عشق کا ق

1,539

یہ کہانی نہ تو عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر ہے اور نہ ہی جوانی کا جنون، یہ بڑھاپے کی دہلیز پر خود سپردی کا ایک منظر ہے جو اقتدار کی راہداریوں سے نئے نئے آشنا ہونے والے عاشق کے شوق کی تکمیل کے لئے ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں اقتدار کے ملتجی عاشق کی وارفتگی کا منظر انتہائی واضح نظر آ رہا ہے۔ کس طرح پھولوں کی پتیوں کی سیج سجائی جا رہی ہے اور پھر اپنی مرشد کامل کے گھٹنوں سے گھٹنے جوڑ کر ولی قامل کی بارگاہ میں منت مانی جا رہی ہے۔ پیرنی پنکی جی کی ایک ایک التجاء پہ عاشق اقتدار کی وفور شوق میں ڈوبی سرگوشیوں میں آمین آمین کی صدائیں بتا رہی ہیں کہ آکسفورڈ کا پڑھا، ماڈرن عمران خان اقتدار کی طلب میں اپنی مرشد بیگم کے دکھائے راہ پر کس طرح مجاھدوں کے در عبور کر رہا ہے۔

اولیاء کاملین کے آستانے سخاوت کے لئے بہت مشہور ہیں۔ ان آستانوں سے اللہ کے فضل و عطا سے بے مرادوں کی مرادیں بھر آتی رہیں اور آئندہ بھی تشنہ لب شاد گام ہوتے رہیں گے۔

مگر مجھ پر یہ منظر دیکھ کر ایک خوف سا طاری ہو رہا ہے. وہ شخص جسے صوفیاء کی طرز زندگی اور صوفیاء کی کرامات اور سلوک اور تصوف کے باب میں اولیاء و صوفیاء کے تصرف کے احوال سنا سنا کر صوفیاء کا عقیدت مند تو بنا دیا مگر اسے سلوک و تصوف اور معرفت کی راہ کی ان آزمائشوں سے شاید آگاہی نہیں دی گئی جن آزمائشوں، مجاھدوں اور جس تزکیہ نفس سے گزر کر ایک سالک کو مراد تک پہنچنا ہوتا ہے۔ بات اگر بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی دہلیز کو چومنے تک رہتی اور منت ماننے تک ہی رہتی تو مناسب ہوتی مگر یہ عقیدت کا سفر عقائد کی نئی تشریحات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ٹنوں پھول کی پتیوں کی سیج سجا کر من مرشد کو راضی کرنے اور خوائش نفس کی تکمیل کے لئے کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے بابا فرید سے مانگا بھی جا رہا ہے تو ایک چھوٹے سے خطے پر اقتدار اور حکمرانی، اور اس کے لئے ایسے جتن؟

اگر یہ آج کا مجاور کل الیکشن میں کسی بھی وجہ سے ہار گیا یا جو خواب بن رکھے ہیں وہ پورے نہ ہوئے تو اس آکسفورڈ کے پڑھے جدید ماحول میں پلنے بڑھنے والے کا وہ جو کمزور لاغر سا عقیدہ تھا اس عقیدے کا کیا بنے گا؟

اور پھر جس کے کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس سے تعلق کا کیا عالم ہو گا؟ اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

یہ عقیدت اپنی جگہ سو فی صد درست صحیح مگر ایک ایسے ماڈرن شخص کو یک دم اس انتہا تک لے جانا میرے خیال میں مناسب نہیں کہ سلوک کی راہ کے مسافر بڑے جتن کرنے کے بعد مرید بنتے ہیں۔

جو سلسلہ اپنا تسلسل قائم نہ رکھ سکے اسے زبردستی جوڑنا اور چلانے کی کوشش کرنا موت کے مترادف ہے۔ سلوک و معرفت کی راہ کے مسافر اس طریقت و معرفت کے سفر کو خون کے دریا عبور کرنے سے تشبیہہ دیتے ہیں۔اس راستے پر چل کر مملکتیں نہیں مالک کو مانگا جاتا ہے، اقتدار نہیں قدرت والے کو مانگا جاتا ہے۔

میرے خیال میں خان صاحب کے لئے “ایاک نعبدو وایاک نستعین” کا ورد اور اس پر سختی سے عمل تمام سلاسل اور تمام مجاھدوں سے بہتر تھا۔

واللہ اعلم۔

محمد جاوید قریشی ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کرتے ہیں۔ لیبریونین سے وابستہ ہیں اور سوشل ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. afzaal mahmood کہتے ہیں

    religion is not to cut off from the world and let the Evil to capture the land of almighty. if Muslims leaders will not perform their political duties their end will be similar to last Abbasid Caliph Mustasim-Billah, who was busy in wazaif when Halacha khan attached. Who packed him in donkey hide and ran 100 horses on Caliph’s body.

  2. Shirazi کہتے ہیں

    جس شخص نے خود زندگی کی بلندیوں کو چھو کر تہئیہ کیا ہو کہ کا مرانی، سرخروئی اور سرفراز یوں پہ حق ان نا مرادوں کو دلانا ہے جو صرف اس وجہ سے محروم رکھے گئے اکہ وہ اپنے حقوق سے نا آشنائی کے سبب صدیوں سے غلام ہیں، وہ اس مقصد کے حصول کے لئے ہر اس دریا کو عبور کرنے پہ تیار ہوا جو نہ تو اس کے مزاج سے نہ عقائد سے ھم آہنگ تھا۔ اس موضوع پہ کتاب کیا کتابیں لکھی جا سکتی ہیںلیکن سر دست یہی چند سطور ہی کافی ہیں۔

تبصرے بند ہیں.