شادی، خوشی، بیماری یا اظہارِ برتری

1,810

پاکستان میں ٹی وی چینلز کھولتے ہی ڈارموں کے جو مکالمے سنائی دیتے ہیں ان میں یہی صدا گونجتی ہے۔

‘میں صرف کمال سے شادی کروں گی۔’

‘میں فیصل سے ہرگزشادی نہیں کروں گی۔’

‘میں اس سے بدلہ لوں گا اور اس کی سہیلی سے شادی کرکے رہوں گا۔’

‘بی بی نکاح تو کر لیں گی لیکن وہ سسرال نہیں جائیں گی۔’

ماں بولتی ہے کہ ‘بیٹے تو ابھی اپنی بیوی کو فوراً طلاق دیدے۔ میں ابھی اور اسی وقت تیری شادی شاہینہ سے کردوں گی۔’

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شادی وبا کی صورت میں پاکستان کے لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی ہے۔ ٹی وی پر صبح کے شو میں خواتین کو ان کی پرانی شادیوں کے ملبوسات میں بٹھایا جاتا ہے، ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ان کی شادیاں کیسی ہوئیں تھیں۔ پھر یہ سوال کہ دلہن کی مانگ سیدھی نکلنی چاہئیے یا آڑی۔ پھر رنگ گورا کرنے کے نسخے بتائے جاتے ہیں اور نسل پرستی کو رنگ پرستی میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جیسے گندمی رنگ اور سیاہ رنگ حقیر رنگ ہے۔ گورا رنگ ہمارے ذہنوں پر یوں چھا گیا ہے جیسے یہی اعلیٰ و ارفع رنگ ہے، شاید اس وجہ سے کہ مغلوں سے لے کر انگریزوں تک ہمارے حکمران گوری رنگت کے رہے ہیں۔

یہ سب دیکھ کر ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ شادی ہے؟ جہیزکی ناداری اور غربت کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی بڑی بڑی عمر کی لڑکیوں کی شادی کا کوئی مسئلہ نہیں؟ ڈراموں میں شادیوں کی جگمگاہٹ دکھاتے وقت ایک لمحہ کے لئے بھی اس کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ جو لڑکیاں گھروں میں شادی سے محروم بیٹھی ہیں ان کے دلوں پر کیا گذرتی ہوگی۔ بہت سی اچھی پڑھی اور خوبصورت لڑکیوں کے صرف اس وجہ سے رشتے نہیں آتے کہ وہ ڈیفنس ایسے امیر علاقوں میں نہیں رہتیں بلکہ غریب محلوں میں رہتی ہیں۔ پھر نوجوانوں کی بے روزگاری کے سنگین مسئلہ کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔ مذہب کو مسلکوں کے جال میں الجھا کرجس طرح مسخ کیا جا رہا ہے، اس پر کوئی بحث نہیں ہوتی۔

اس دوران انتخابات کی مہم نے سیاست دانوں میں دوسری شادیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کا انکشاف کیا ہے۔ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی سے پتہ چلا ہے کہ ساٹھ سے زیادہ سیاست دانوں نے ایک سے زیادہ شادیوں کی ہیں، جن میں میاں شہباز شریف، ان کے صاحب زادے حمزہ، سید خورشید شاہ، فاروق ستار، خواجہ سعد رفیق اورعامر لیاقت نمایاں ہیں۔ ان میں پچیس سیاست دان ایسے ہیں جن کی تین تین بیویاں ہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ انہیں اپنے حلقہ انتخاب میں کام کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کا کب وقت ملتا ہے۔

tehmina

Marriage-with-Imran-Khan-1

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں شادی، ازدواجی خوشی سے زیادہ شان و شوکت اور طبقاتی برتری کا اظہار بن گئی ہے۔

ایک بڑے زمیندار سیاست دان سے جنہوں نے چار شادیاں کر رکھی ہیں میں نے جب ڈرتے ڈرتے ان کی تعدد ازدواج کے بارے میں پوچھا تو سب سے پہلے انہوں نے وہی دلیل پیش کی کہ مذہب میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔ جب میں نے اس کے بارے میں کڑی شرائط کا ذکر کیا تو کہنے لگے کہ میں اتنا مالدار ہوں کہ سب بیویوں سے برابری کا سلوک کر سکتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کیا روپے پیسے سے بیویوں سے جذباتی برابری روا رکھی جا سکتی ہے؟ تو خاموش ہو گئے۔ پھر بولے کہ جو کچھ بھی ہو چار بیویوں کی وجہ سے میرے علاقے میں میری دھاک ہے اور لوگ میرے بچوں کی تعداد پر رشک کرتے ہیں۔ جب میں نے انہیں حیرت اورتعجب کی نگاہ سے دیکھا تو کہنے لگے ہمارے قائدین نے بھی تو ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں۔

قائداعظم نے بھی تو دو شادیاں کی تھیں۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ قائداعظم کی پہلی شادی ان کی اس زمانے میں ہوئی تھی جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن جا رہے تھے۔ پہلی بیوی کے ہیضہ سے انتقال کے بعد دوسری شادی بائیس سال بعد رتی ڈنشا سے کی تھی۔ پھر انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، حسین شہید سہروردی، اسکندر مرزا، محمد علی بوگرہ، غلام مصطفیٰ کھر اور ولی خان کی دو بیویوں سے شادیوں کا ذکر کیا اور زور دار فاتحانہ قہقہہ لگایا۔ اس قہقہہ کی گونج میں، میں نے کہا کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مسلمانوں میں اور خاص طور پر سیاست دانوں کے ذہنوں پر شادی کا مسئلہ اس قدر مسلط کیوں ہوگیا ہے۔

jinnah and ratibai

nehru with kamla nehru

اس کے برعکس ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کے سیاست دانوں نے اس مسئلہ سے نجات حاصل کر کے اپنے آپ کو عوام کی خدمت کے لئے وقف کرنے کو ترجیح دی ہے۔ گاندھی جی نے اپنی پتنی کے انتقال سے کئی برس پہلے ازدواجی تعلقات منقطع کر لئے تھے۔

gandhi with kasturba

دوسری شادی کا ان کے ذہن میں کبھی سوال پیدا نہیں ہوا۔ اسی طرح جواہر لعل نہرو کی بیوی کملا نہرو کے 1924میں انتقال کے بعد نہرو چالیس سال تک زندہ رہے لیکن انہوں نے دوسری شادی نہیں کی۔ پھر ان کی صاحب زادی اندرا گاندھی اپنے شوہر فیروز گاندھی کے انتقال کے بعد 24 سال تک زندہ رہیں لیکن انہوں نے بھی اس دوران دوسری شادی نہیں کی۔

یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پاکستان میں سیاست دانوں میں ایک سے زیادہ شادیوں کا شوق اس قدر کیوں موجزن ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.