شیلے کی نظم ملنے لگی روحِ میر سے!

2,122

بحیثیت قوم ہم مطالعے سے دور رہے ہیں۔ فیسبک اسکرولنگ میں تو ہم بہت آگے ہیں مگر کتب بینی تو ہماری سرشت میں شروع سے ہی نہیں ہے۔ ورنہ ہمیں علم ہوتا کہ تاریخ میں ان تہذیبوں کا انجام کیا ہوا ہے، جنہوں نے اپنی ہی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کی یا ان قوموں کا جنہوں نے کسی اور قوم کے زوال کو اپنے لئے باعث عبرت نہیں جانا۔ غلطی کرنا کچھ غلط نہیں ہوتا بلکہ اس غلطی سے سبق نہ سیکھنا نہایت غلط ہوتا ہے۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جن اقوام نے اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھا، وہ کیسے ذلیل و رسواء ہو کر رہ گئیں۔ ان غلطیوں میں سے ایک غلطی ہماری قوم کا بدتوازن ہونا بھی ہے۔ وہ خواہ رویّے ہوں، مزاج ہوں، سوچ ہو، خواہ کوئی بھی چیز ہو، ہر شے توازن سے خالی۔ ہمیشہ ایک انتہا پر کھڑے ہو کر چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ تنقید مقصود ہو تو سوچے سمجھے بغیر تضحیک شروع کر دیتے ہیں اور تعریف مقصود ہو تو زمین اور آسمان کی قلابیں ملا دیتے ہیں۔ مختصر یہ کہ توازن تو ہم نے سیکھا ہی نہیں۔

ہم لوگ کیا عجیب ظالم لوگ ہیں، ایک شخص جس کی بیوی اور ایک عورت جس کی ماں وینٹیلیٹر پر ہوں، ہم ان پر تنقید کرتے ہوئے احتیاط نہیں کرتے۔ تنقید میں بھی بہت پہلے سے کرتا آ رہا ہوں اور سخت ناقد رہا ہوں۔ مگر کچھ اخلاقیات بھی ہوتی ہیں مہذب معاشروں میں۔ کیسے ٹی۔ وی۔ چینلز پر، چکوال سے ایک مسلم لیگ (ن) کے ہی سابق۔ ایم۔ این۔ اے جو کہ آج کل دانشور مشہور ہیں، تمام اخلاقیات پس پشت ڈال کر ہتھیاروں سے لیس چڑھائی کر دیتے ہیں۔ اصلاح کے لئے تنقید ضروری ہے لیکن کیا یہ ضروری نہیں کہ ہم سیاسی تنقید میں مریم نواز کی بیمار والدہ کو مت گھسیٹیں وہ بھی محض اپنی بات میں وزن ڈالنے کی ناکام کوشش کرنے کے لئے۔ پھر ہم ایسے بےشرم لوگ ہیں یہاں بس نہیں کرتے۔ بلکہ سوشل میڈیا پر مسلسل ایک پوسٹ بھی وائرل ہوتی رہی کہ خدانخواستہ کلثوم نواز انتقال کر گئی ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف اپنی بیوی کلثوم نواز سے بہت محبت کرتے ہیں اور کلثوم نواز ان کی سیاسی مشیر بھی ہیں۔ نومبر 2013 سے نومبر 2016 تک جس دباؤ سے نواز شریف گزر رہے تھے تو یہ کلثوم نواز ہی تھیں جو انہیں سنبھالے ہوئے تھیں۔ جب راحیل شریف مسلسل ایکسٹینشن کی ڈیمانڈ کر رہے تھے تو کلثوم نواز ہی تھیں جو مسلسل نواز شریف کو اس سے گریزاں رکھ رہی تھیں۔ مشرف دور میں جب سب لوگ بھاگ گئے تھے تو یہ کلثوم نواز ہی ان کی رہائی کی تحریک چلا رہی تھیں۔ کلثوم نواز بہت سے فلاحی کاموں میں بھی خاموشی سے حصہ ڈالتی رہی ہیں جو یہاں لکھنا شاید مناسب نہ ہو گا۔ خدا سے دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزت کلثوم نواز کو صحت عطا کرے۔

ملکی حالات اس وقت انتہائی نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ کچھ قوتیں مسلسل کوشش میں ہیں کہ کسی طرح انتخابات تاخیر کا شکار ہو جائیں اور انہیں “پولیٹیکل انجینئیرنگ” کا کچھ وقت اور مل سکے۔ جس کی ایک کڑی کل بلاول بھٹو پر ہونے والا پتھراؤ بھی ہے۔ پیپلز پارٹی پر مسلسل دباؤ ہے کہ وہ انتخابات میں تاخیر کی حمایت کر دے لیکن وہ تو خدا بھلا کرے پیپلز پارٹی میں موجود نظریاتی لوگوں کا جو دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ یہ اکیلا واقعہ نہیں ہے اور بھی بہت سے طریقوں سے کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح ان کی حمایت حاصل ہو جائے۔ یہاں قابلِ غور نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ پتھر اور لاٹھی کا سیاست میں دخل کیا کوئی اچھا ٹرینڈ ہے۔ طاقتور قوتوں کو اپنے طرزِ عمل پر سخت غور کرنے کی ضرورت ہے۔

