بسکہ دشوار نہیں لکھنا لکھانا یارو!

950

کیا واقعی کارپوریٹ آرگنائزیشن میں رہتےہوئے، افسران کے حکام مانتے ہوئے، کمپنی پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے ہم ٹرینڈ منکی (سدھائے ہوئے جانور) یا لکیر کے فقیربن چکے ہیں؟ 24 گھنٹے مسلسل دباؤ میں رہنے کے بعد کیا ہم ڈپریشن کا شکار ہوچکے ہیں؟ کیا ہمیں کسی گیپ کی یا وقفے کی ضرورت ہے؟ کیا دماغ کو ریلیکس کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا آؤٹ آف باکس سوچنے کی ضرورت ہے؟ کیا ا ن سب کے لیے بھی گائیڈ لائنز چاہئیے؟

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

پروفیشنل زندگی میں ایک دہائی گزارنے کے بعد جب جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم نہیں ملا تو اپنے لیے قلم اٹھایا۔ سب کچھ الفاظ کی صورت محفوظ کرتے گئے، اب شائع شدہ تحاریر کی بھی سینچری ہوچکی ہے۔

لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو

گہے کاغذ  و گہہ قلم دیکھتے ہیں

اکثر لوگ تبصروں اور انباکس میں پوچھتے ہیں کہ بلاگ اور کالم میں کیا فرق ہے؟ کالم نگاری کیا ہے؟ بہت سوں نے کہا۔ ۔ لکھنے کیلئے اتنے سارے آئیڈیاز کہاں سےآتے ہیں، اتنا وقت کیسے لکھنے کو دیا جائے اور ہم کالم نگار کس طرح بن سکتے ہیں؟

اس کی وضاحت کے لیے چند نکات تشکیل دئیے ہیں، امید ہے بہت کچھ کلئیر ہوجائے گا۔

تعارف:

صحافت یا ماس کمیونیکیشن کے دائرہ مطالعہ میں سب ایڈیٹنگ، رپورٹنگ، انٹرویو، اداریہ، فیچر نگاری، اشتہارات کے علاوہ ایک اہم اور حساس شعبۂ صحافت ”کالم نگاری” یا کالم نویسی ہے۔

کالم میں دیا گیا ہر لفظ ذو معنی اور معلومات سے بھرپور مواد اخبار کی مقبولیت اور کثیر اشاعت کا سبب بنتی ہے بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اچھے اور معیاری کالم اخبار کا ادارتی حسن اور پہچان ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں ہر خواندہ شخص کچھ نہ کچھ لکھ سکتا ہے لیکن ایسی تحریر لکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں جس میں لکھنے والے کے دل کی بات کا اظہار بھی ہو اور اس سے دوسروں کے احساسات و جذبات اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی بھی ہوتی ہو۔ اس لیے کالم ایسے صحافی یا اہل قلم کی تحریر ہے جو وسیع علم، تجربے، بصیرت اور فکر و نظر کا حامل ہو۔

ابن انشاء کے مطابق ”میں کالم کومضمون سمجھتا ہوں جس طرح مضمون بے کراں چیز ہے، کالم بھی ہے”۔ بقول عطاء الحق قاسمی ”کالم ایک تحریری کارٹون ہوتا ہے جس میں کالم نویس الفاظ سے خاکہ تیار کرتا ہے”۔

کالم:

کالم انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ اس لئے اس کے ساتھ عربی یا فارسی کے کوئی اسمائے معرفہ یا نکرہ یا کوئی فعل یا اس کے مشتقات نہیں لگائے جا سکتے۔ یعنی کالم رائٹنگ تو کہا جا سکتا ہے، کالم نویسی کہنا یا لکھنا غلط ہوگا۔ لیکن ہماری زبان میں کالم نویسی اور کالم نگاری ایک عرصے سے مستعمل ہیں اور چونکہ غلط العام یا غلط العوام ہیں اسلئے درست تسلیم کئے جاتے ہیں۔

