حلال مفاد پرستی

2,579

مفاد پرستی ایک ایسا عمل ہے جس کے مقابلے میں قوم پرستی اور مذہبی بنیاد پرستی بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ مفاد پرستی میں اپنے مفادات کی خاطر کسی بھی حد تک جایا جاسکتا ہے۔

بزرگوں سے سنا ہے کہ کام کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آج کل کے گدھوں میں بھی شعور آچکا ہے۔ جب گدھے کو علم ہوجاتا ہے کہ سامنے والا شخص اسے گدھا سمجھ کر استعمال کر رہا ہے تو اس کا ضمیر جاگ جاتا ہے اور پھر وہ گدھا اپنے مالک کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے۔

مفاد پرست سیاست دان کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے اپنا مفاد لازمی دیکھتے ہیں اور جب کسی کو لات مارتے ہیں تب بھی اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں۔ جس کے بعد سیاست دانوں کی ساری عمر اپنے حمایتیوں کو دو باتیں سمجھانے میں گزر جاتی ہیں۔ ایک کہ میں نے اس سے ہاتھ کیوں ملایا تھا اور دوسرا کہ میں نے اب اسے لات کیوں ماری ہے۔

بزرگوں سے یہ بھی سنا ہے کہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتی جو اپنا ماضی بھول جاتی ہیں۔

چوہدری نثار علی خان جنہوں نے اپنی ساری زندگی اپنے نااہل قائد جناب نوازشریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ ن کے لیے وقف کردی مگر حال ہی میں ضمیر جاگنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ نواز شریف انہیں گدھا سمجھ کر استعمال کر رہے تھے جس کے بعد انہوں نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کرلی اور آزاد حیثیت میں مسلم لیگ ن کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ چناچہ اب چوہدری نثار اپنے چاہنے والوں کو دو باتیں سمجھانے میں انتہائی مصروف ہیں کہ میں پہلے نوازشریف کے ساتھ کیوں تھا اور اب ساتھ کیوں نہیں ہوں۔ یہ دو باتیں سمجھانا اتنا آسان نہیں کیونکہ عوام اب بھولی نہیں رہی۔

99498204423c675ead28a674821bbc72_XL

ایک وقت تھا جب نوازشریف اپنے پیارے بچے شیخ رشید کو چوم رہے تھے اور شیخ رشید اپنے آپ کو انتہائی خوش نصیبی سمجھا کرتے تھے مگر آج شیخ رشید صاحب اسی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونا اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں جس نے ببانگِ دہل کہا تھا میں  شیخ رشید کو کبھی اپنا چپڑاسی بھی نہیں رکھوں گا۔

268103_18715765

ایک وقت تھا جب مصطفیٰ کمال اپنے قائد الطاف حسین کو والدِ محترم کہا کرتے تھے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر میں ٹیلیفون آپریٹر کی کرسی سے اپنا سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ ناظم کراچی اور سینیٹر کی کرسی کے مزے لوٹنے کے بعد ان کا ضمیر جاگا جس کے بعد انہوں نے اپنے سیاسی والد کو شرابی اور غدار کا لقب دے دیا۔ اب وہ اپنے والد کی جماعت کے خلاف الیکشن لڑنے کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں۔ ساتھ میں اپنے چاہنے والوں کو دو باتیں سمجھانے میں بھی انتہائی مصروف ہیں کہ میں پہلے اپنے سابقہ والد کے ساتھ کیوں تھا اور اب ضمیر جاگنے کے بعد ساتھ کیوں نہیں ہوں۔

3045698071_2aa2e17a79 (1)

ایم ایم اے دینی جماعتوں کے اتحاد کی بات کریں تو یہ پچھلے الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے۔ مگر حالیہ الیکشن میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے بعد اپنے حمایتیوں کو وہی دو باتیں سمجھا رہے ہیں کہ ہم پہلے ایک دوسرے کے خلاف کیوں تھے اور اب اسلام کی خاطر ایک دوسرے ساتھ کیوں ہیں۔ یہ بھی دو باتیں سمجھانا اتنا آسان نہیں کیونکہ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔

413734_55757469

معصوم عوام بھی آئیندہ الیکشن میں حلال مفاد پرستی کرتے ہوئے مفاد پرست سیاست دانوں کی طرح اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پسندیدہ جماعت کو کامیاب کرانے کے لیے اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کرے گی۔

 

عدنان احمد نے کامرس میں بیچیلرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. raza کہتے ہیں

    Dear writer:
    It is a long list of like or dislike between the politicians but whey we forget very important game changer of this so called democracy “AWAM”. We always listen yes he or she is corrupt but we vote them he or she is bed or dishonest but we vote them etc etc. The problem of our peoples are they are educated but the literate and until you make a difference in good or bed, wrong and right and vote only for these so called politician (because they are business man not politician) we are on the same conditions.

  2. عدنان احمد کہتے ہیں

    Dear viewer Raza Shb.
    I am fully agree with your opinion. Thanks.

تبصرے بند ہیں.