ہندوستان پر بھگوان ٹرمپ کا سایہ اٹھ گیا

2,402

پوجا پاٹھ سب دھر ی کی دھری رہ گئی
ہندوستان پر بھگوان ٹرمپ کا سایہ اٹھ گیا

گذشتہ سال 27 جون کو جب ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی پہلی بار صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لئے وائٹ ہائوس گئے تھے توساری دنیا نے دیکھا کہ مودی ریچھ کی طرح چمٹ کر ٹرمپ سے بغل گیر ہوئے اور ٹرمپ نے اپنے روایتی انداز سے اس زور سے مودی سے ہاتھ ملایا کہ ان کے ہاتھوں کی ہڈیاں چٹخنے لگیں۔ مبصرین نے پیش گوئی کی کہ امریکا اور ہندوستان کے درمیان دوستی کا نیا دور شروع ہوا ہے۔ امریکیوں نے ہندوستان کو علاقائی طاقت کی جگہ عالمی طاقت کا بلند درجہ عطا کیا اور ہندوستان میں مار ے خوشی کے ٹرمپ کو بھگوان قرار دیا گیا اور ان کی پوجا پاٹھ کا سلسلہ شروع ہوا۔ جنگل میں بیٹھ کر ٹرمپ کی تصویر سامنے رکھ کر سادھنا کی گئی اور ٹرمپ کی سالگرہ پر ان کی تصاویر کو کیک کھلایا گیا۔

us-india-trump-modi_07a3117e-5ac8-11e7-a18d-042ec35e3331

مودی کی وائٹ ہائوس کی پہلی بھینٹ میں فیصلہ ہوا تھا کہ امریکا اور ہندوستان اگلے سال ( 2018 میں) دونو ں ملکوں کے وزراء خارجہ اور وزراء دفاع کے درمیان مذاکرات ہوں گے جنہیں 2+2کا عنوان دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ مودی کا ایک بڑا کارنامہ قرار دیا گیا تھا۔ اسی دوران جنوبی ایشیاء اور افغانستان میں امریکی حکمت عملی کے سلسلہ میں ہندوستان کو کلیدی حیثیت دی گئی تھی۔ پاکستان پر دھشت گردتنظیموں کی حمایت اور اعانت کا الزام لگا کر امریکا نے ہندوستان کو یہ کام سونپا تھا کہ وہ پاکستان پر کڑی نگاہ رکھے اور اس سلسلہ میں اسے امریکا اور اسرائیل کی بھرپور مدد حاصل ہوگی۔ لیکن گذشتہ مارچ میں پاکستان نے نقشہ الٹ دیا جب کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم خاقان عباسی نے امریکا کے نائب صدر پینس سے ملاقات کی اور افغان صدر غنی اشرف کے ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن اور مفاہمت کے بارے میں سات نکاتی پروگرام طے کیا۔ گذشتہ تین سال کے دوران پاکستان کی ان کوششوں کے نتیجہ میں جنوبی ایشیاء اور افغانستان میں امریکی حکمت عملی میں ہندوستان کی کلیدی حیثیت گہنا گئی۔

اب ایران کے خلاف امریکا کی تادیبی اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد امریکا اور ہندوستان کی دوستی لڑکھڑاتی نظر آتی ہے۔

Krish_Raju_Trump_3

امریکا نے ہندوستان کے ساتھ 2+2 کے مذاکرات یہ کہہ کر موخر کردئے ہیں کہ امریکا، ٹرمپ اور پوتین کے درمیان سربراہ ملاقا ت میں مصروف ہوگا۔ لیکن اصل وجہ ایران کے خلاف امریکا کی تادیبی اقتصادی پابندیوں پر معرکہ آرائی کے اٹھتے ہوئے طوفان کا خطرہ ہے۔ امریکا نے کھلم کھلا ہندوستان کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ 4 نومبر تک ایران سے تیل کی درآمد بند کردے ورنہ سخت اقتصادی پابندیوں کے سامنے کے لئے تیار رہے۔اس وقت ہندوستان ایران سے ہر سال ایک کروڑ چوراسی لاکھ بیرل تیل درآمد کرتا ہے جس کی مالیت 62ارب ڈالر بنتی ہے۔ امریکا نے ہندوستان سے کہا ہے کہ وہ ایران کے بجائے سعودی عرب اور عراق سے تیل درآمد کرے۔ یہ اطلاعات ہیں کہ ہندوستان امریکا کے اس مطالبہ پر غور کر رہا ہے۔ ہندوستان اس پر جزبز ہے کہ یہ اس کی خود حاکمیت کے خلاف ہے۔ امریکا نے بس ایک رعایت دی ہے کہ وہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے انتظام کے بارے میں ایران اور ہندوستان کے درمیان سمجھوتہ پر اعتراض نہیں کرے گا کیونکہ اس بندر گاہ کا گہرا تعلق افغانستان میں امریکا کی حکمت عملی سے ہے۔

امریکا، ہندوستان سے اس بات پر بھی سخت ناراض ہے کہ وہ روس سےS400 نئے مزائیل سسٹم کی خریداری کی بات چیت کر رہا ہے۔ امریکا کا ہندوستان پر سخت دبائو ہے کہ وہ روس سے یہ مزائل سسٹم نہ خریدے۔ ابھی ہندوستان نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
اس بات کا خطرہ ہے کہ اگر ہندوستان نے 4 نومبر تک ایران سے تیل خریدنا بند نہ کیا تو اس پر اقتصادی تادیبی پابندیاں عائد ہوں گی اور ہندوستان کو امریکا کے ساتھ تجارت میں بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وقت ہندوستان امریکا کو 42 ارب ڈالر کا سامان برآمد کرتا ہے یہ برآمد بند ہونے کی وجہ سے ہندوستان کو زبردست خسارہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بہرحال پچھلے سال نریندر مودی وائٹ ہائوس میں پذیرائی پر جتنے خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے، ایک سال کے اندر اندر امریکا کے رویہ میں تبدیلی پر سخت پریشان ہیں اور امریکا کے مطالبات ہندوستان کی خودمختاری اور حاکمیت کے لئے سنگین چیلنج بن گئے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پچھلے ایک سال کی ٹرمپ کی پوجا پاٹھ سب بے کار گئی ہے اور اایسا لگتا ہے کہ ہندوستان پر سے ٹرمپ بھگوان کا سایہ اٹھ گیا ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.