ویسے تو کالم نویس کے لئے موضوعات کی کوئی قید نہیں، لیکن ہم نے شائد از خود ان موضوعات کو مقید کر رکھا ہے۔ ہم زیادہ تر حالاتِ حاضرہ پر قلم توڑنے کو کالم نگاری کا نام دیتے ہیں اور وہ بھی پاکستان کے سیاسی حالاتِ حاضرہ پر۔

انگریزی زبان کی ایک خوبی (یا خامی) یہ بھی ہے کہ ایک ایک لفظ کے کئی کئی معانی ہیں بس Spellings وہی رہتے ہیں، مثلاً اسی لفظ کالم (Column) ہی کو لیجئے۔ اس کے پانچ سات مختلف معانی ہیں جبکہ ہجے ایک ہی ہیں۔

1۔ عسکری اصطلاح میں کالم، سپاہیوں کے اس گروپ کو کہا جاتا ہے جو ایک دوسرے کے پیچھے رواں دواں رہتے ہیں۔

2۔ فوج میں بھی سنگل کالم کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی درہ اتنا تنگ ہو کہ اس سے گزرنے کے لئے ٹروپس کو ایک قطار (سنگل فائل) کی شکل میں گزرنا پڑے۔

3۔ لفظ کالم “طب” کی اصطلاح میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ کالم کا ٹوٹ جانا اور ورٹیکل کالم وغیرہ

4۔ اسی طرح فنِ تعمیر میں بھی کالم ایک ایسے ستون کو کہا جاتا ہے جو بالکل سیدھا اور عمودی ہوتا ہے اور جو عمارت کو سہارا دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

5۔ تھرما میٹر میں آپ جو ایک سفید سی پارے کی باریک لکیر دیکھتے ہیں اس کو بھی کالم ہی کا نام دیا جاتا ہے۔

6۔ صحافت کی اصطلاح میں کالم کے دو معانی ہیں…. ایک تو اخبار کے صفحے کا وہ حصہ جو عمودی شکل میں صفحے کو چھ، سات یا آٹھ حصوں میں برابر تقسیم کرتا ہے۔ دو کالموں کے درمیان یا تو ایک لکیر ڈال دی جاتی ہے یا اسپیس خالی چھوڑ دی جاتی ہے، تاکہ دو کالموں میں امتیاز کیا جاسکے اور الفاظ ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ نہ ہوں اور دوسری صحافتی اصطلاح وہ ہے جو ہماراآج کا موضوع ہے۔

انگریزی لغت میں اس کی جو تشریح کی گئی ہے وہ یہ ہے:

یعنی ایک ایسا آرٹیکل جو کسی اخبار میں باقاعدگی سے شائع ہوتا ہو، کالم کہلاتا ہے۔

ایک اور انگریزی لغت میں اس کی تعریف یوں ہے۔ :

آرٹیکل وہ ہے جس میں مختلف تناظر کے پہلووں پرمختلف آراء دی جاتی ہیں۔

اداریے اور کالم میں فرق:

اداریے اور کالم میں یہی بنیادی فرق ہے۔ اداریہ ایک سیدھی چال ہے بلکہ کالم میں وہی باتیں ہوتی ہیں لیکن انداز ذرا مختلف ہوتا ہے۔ یہ ایک ہلکی پھلکی مزہ دینے والی تحریر ہوتی ہے جس کا انداز یوں ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی کی چٹکیاں لے کر اسے سمجھانے کی کوشش کریں۔

آرٹیکل اور کالم میں فرق:

آرٹیکل ایک غیر افسانوی، (نان فکشنل) تحریر ہوتی ہے جس میں ذاتی رائے کا دخل کم ہوتا ہے جبکہ کالم میں آپ ذاتی آراء کو شامل کر لیتے ہیں، بلکہ پورا “مضمون” ہی اسی ذاتی رائے پر استوار کر لیتے ہیں۔

ادب:

