نیب کو عزت دو، پاکستان کے اداروں کو عزت دو

1,885

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ میں دوسری مرتبہ کسی جمہوری جماعت نے اپنا دورِ حکومت مکمل کیا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ پچھلی حکومت کی طرح اس بار بھی ملک کا وزیر اعظم اپنی وزارت کے پانچ سال پورے نہ کرسکا لیکن حکومت نے جمہوری طریقے سے اقتدار نگران حکومت کے سپرد کیا جو پاکستان میں جمہوریت کی بالادستی کی نشاندہی کرتا ہے۔

پچھلے دس سالوں میں ملک میں کئی طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ زرداری کی حکومت میں ملکی ترقی کا گراف نیچے گیا اور شریف برادران کے ادوار میں بہتری کی جانب گامزن ہوا۔ ان کے دور میں ملک میں بہت سے ترقیاتی کام ہوئے۔ سی پیک منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔ لاہور شہر میں کئی طرح کے میگا پراجیکٹس مکمل ہوئے۔ اس کے علاوہ لاہور سمیت جنوبی پنجاب میں ہسپتال، سکول و کالجز کی بھی تعمیر کی گئی اور ملک کو بہتری کی طرف لانے کی خاطر بہت کام کیا گیا مگر ساتھ ہی کرپشن کا بازار بھی گرم رکھا گیا جس کی تحقیقات نیب کر رہی ہے۔ بڑے بڑے ناموں کی گرفتاریاں دھڑا دھڑ کی جا رہی ہیں اور تحقیقات کے لیے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر بھیجا جارہا ہے۔ آخر قومی خزانے سے چوری ہوئی ہے، قومی اداروں کو تحقیق کا پورا حق حاصل ہے۔

نیب 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے بنائی تھی تاکہ کرپٹ اور ملکی ترقی میں حائل ناسور لوگوں کی چھان بین کی جاسکے۔ اب جب نیب کی طرف سے کرپشن اور قومی خزانے سے ہونے والی چوریوں کی تحقیقات میں پیشرفت ہو رہی ہے تو نیب بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 70 سال کی تاریخ میں پاکستان میں پہلی بار کرپشن اور لوٹ مار کی تحقیقات کا آغاز ہوا ہے جس کی وجہ سے نیب کا ادارہ خود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ کسی نامعلوم شخص نے نیب کی بلڈنگ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی دھمکی دی ہے اور 4 کروڑ کی مانگ کی ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں۔ کرپشن کے خلاف تحقیقات میں آخری حد تک جائیں گے۔

نیب اس وقت حسین نواز کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستان لانے کی کوششوں میں ہے لیکن ناجانے کیوں کچھ لوگ ملک میں ایسے ہیں جن کو نیب کی پھرتیاں کھٹک رہی ہیں۔ آخر کون نیب کو دھکمیاں دے رہا ہے؟ کیا نیب کوئی غلط کام کر رہی ہے؟ کیا پاکستانی عوام کو قومی اثاثوں کا حساب نہیں چاہئیے؟ کوئی بھی شخص جب گھر میں کوئی کام کرواتا ہے تو ایک ایک روپے کا حساب رکھتا ہے۔ کیا پاکستان ہمارا گھر نہیں اور ہمیں پاکستان میں ہونے والا کاموں کو حساب نہیں چاہئیے؟

نیب کو عزت دو، بھائی۔ پاکستان کے اداروں کو عزت دو۔ حکومتیں تو آنے جانے والی چیز ہیں۔ ادارے کسی  بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں اور ملک انہی اداروں سے چلتا ہے۔ ان اداروں کو عزت دو۔

عثمان بٹ صحافت کے طالب علم ہیں اور دنیا نیوز کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. M. Saeed Awan کہتے ہیں

    NAB par to lanat hi beji ja sakti hay.

  2. Hamza کہتے ہیں

    we proud on NAB, nation is with you Justice (R) Javed Iqbal, i hope you should do your best.

تبصرے بند ہیں.