلا ہوا تھا، ایک مارخور تھا جو چمک رہا تھا۔ اس چمک نے سنگل آئی کی آنکھیں خیرہ کر دیں۔ مارخور کو اپنا نشان بنانے کے لیے اس نے معتبر ترین قومی نشان سبز ہلالی پرچم کھرچ ڈالا جس کا تحفظ مارخور کا ماٹو ہے اور جس کی نگرانی وہ چوبیس گھنٹے دور بیٹھا کرتا رہتا ہے۔

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Ghulam Mustafa کہتے ہیں

    One of the best piece of writing, after long time. I would love to read from this author more.

  2. حبیب گوہر کہتے ہیں

    بہت شکریہ ڈئیر غلام مصطفیٰ !

تبصرے بند ہیں.