عابد تنولی پاکستان کا پہلا شہید سوشل میڈیا ورکر

2,735

شہباز کی کراچی پرواز یقیناً کتنے ہی لوگوں کو پسند نہ آئی ہوگی۔ وہ شخص جس سے لاکھ اختلاف سہی مگر اس نے لاہور کو روشنیوں کا شہر بنا دیا۔ ابھی تو شہباز نے کراچی کو لاہور بنانے کا فقط اعلان ہی کیا تھا۔ ظالموں نے ‘کراچی کو کرانچی ہی رہنے دو کی صدا لگا دی’ اور وہی کراچی جو لہو میں ڈوبا ہوا کرتا تھا، الیکشن کی آمد کے ساتھ ہی پھر سے لہو میں ڈوب گیا۔ کبھی کراچی کی سڑکیں پان کے تھوکنے سے سرخ ہوتی تھیں اور نوے کی دہائی سے کراچی کی سڑکیں انسانی خون سے سرخ ہوتی ہیں۔ کبھی پان لوگ کھاتے تھے اور پھر انسانی خون کو سڑکوں پر بہانے والے ٹارگٹ کلر ساری دنیا میں کراچی کی پہچان بن گئے۔

برسوں پہلے لکھی میری نظم کے اشعار پھر لہولہان کراچی کی یاد دلا گئے۔

پڑی رہیں لاشیں راہوں میں

نہ ملے امان بانہوں میں

گھومتی رہے موت نگاہوں میں

کرتے رہیں دفن آہوں میں

عابد تنولی ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ تھا جو محفوظ الرحمن اور ارمان آفریدی کے ساتھ کراچی میں سرگرم تھا اورسندھ میں ان سب کے سربراہ خرم بھٹی ہیں۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ کراچی کا واحد حلقہ بلدیہ ٹاؤن ہی ہے جہاں ابھی سے لگتا ہے کہ الیکشن قریب ہیں۔ اتنی سرگرمیاں صرف کراچی کے اسی حلقہ میں نظرآتی ہیں اور کیوں نہ آئیں مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف جو وہاں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ کارکنوں کی خوشی دیدنی ہے۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ یہ خوشیاں ملک دشمنوں کو نہ پسند آئیں اورسوشل میڈیا ورکر عابد تنولی کو سرعام گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ یہ الیکشن دو ہزار اٹھارہ کے پہلے سوشل میڈیا ورکر ہیں جو شہید کر دیئے گئے ہیں۔ ان کا تعلق ہزارے کی سرزمین سے تھا۔ ان کے والدین کراچی کو پاکستان کا حصہ سمجھ کر یہاں آ بسے تھے لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ اب بھی کراچی میں سیاست جرم ہے۔ جو سیاست کرتا ہے اسے مار دیا جاتا ہے۔

آئیں جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کیا سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔

تیس جون شام چھ بج کر پندرہ منٹ پر خرم بھٹی نے ٹوئیٹ کی۔

عابد تنولی ممبر ایس ایم ٹی ضلع غربی پی ایم ایل این کو فردوس مسجد نزد چاندی چوک سعید آباد میں ٹارگٹ کر کے شہید کر دیا گیا ہے۔ اللہ پاک عابد تنولی کو جنت الفردس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں، آمین۔

مریم نواز نے اس ٹوئٹ پر اپنے کمنٹس فوری طور پر دیئے۔

اللّہ ! بہت تکلیف ہوئی سن کر۔ اللّہ رحم۔

 پی ایم ایل این سوشل میڈیا ونگ ہیڈ سندھ خرم بھٹی نے عابد تنولی کی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا۔

عابد تنولی شہید کی یادگار تصویر۔ اﷲ پاک عابد تنولی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

معروف سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ شینا نے عابد تنولی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا،

ایک بچی کو یتیم کردیا گیا! یتیمی کا دکھ بڑا جان لیوا ہوتا ہے!

