بیگم شاہی مسجد

1,367

بیگم شاہی مسجد کو مریم زمانی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ مسجد بیگم شاہی لاہور شہر کے تیرہ دروازوں میں سے ایک مستی دروازہ کے پاس موجود ہے۔ مغلیہ عہد میں تعمیر کی گئی یہ مسجد آج شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مستی دروازہ اس مسجد کے بعد ہی بنایا گیا یا مشہور ہوا۔ مسجدی دروازہ سے مسیتی دروازہ ہوا اور اب اس کا نام بگڑتے بگڑتے مَستی دروازہ ہوگیا ہے۔ جبکہ کہنیا لال کے نزدیک اس دروازے کا نام بادشاہ کے وفادار “مستی بلوچ” کے نام پر ہے۔

یہ مسجد مریم زمانی نے 1023 ہجری بمطابق 1614ء میں تعمیر کروائی تھی۔ آئین اکبری کے مطابق مریم زمانی، اکبر کی بیوی اور جہانگیر کی والدہ تھیں۔ بیگم شاہی مسجد کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے شہنشاہ اکبر نے شاہی خواتین کے لیے تعمیر کروایا تھا۔

FB_IMG_1530084395112

FB_IMG_1530084463751

بیگم شاہی مسجد کی شمالی دیوار کے ساتھ ساتھ اندر ایک راستہ نیچے سے قلعہ لاہور کے اندر تک جاتا تھا جو کہ اب بند کر دیا گیا ہے۔ رنجیت سنگھ کا دور اس مسجد کے لیے بھی اچھا نہیں تھا۔ بقول سید محمد لطیف” اس تاریخی مسجد کو رنجیت سنگھ نے بندوقوں اور بارود کی تیاری کے لیے استعمال کیا۔ اسی بناء پر اسے ”بارود خانہ والی مسجد” کہا جانے لگا۔

انگریز دور میں یہ مسجد مسلمانوں کو دوبارہ ملی اور مسلمانوں نے چندہ اکٹھا کرکے اس کی تعمیر و مرمت کروائی۔ بیگم شاہی مسجد 130 فٹ طویل اور 32 فٹ عریض ہے۔ اس کی محرابیں 5 حصوں میں منقسم ہیں اور گنبدوں کی تعداد بھی 5 ہے۔ مسجد کے صحن میں ایک حوض ہے جو 30 فٹ لمبا اور 26 فٹ چوڑا ہے۔ بیرونی صحن کا فرش برطانوی عہد کی اینٹوں سے بنا ہوا ہے۔ مسجد کا کوئی مینار نہیں ہے۔ مسجد میں مزار بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ کئی قبریں بھی ہیں۔

FB_IMG_1530084412989

FB_IMG_1530084419617

مسجد کے عقب میں مجھے ایک عمارت نظر آئی جس پر”1875″ لکھا ہوا تھا۔ کافی کوشش کی اس عمارت کو دیکھنے کی۔ اس کا راستہ مسجد کے امام صاحب کی رہائش کے ساتھ ہے۔ کافی کوشش کے باوجود بھی اجازت نہ ملی۔

مسجد کا اندرونی منظر آج بھی حسن و وقار کا منظر ہے۔ مسجد میں نقاشی کا کام اب تک برقرار ہے لیکن یہ مسجد شُو مارکیٹ اور رِم مارکیٹ کے درمیان ناجائز تجاوزات میں گُم ہو کر رہ گئی ہے۔

FB_IMG_1530084422869

محکمہ آثار قدیمہ یا متعلقہ محکمے کو اس قدیم ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیے۔ حکومت وقت سے گزارش ہے کہ اس سے پہلے کہ اس عظیم الشان مسجد کا نام فقط تاریخ میں رہ جائے حکومت اس پر توجہ دے اور مسجد کے گرد و پیش میں موجود ناجائز تجاوزات کو ختم کروا کر مسجد کی مرمت و دیکھ بھال کا کام فوری شروع کروائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Wahab کہتے ہیں

    Thank You for bringing this tresure into light.
    Just needed to bring your attention to the name ” Masti darwaza”.
    Actually it can be a ” Masidi darwaza”… Masid is actually a name given to Masgid in the language of Mughals, and Centrel Asians. Pashtunes from Pakistan and Afghanistan also call the Masgid as ”Masid”.
    So it does make sense to call it Masidi Darwaza or Masgidi Darwaza.
    Thank You & Regards.

  2. mr.khan کہتے ہیں

    IN HOKMARANO KO APNAY BACHOO OR ANAY WALAY BACHO OR SAMDIO KA PAYT BHARNAY KA PATA H, YA KHATMAY NABOWAT M TABDEELE KER K GHIAR MUSLMO KO APNA BHAI KEHNA, ZARORI H TU YE ISLAM KI YADO KO BHOLNAY K SIWA OR KOE KAAM NHI. SAYASI PARTIA LOT MAR OR IS MUSLIM MULAK KO BRBAD KRNAY KI KASAM KHAY HOAY HAIN, UN KEREEB YEHE MUSLIM HUKMARAN , BADSHAHEE MUSJID M DANS PARTIA KERWAY GEE. IN KO ISLAM SE KIA LAYNA DEYNA , KHASS TUR PER PPP OR (N) NEHSH LEAQUE

  3. Humayun کہتے ہیں

    اردو کی ترویچ کے لیے اچھی کاوش ہے

  4. طلحہ شفیق کہتے ہیں

    جی سر میرا خیال بھی یہی ہے کہ مسجد کی وجہ سے اس دروازے کا نام مسجدی دروازہ تھا جو کہ بگڑ کر مسیتی اور .پھر مستی بنا جیسے کہ ذکی دروازہ بگڑ کر یکی دروازہ بنا

تبصرے بند ہیں.