رانا اقبال سراج سے ایک دوست کے توسط سے دو ملاقاتیں رہی ہیں۔ یہ ملاقاتیں عام حالات میں ہوئیں۔ اقبال سراج ملنے میں ٹھہرے ہوئے مزاج کے بھلے آدمی معلوم ہوتے ہیں اور بہت مہمان نواز بھی ہیں۔ ان کی میڈیا ٹاک کی فوٹیج جب سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی، تو مجھے سخت حیرانی ہوئی۔ کیونکہ اس وقت اقبال سراج ڈرے ہوئے بھی معلوم ہورہے تھے، ان کی زبان بھی لڑکھڑا رہی تھی۔ سخت دباؤ کے زیرِ اثر محسوس ہو رہے تھے۔ میں نے اسی دوست سے دوبارہ رابطہ کیا کہ یہ معاملہ ہوا کیا ہے؟ ان سے بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ حالات حقیقی طور پر خراب ہیں۔ مسلسل اقبال سراج زیرِ دباؤ ہیں اور ان کے جن سیاستدانوں سے رابطے ہیں وہ بھی مسلسل زیرِ اعتاب ہیں۔ چار سے پانچ اور لوگوں کی تصدیق پر میرے ذہن میں یہ ہی خیال آیا۔ کیا ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ ہم نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھنا؟ اصغر خان کیس ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے لیکن ہم باز کہاں سے آنے والے ہیں۔ اقبال سراج کے واقعے کے بعد نواز شریف نے واضح طور پر ایجنسی کا نام لیا اور جب یہ خبر ہیڈلائنز میں چلائی گئی تو کہیں بھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نواز شریف نے ایک ایجنسی کا نام بھی لیا ہے۔ یہ میڈیا میں موجود سینسرشپ کا واضح ثبوت ہے کہ کسی طرح میڈیا مالکان کو زیرِ دباؤ لایا جا رہا ہے اور میڈیا کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن اقبال سراج نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ جی، یہ سب غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ محکمہ زراعت والوں نے ہی مسلم لیگ کا ٹکٹ واپس کرنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا؟ کہانی بہت سادہ ہے۔ ایک جیپ ہے، جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر چوہدری نثار ہیں اور پیچھے ایک طویل رش ہے اور جیپ کا ریمورٹ کسی اور کے پاس ہے۔ راجن پور سے امیدواروں نے مسلم لیگ کے ٹکٹ کس کے دباؤ پر واپس کئے یہ بھی کوئی راز نہیں ہے۔ یہ جیپ گروپ بلآخر ہتھوڑا گروپ بنے گا جو طاقت کا محور بنے گا اور اطلاعات کے مطابق چالیس سے زائد لوگوں پر مشتمل ہے۔ اور یہ سب قبل از انتخابات دھاندلی نہیں ہے تو کیا ہے؟

کچھ اسی طرح کا واقعہ 2013ء میں بھی ہوا تھا۔ ایک کانجو گروپ جو کہ جنوبی پنجاب میں نہایت طاقت ور ہے۔ اس نے مسلم لیگ سے تمام ٹکٹس کا مطالبہ کیا، جس پر مسلم لیگ کی طرف سے جواب آیا کہ یہ ٹکٹ پکڑیں اور گھر جائیں لیکن کانجو گروپ آزاد حیثیت میں لڑا اور لودھراں سے مکمل طور پرکامیاب ہوا۔ جو کہ مجموعی طور پر پچیس سیٹیں بنی تھیں اور اس کے بعد ہوا یہ کہ جنرل کیانی صاحب کا فون آیا کہ اب مسلم لیگ (ن) میں آ جائیں اور وہ آگئے۔