شہیر جمال ہزاروی نے لکھا،

عابد شہید کے جنازہ میں گورنر سندھ محمد زبیر، امیدوار این اے 248 سلمان احمد خان اور دیگر رہنماؤں، کارکنان اور علاقہ کی عوام کی کثیر تعداد میں شرکت، اللہ پاک عابد شہید کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

ارمان آفریدی نے لکھا،

عابد تنولی شہید اب آپ کے دوستوں کے چہروں پر کبھی مسکراہٹ نہیں آئے گی۔

پی ایم ایل این سوشل میڈیا ونگ اور شہباز شریف کے الیکشن میں سرگرم محفوظ الرحمن نے لکھا،

آج ہی ہم نے اپنے ورکر کو سپرد خاک کیا۔ ہمیں کہا گیا جلسہ منسوخ کر دو مگر ہمارا عزم، نواز شریف تیرا ایک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمارا۔

میں نے لکھا،

محترمہ مریم نواز صاحبہ عابد تنولی سوشل میڈیا ونگ کارکن کی فیملی بیوی بچوں کی تاحیات کفالت کا بندو بست کریں۔
اس پررحمان تنولی نے کمنٹس دیتے ہوئے لکھا،

بالکل کیونکہ اس کی ایک 6 ماہ کی بچی اورغریب ماں باپ ہیں۔

فرحان سعید نے لکھا،

مہربانی کر کے عابد تنولی کی بیوی کو سرکاری نوکری دی جائے۔ مجھے یقین ہے کہ گورنر سندھ اس معاملے کو خصوصی طور پر دیکھیں گے۔ براہ مہربانی اس مسئلے کو اجاگر کریں۔ جزاک اللہ خیر۔

شہزاد چوھدری نے کمنٹس دیئے،

درست کہا ہم سب پی ایم ایل این سپورٹر بھی اس چیز کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔

ایچ پی کے ٹوئٹر ہینڈل نے مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا،

براہ مہربانی اس معاملے کو دیکھیں۔

مریم نواز ہوں یا شہباز شریف ان سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے قائد نواز شریف کے کارکن کے اہل خانہ کی نوکری اور کفالت کا بندوبست کریں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کارکن تو ہر جماعت کا ہراول دستہ ہوتے ہیں یہی تو وہ کمانڈر ہوتے ہیں جو اپنی پارٹی کی ہر طرح کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہیں۔

مجھے یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ میری درخواست کو نہ صرف مسلم لیگ نون بلکہ دیگر پارٹیوں کے ورکرزنےبھی ری ٹوئٹ کیا کیونکہ اب سب ہی جانتے ہیں کہ قربانی جو کارکن دیتے ہیں تو ہرپارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم پر اچھا برا وقت آتا ہے۔ سوشل میڈیا کارکن عابد تنولی کی شہادت تمام سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا ٹیموں کیلئے دکھ کا مقام ہے اور سب ہی اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔

سوشل میڈیا کا پہلا شہیدعابد تنولی اپنے لہو کا حساب مانگ رہا ہے تو کوئی ہے جو عابد تنولی کے بیوی بچوں کا خیال رکھے اوراس کے قاتلوں کو پکڑکر سر عام پھانسی پر لٹکا دے۔ سوچئے گا ضرور۔

ڈاکٹر راجہ کاشف جنجوعہ نے ماس کمیونی کیشن میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ یہ ایک ریسرچر، قلم کار، شاعر، کالم نگار، بلاگر، تجزیہ کار، میڈیا ایڈوائزر، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور گوگل لوکل گائیڈ ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. SHAIKH REHAN AHMED کہتے ہیں

    انسان دنیا سے چلا جاتا ہے۔ لیکن اپنے پیچھے اپنا نام اور کام ہمیشہ کیلئے سرخرو کرکے چھوڑ جاتا ہے۔ عابد تنولی شہید نے سوشل میڈیا کیلئے جو انتھک محنت کی اور اپنی زندگی تک لگادی وہ ہم جیسے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کیلئے مشلِ راہ بن گیا ۔ الله پاک عابد تنولی کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس کے اعلیٰ مقام جگہ عطاء فرمائے اور انکے لواحقین صبروجمیل. عطاء فرمائے :آم

تبصرے بند ہیں.