کالم نویسی ادب کا حصہ ہے، صحافت کا ہر صفحہ تاریخ ہے۔ آپ معاشرے کے حالات اور زندگی پر لکھتے ہیں۔ اگر آپ کے لکھنے کا طریقہ ادیبانہ ہے تو اسے یقیناً ادب سمجھا جائے گا۔ ہر کالم ادب کا حصہ نہیں۔ جیسے ہر غزل ادب کا حصہ نہیں۔ اس کا دارومدار وقت، موضوع اور لکھنے والے کی شخصیت پر ہوتا ہے۔

بلاگ:

لفظ “بلاگ (Blog)” ویب لاگ (Web Log) سے بنا ہے۔ بلاگ ایک قسم کی ذاتی ڈائری ہے جو آپ انٹرنیٹ پر لکھتے ہیں۔ اپنی سوچ اور شوق کے مطابق اپنے خیالات، تجربات اور معلومات لکھتے ہیں اور قارئین سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

بلاگ کہانی کی طرز پر یا ضمیرِ متکلم (first person) میں لکھے جا تے ہیں۔ بلاگ کا استعمال کسی بھی معاملے یا خبر پر اپنا تجزیہ دینے کے لیے، یا لوگوں کی رائے کا تجزیہ کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلاگ ایک ہی موضوع پر مختلف مضامین کو لنک کر کے موضوع پر موجود مختلف خیالات کا جائزہ لے سکتا ہے۔ بلاگ حالاتِ حاضرہ، سماجی مسائل، سیاسی واقعے و پیش رفت، اور ملکی و غیر ملکی حالات پر لکھے جاتے ہیں۔

ذاتی ڈائری اور بلاگ میں فرق

ذاتی ڈائری آپ تک یا چند ایک لوگوں تک محدود ہوتی ہے جبکہ بلاگ پوری دنیا کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہوتا ہے۔

آپ ذاتی ڈائری میں شاعری اور اچھی باتیں لکھتے ہیں اسی طرح بلاگ پر بھی آپ شاعری، اچھی باتیں، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرسکتے ہیں۔

فیچر اسٹوریز:

بلاگ فیچر اسٹوریز سے مختلف ہوتے ہیں۔ لوگوں سے زیادہ انٹرویوز کرنا اور ان کی باتوں کے حوالے دینا بلاگ نہیں، بلکہ فیچر کہلاتا ہے۔

خبر:

بلاگز خبر سے بھی مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی شہ سرخی والی خبر کو مختلف الفاظ میں پیش کر دینا بھی بلاگ نہیں کہلایا جا سکتا۔

بلاگ اور کالم میں فرق:

بلاگ کالم کے مقابلے میں زیادہ غیر رسمی مزاج کے تحت لکھے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بلاگ پوسٹس میں رائے یا دلیل کا ہونا ضروری ہے، اور بیان کی گئی کہانی کو وسیع تناظر میں بھی پیش کرنا چاہئیے۔ بلاگ کے لیے جس قدر ممکن ہو ایسے موضوع کا انتخاب کرنا چاہئیے جو حقیقت سے قریب تر ہو۔

صحافت میں مفروضہ یہ ہے کہ لکھنے والا غیر جانب دار ہے۔ لکھنے والا رائے عامہ کے ایک مفروضہ حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ صحافی ایک فرد کی حیثیت سے قلم اٹھاتا ہے لیکن اس کی اخلاقی حیثیت اجتماعی ہے۔ چنانچہ صحافت میں ‘صیغہ متکلم’ ایک ناقابل قبول طرز بیان ہے۔ پڑھنے والے کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ صحافی کے والدین کون تھے۔ احباب کون ہیں۔ لکھنے والے کی ذاتی معاشرتی ترجیحات کیا ہیں۔ سیاسی رجحانات کیا ہیں۔ بے شک لکھنے والے کے سیاسی رجحانات بھی ہوتے ہیں۔ معاشرتی میلان بھی ہوتے ہیں لیکن پیشہ ورانہ کام کرتے ہوئے صحافی کی ذات غیر اہم ہو جاتی ہے۔ صحافت میں وہ تحریر کمزور بلکہ ناگوار سمجھی جاتی ہے جس میں بار بار لکھنے والا اپنی ذات کا ذکر کرتا ہے۔ اور صیغہ متکلم(first person) استعمال کرتا ہے۔