ڈیل کی خبریں بھی بازگشت کر رہی ہیں کہ اس شرط پر کہ مریم نواز اور نواز شریف انتخابی عمل سے باہر رہیں گے پھر شریف خاندان کو ریلیف فراہم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے اور اس ڈیل میں نواز شریف تو راضی ہو گئے ہیں، جس کا واضح ثبوت شہباز شریف کا وہ بیان ہےکہ ہم تمام اداروں کے ساتھ بیٹھ کر گرینڈ ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس ڈیل میں ایک دیوار حائل ہے اور وہ مریم نواز ہیں۔ جو کہ کسی طور پر پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ پرویز رشید کا نظریہ مکمل طور پر اپنا چکی ہیں اور آخری خبروں کے مطابق مریم نواز اسی ہفتے پاکستان واپس آ رہی ہیں۔ ان ڈیل کی خبروں میں واقعی اگر صداقت ہے تو یہ نواز شریف کے لئے شاید شرمندگی کا باعث ہو کہ وہ جو ووٹ کو عزت دلانے نکلے تھے اس کا اختتام اس ڈیل پر ہو گا؟ میں آغاز سے ہی لکھتا آیا ہوں کہ غیبی طاقتوں حقیقت اپنی جگہ لیکن نواز شریف میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ ان کا مقابلہ کر سکیں۔ کیونکہ نواز شریف اس راستے پر صرف اس لئے نکلے ہیں کہ انہیں حساب کتاب نہ ہونے کے باعث نااہل کر دیا گیا ہے، اس تحریک کی وجہ اگر نظریاتی ہوتی تو نواز شریف اس وقت نکلتے جب دھرنے کے دوران ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ا ور وہ جب تک طاقت میں تھے سب کچھ ٹھیک تھا۔ اقتدار میں انہیں چوہدری نثار کے نظریہ پسند تھا اور اقتدار سے باہر آ کر پرویز رشید کا۔ نواز شریف اگر چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں سنجیدگی سے لیں تو ضروری ہے کہ وہ واپس آئیں(جو کہ شاید نہیں آئیں گے)۔ میرا نواز شریف کے نظریاتی ہونے پر یقین نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مشرف دور میں لندن میں نواز شریف بہت وثوق سے کہتے تھے کہ ہم یہ کر دیں گے ہم وہ کر دیں گے، ان جرنیلوں کو لگام ڈال لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ہوا کیا؟ وہ دوبارہ جی حضوری پر لگ گئے۔ بالکل یہ ہی صورتحال اس وقت تھی، مشرف سے پہلے تک چوہدری نثار طاقت کے دوران نواز شریف کے ساتھ تھے اور اقتدار سے جاتے ہی لندن میں پرویز رشید پسندیدہ بن گئے۔

آج کی تاریخ کے تمام پروسیس میں جمہوریت کی جڑیں تو کاٹی جا رہی ہیں، اس کے علاوہ ملک کو ایک اندھے غار کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ محض سیاسی طور پر گیم چینجنگ کے لئے، احمد لدھیانوی اور اورنگزیب فاروقی کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ کیسے ایک ہی دن میں نیکٹا نے اسٹیٹ بینک کو خط لکھا اور اسی روز ان کے اکاؤنٹس غیر منجمد کر دئیے گئے اور اسی روز پنجاب پولیس نے ان کا نام فورتھ اسکیجویل سے بھی نکال دیا۔ یہ لوگ وہ تکفیری غنڈے ہیں، جو کہ ایک عرصے سے ملک میں تکیفیریت کی آگ کو بڑھکا رہے ہیں اور تاریخ بھری ہوئے ہے کہ کیسے تکفیریت کے زہر نے ہمارے معاشرے کو کمزور کیا ہے۔ دوسری جانب، تحریک لبیک، جس کی آئیڈیالوجی ہی ایک تشدد زدہ ہے، وہ انتخابات میں پاؤں رکھ رہی ہے اور اس شخص کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے جسے اس ملک کی عدالتِ عالیہ نے دہشت گرد ڈیکلیئر کر کے پھانسی دی۔ یہ تمام عناصر شاید وقتی طور پر تو ان طاقتوں کے حق میں جائیں لیکن اختتام پر یہ لوگ اس معاشرے میں عدم استحکام کی وجہ بنیں گے۔

تحریکِ انصاف کے لئے مقامِ عبرت یہ ہے کہ جو لوگ آج انہیں سر پر بٹھا رہے ہیں، وہ کل انہیں اسی طرح اٹھا کر باہر بھی کریں گے جیسا کہ مسلسل مسلم لیگ (ن) کو کیا جا رہا ہے۔ یہ غیبی طاقتیں کبھی کسی کی نہیں ہوئیں۔ تمام سیاستدانوں کو مل کر جمہوریت کے پاؤں مضبوط کرنے ہوں گے۔ اگر یہ دباؤ اور پولیٹیکل انجینئیرنگ جاری رہی تو بعید نہیں کہ تحریک انصاف کے علاوہ اور بھی بہت سی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ کے اس نعرے میں آکر ساتھ کھڑی ہو جائیں بشرط یہ کہ یہ ڈیل اگر ناکام ٹھہرتی ہے اور مریم نواز اپنا پرانا بیانیہ آگے لے کر چلتی ہیں۔ ابھی تک کے خاکے کے مطابق انتخابات کے بعد ایک کمزور حکومت بنے گی۔ شہباز شریف کے حکومت کے امکانات تب ہی ہیں، اگر ڈیل کامیاب ٹھہرتی ہے ورنہ کوئی امکان سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور ڈیل کی صورت میں حکومت تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) میں سے وہی بنا پائے گا جو کہ اچھا رقص غیبی طاقتوں کے آگے پیش کر سکے گا۔ آنے والا وقت صحافت اور صحافت سے منسلک لوگوں کے لئے نہایت گھٹن زدہ ہوتا جائیگا۔ سیاسی استحکام تو آتا نظر نہیں آ رہا لیکن انتخابات وقت پر ہونے سے جمہوریت مضبوط ہو گی اور سیاسی استحکام جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.