پڑھے لکھے جاہل!

1,325

سکول کی زندگی انسانی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے حالات و واقعات ہمیں فلیش بیک میں لے جاتے ہیں اور ان واقعات سے جڑے سکول کے زمانے کے قصے ایک فلم کی طرح ہمارے ذہنوں میں چلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ گذشتہ رات سوشل میڈیا پر چلی ایک بحث نے مجھے اپنے بورڈنگ سکول کی یاد دلا دی۔ بورڈنگ سکول میں جب بھی ہم کسی غیرنصابی سرگرمی میں مصروف ہوتے، ایک بلند آواز ہمارے کانوں سے ٹکراتی ” اوئے پڑھے لکھے جاہلو! یہ کیا کر رہے ہو ؟” ان دنوں میں مار نہیں پیار کا نعرہ مارکیٹ میں موجود نہیں تھا اس لیے ان غیر نصابی سرگرمیوں کے آفٹر شاکس سے سنبھلنے میں تھوڑا وقت لگتا۔ جب عقل کام کرنے لگی تب میں اکثر سوچتا یہ سر غلط جملہ کیوں بولتے ہیں، ”پڑھے لکھے جاہل”۔ انسان یا تو پڑھا لکھا ہوتا ہے یا جاہل۔ دو متضاد الفاظ ایک ساتھ کیسے استعمال کیے جا سکتے ہیں؟ لیکن آج برسوں بعد سوشل میڈیا کے لاکھوں پڑھے لکھے صارفین کو دیکھ کر اس جملے پر یقین آنے لگ گیا ہے۔

چونکہ جنرل الیکشنز 2018 قریب ہیں، اس لیے سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔ وطن عزیز میں سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نہ ہونے کے سبب اس سیاسی بحث میں اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مخالفین کو گالم گلوچ اور طنزیہ جملوں سے خوب نوازا جاتا ہے اور یہی اس پلیٹ فارم کی وجہ شہرت ہے۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد ان کی جائیدادوں اور ان کی مالیت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک عجیب احمقانہ بحث شروع ہو گئی ہے۔ اصل وجہ جانے بغیر کوئی رائیونڈ میں پلاٹ خریدنے تو کوئی بلاول ہاؤس اور بنی گالا خریدنے کی بات کر رہا ہے۔ دھڑا دھڑ سٹیٹس اپ ڈیٹ کیے جا رہے ہیں۔ ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں۔ لیکن کم مالیت کی وجہ جاننے اور سمجھنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ ایسے قارئین جو یہ سب کھیل تماشہ پچھلے کچھ دنوں سےدیکھ رہے ہیں لیکن فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ تو ان کے سمجھنے کے لیے انکم ٹیکس آرڈینینس 2001 کا سیکشن 116 یہاں لکھ رہا ہوں۔

“All assets [whether purchased or inherited] should be valued at cost”

آسان لفظوں میں بیان کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا ہر شہری اپنے ٹیکس گوشوارے اپنی جائیداد کی اس مالیت کے مطابق جمع کروائے گا جو خرید کے وقت یا وراثت کی منتقلی کے تھی۔ تو سوشل میڈیا پر موجود وہ تمام پڑھے لکھے جاہل جو روز یہ مشورہ مانگتے ہیں کہ ان کے پاس اتنی رقم ہے اور وہ اس کا کیا کریں، تو ان کو میرا یہ مفید مشورہ ہے کہ وہ پلاٹ یا گھر خریدنے کی بجائے اس خطیر رقم کو اپنی تعلیم اور ریسرچ پر خرچ کریں تو زیادہ بہتر ہو گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.