فیس بک اسٹیٹس:

یہ ہر لکھاری کا ہائیڈ پارک ہے۔ کوئی بھی کالم نگار ہو، ادیب یا تجزیہ نگار، اس کے پروفیشنل روپ کے ساتھ اس کی ذاتی شخصیت بھی ہے۔ کچھ اس کی پسند، ناپسند ہے، اس کے تعصبات بھی ممکن ہیں۔ یہ اسٹیٹس آدمی کھل کر لکھتا ہے، بغیر کسی کارپوریٹ دباؤ، سنسر پالیسی کے خوف سے۔

یہ فیس بک ہے، فلیش رائٹنگ، انسٹنٹ ری ایکشنز، آپ اپنی فیس بک پوسٹ کو ڈیلیٹ بھی کر سکتے ہیں، اسے مذاق میں ٹال بھی سکتے ہیں۔ تاہم بلاگ، کالم، آرٹیکل کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاسکتا۔

مشق، تحریر کو بہتر اور مؤثر بنانے کا نہایت کارگر اور کامیاب ذریعہ ہے۔ خوش نویسی (کتابت ) کے حوالے سے ایک شعر ہے:

گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس
مے نویس و مے نویس و مے نویس

) اگر تو چاہتا ہے کہ خوش نویس بن جائے تو لکھتا رہ، لکھتا رہ، لکھتا رہ)۔

ادیب، مضمون نویس یا نثر نگار بننے کے لیے مسلسل لکھتے رہنا از بس ضروری ہے۔ بعض معروف اور نامور ادیب بھی مسلسل مشق کے اس عمل سے گزر کر ہی بلند پایہ نثرنویس بنے ہیں،

اگر پڑھنے کا ذوق نہیں ہے تو نہ لکھیں۔
اور اگر لکھنے کا ذوق وشوق ہے تو بہت پڑھیں۔

تیسری بات یہ کہ اگر لکھنے کا شوق ہے اور اس کی قدرتی صلاحیت بھی ہے تواس راہ کے ضروری لوازم سے آراستہ ہونے کا اہتمام کیجیے۔

مسلسل مطالعہ:

ایک اچھا لکھنے والا، معیاری تحریروں اور کتابوں کے مطالعے سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ مطالعہ کرتے ہوئے دیکھئے کہ زبان کیسی بامحاورہ ہے؟ الفاظ وتراکیب کا استعمال کیسا ہے؟ جملوں کی ساخت کیسی ہے؟ آپ کسی سے متاثر ہوکر اس کی نقل نہ کیجیے۔ معیاری تحریروں کا جس قدر وسیع مطالعہ کریں گے، غیر شعوری طور پر، آپ کی تحریر بھی بہتر ہوتی جائے گی۔

لوازمہ و معلومات:

جب آپ کسی خاص موضوع پر کچھ لکھنا چاہیں تو ممکنہ حد تک، متعلقہ معلومات اور لوازمہ فراہم کر لیں۔ کتابوں سے، رسالوں سے اور انسائیکلو پیڈیا سے۔ اسی طرح بزرگوں یا اس شعبے کے ماہرین سے استفسار اور مشورہ بھی کیجیے۔ جس قدر مفصل معلومات فراہم ہوں گی، آپ کی تحریر اس قدر جامع اور بھر پور ہو گی۔ ناکافی یا غلط معلومات کی بنیاد پر لکھی جانے والی تحریر ناقص ہو گی اور بعض صورتوں میں گمراہ کن بھی۔

سوچ بچار:

اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی زندگی، اس کے نشیب وفراز، اس کے خیرو شراور اس کے وقوعات و حادثات پر غور و فکر کی عادت ڈالیے۔ کسی صورت حال کے اسباب، اس سے عہدہ بر آ ہونے کی تدابیر، مسائل حل کرنے کے طریقے اور مختلف مسائل کو سلجھانے کی صورتیں، ان پہلوؤں کے بارے میں سوچ بچار کریں، معاملات کی ماہیت اور تصویر کے دونوں رخ آپ کے زیر غور رہیں گے، آپ کے لیے حقائق تک پہنچنا اور اصلیت کوجان لینا آسان ہو گا اور آپ کے ذہن میں مسائل و معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ اس طرح آپ کی تحریر تفکر و تدبر کی حامل اور قارئین کے لیے کہیں زیادہ افادیت کا باعث ہو گی۔

ابتدائی خاکہ اور ترتیب:

آپ جو کچھ لکھنا چاہیں، موضوع کاا نتخاب کر لیں۔ آغاز کیسے ہو گا؟ کیا کیا نکات، کس ترتیب سے پیش کریں گے؟ دلائل؟ موضوع کی مناسبت سے اقوال، فرمودات، ضرب الامثال، اشعار بھی جمع و نوٹ کر لیں اور ان کی ترتیب بھی قائم کر لیں۔ پھر اختتام کیسے ہو گا؟ خاکے پر غور کیجیے۔ کیا یہ ترتیب مناسب اور منطقی ہے؟ اگر نہیں تو اس میں مناسب رد وبدل کر کے خاکے کو زیادہ سلیقے اور ہنر مندی سے مرتب کیجیے۔ جب آپ کو خاصا تجربہ ہوجائےگا تو پھر آپ کو خاکہ بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

من گھڑت کہانیوں کی بجائے عام زندگی میں ہونے والے تجربات پر لکھیں۔ اس سے ایک تو آپ کے تجربات اور تجزیے دوسرے لوگوں تک پہنچیں گے اور جب قارئین تبصرے یا رائے دیں گے تو آپ کو تصویر کے کئی دوسرے رخ نظر آئیں گے۔ جس سے آپ کی سوچ مزید پختہ ہو گی۔

اور اگر کوئی جواب میں آپ سے اختلاف کرے تو کم از کم اس کے جواب پر غور ضرور کریں کیونکہ ہو سکتا ہے آپ کسی جگہ غلطی کر رہے ہوں۔ اگر آپ ذرا سی بھی “انا” یا “میں نہ مانو” کے فارمولے پر چلے تو بلاگنگ کے حوالے سے آپ کو اور آپ کی سوچ کو نقصان ہو سکتا ہے۔

کتاب ہو یا اخبار، تحریر کی ادارت بہت ضروری ہے۔ تحریر کو خام حالت میں یونہی نہیں شائع کردینا چاہئیے۔ اپنے ڈرافٹ پر نظر ثانی کریں۔ ہجے اور لغوی اغلاط کے علاوہ جملوں کی ترتیب پر بھی دھیان دیں۔

جس اخبار یا میگزین کے لیے لکھنا چاہتے ہیں، اس کے مزاج کو دیکھیں، اس کی پالیسی معلوم کریں، اس کے پڑھنے والوں کا حلقہ کیسا ہے؟ وہ کوئی ادبی میگزین ہے، مذہبی ہے، سائنسی ہے، بلدیاتی ہے، اسپورٹس کے حوالے سے ہے، فلمی ہے یا کہ جنرل۔ ۔ غرض کہ اخبار و رسائل کے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے لکھیں۔

اور ایک روز آئے گا جب آپ کا شمار لکھنے والوں کی فہرست میں ہو گا، اور آپ کے لیے باعثِ رشک ہوگا۔

قلم چل ابھی چلتی تیری زباں ہے
کہ پھر بات کہنے کی فرصت کہاں ہے

ربعیہ کنول مرزا ایک مصنفہ، بلاگر اور پروڈیوسر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Usman Butt کہتے ہیں

    بہت طویل تحریر کی ہے پڑھنا چاہتا ہوں مگر فرصت کی لمحات میں پڑھوں گا،،،، جزاک اللہ

تبصرے بند ہیں.