ہم کب بدلیں گے؟

924

وطن عزیز کے معاشرتی، سماجی اور سیاسی حالات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سیاستدانوں کی جانب سے حساس اور انصاف کے اعلیٰ ترین اداروں پر بے جا تنقید اور تضحیک آمیز جملوں کی بوچھاڑ نے ملکی سیاست کی کینوس پر جو رنگ بکھیرے ہیں، اس سے نہ صرف وطن عزیز کا تشخص مجروح ہوا ہے بلکہ سیاست کی ایک انتہائی بھونڈی تصویر بھی سامنے آئی ہے جو اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ سیاست دان اپنے ملکی اداروں کا کس حد تک احترام کرتے ہیں۔

اب ہر طرف عام انتخابات کا شور و غوغا ہے۔ پرانے شکاری نئے نئے جال لا رہے ہیں۔ ہر طرف دشنام طرازیوں کا بازار گرم ہے۔ الزامات کی سیاست اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ سیاستدان کارکنوں کی تربیت کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔

کتنی مدت ملک میں آمریت رہی اور کتنا عرصہ جمہوری دور۔ موضوع بحث یہ نہیں۔ یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ زندگی کو حسین بنانے کے خواب اور ان کی خوفناک تعبیریں، بنیادی حقوق کی قدم قدم پر پامالی کبھی جمہوریت اور کبھی مذہب کے نام پر۔ دولت و اقتدار کی وہی ہوس اور ہوس کی وہی بے شرمیاں۔ جبرو استبداد، ظلم و بربریت، سفاکیت کی ان کہی داستانیں۔ لوٹ کھسوٹ، تھانہ کلچر، درباری سازشیں، ملکی مفادات کے وہی شرمناک سودے عوامی مسائل سے رو گردانی، ضمیر انسانی کے جمعہ بازاروں میں خرید وٖ فروخت کا کاروبار، وقار انسانی کی تذلیل و بے حرمتی۔ جلوت میں اخلاق، ایمان اور دیانتداری کے وعظ جبکہ خلوت میں ان وعظوں کی نفی۔ گھمنڈ، تکبر، غرور، طاقت کے نشے اوراس کے لازوال ہونے پر یقین محکم کا ہونا معاشرتی ڈھانچے کے لئے زہر قاتل ثابت ہوا۔ سیاسی مصلحتوں، شخصی پرستش کے خول سے نکل کر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو گھر کی تباہی و بربادی کا نوحہ لکھنے والوں کی فہرست میں نہ صرف پردہ نشینوں کے نام ملتے ہیں بلکہ وہ صورتیں بھی دکھائی دیتی ہیں جن کے بارے کبھی گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اب ایک بار پھر وہی زندہ باد کے نعرے اور آوے ہی آوے کا شور۔ بلند وبانگ دعوے اور تقدیر بدلنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ عوام بے چاری کا کوئی پرسان حال پہلے تھا نہ اب دن بدلے جانے کی انہیں کوئی امید ہے۔ بلکہ جو حالات پیدا ہو چلے ہیں اس سے تو ظاہر ہو رہا ہے کہ دال جوتیوں میں بٹنے کے خدشات زیادہ ہیں۔ سیاسی حالات نے جس طرح پلٹا کھایا ہے ان حالات کے پیشِ نظر یہ کہہ دینا کسی بڑی سیاسی پیش گوئی کے زمرے میں نہیں آتا کہ پارلیمنٹ معلق بھی ہو سکتی ہے۔ باہم دست و گریبان اور ایک دوسرے پر نجی اور عائلی زندگی کے حوالے سے سنگین بلکہ غلیظ الزامات لگانےوالے ایوان میں کس طرح یکجا ہو سکیں گے، یہ بڑا سوال ہے۔

سیاستدانوں نے سیاسی پِچ پر جس طر ح میچ کھیلا وہ کھیل کے بنیادی اصولوں سے متصادم رہا۔ المیہ یہ ہے کہ اس سارے کھیل میں سینئر رہنماؤں نے بھی اپنا کردار ادا نہیں کیا بلکہ آنکھیں موند کر وہ یہ سیاسی دھینگا مشتی کو دیکھتے رہے اور عوامی مسائل آنکھوں سے اوجھل رہے۔ اب جبکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک مسلم لیگ نواز پر کڑا وقت ہے جبکہ پی ٹی آئی بھی متعدد مسائل سے دوچار ہے۔ پارٹی کے اندر باہمی مخاصمت، ٹکٹوں کی تقسیم پر کارکنوں کی ناراضگی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اندریں حالات سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانیوں سے عوامی اعتماد کا اٹھ جانا اور سیاستدانوں کے ساتھ جارحانہ رویے اس بات کے عکاس ہیں کہ آئندہ انتخابات میں نتائج نہ صرف امیدوں کے بر عکس بلکہ حیران کُن بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان تلخ حقائق کے باوجود اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو گا کہ ” ہم کب بدلیں گے؟” اس سوال کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ حالات تب بدلیں گے، جب ہم خود بدلیں گے۔

یوسف منہاس دنیا ٹی وی سے منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.