دوہری شہریت اور دوہرا معیار

1,852

دوہری شہریت سے مراد کسی بھی ملک کی شہریت کی وہ حیثیت جس میں کوئی باشندہ ایک ملک کی بجائے دو مختلف ممالک کی شہریت رکھتا ہو۔ بین الاقوامی سطح پر اس قانون کی کوئی خاص حیثیت تو نہیں ہے لیکن پاکستان سمیت بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کے اپنے قوانین میں سے دوہری شہریت قانون اچھی خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان سمیت دوسرے ممالک کے قوانین کے مطابق ایک شخص دو شہریت رکھ سکتا ہے۔

دوہری شہریت کی اجازت پاکستان سمیت 16 ممالک میں ہے جن میں آسٹریلیا، بلجئیم، کینیڈا، مصر، فرانس، آئس لینڈ، اطالیہ، اردن، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، سویڈن، سویٹزرلینڈ، شام، مملکت متحدہ اور ریاست ہائے متحدہ امریکا شامل ہیں۔ جبکہ کچھ ممالک میں دوہری شہریت کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ ایسے ممالک میں شہریت حاصل کرنے کے لیے اس شخص کو اپنی پہلی شہریت کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ آسٹریا، آذربائیجان، بھارت، انڈونیشیا، جاپان اور قازقستان میں اگر کوئی شہری رضاکارانہ طور پر اپنی شہریت تبدیل کرتا ہے تو خودکار طور پر اس شخص کی شہریت ان ممالک سے ختم ہو جائے گی۔

آخر دوہری شہریت رکھی ہی کیوں جاتی ہے اور دوہری شہریت رکھنے والے کو کیا کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

دوہری شہریت رکھنے کی وجوہات سے ہمارے ملک کے بہت سے لوگ ناواقف ہیں۔ دوہری شہریت رکھنے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے چند ایک وجوہات بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ دوہری شہریت اس لیے رکھی جاتی ہے کہ دوہری شہریت کا حامل شخص دونوں متعلقہ ممالک کی ذمہ داری میں آتا ہے اور دونوں ممالک کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس شہری کو اتنے ہی حقوق دیں جتنے حقوق باقی شہریوں کو دیے جاتے ہیں۔ نا صرف یہ کہ بلکہ دوہری شہریت سے متعلقہ شخص دونوں ممالک میں ووٹ کا حق استعمال کر سکتا ہے۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ دوہری شہریت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ متعلقہ شخص دونوں ممالک میں کاروبار کر سکتا ہے، اپنی جائیدادیں بنا سکتا ہے اور وہ جب چاہے دونوں ممالک کا پاسپورٹ بھی استعمال کر سکتا ہے۔

دوہری شہریت کا شور شرابا پاکستان میں سب سے پہلے 2013 میں سننے کو ملا۔ جب ڈاکٹر طاہرالقادری نے نظام کی تبدیلی، انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے لیے لانگ مارچ کیا اور اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ دھرنے کے دوران ڈاکٹر طاہرالقادری کو حکومتی وزراء کی طرف سے کینیڈی کہہ کر مخاطب کیا جاتا رہا۔ نا صرف یہ بلکہ حکومتی وزراء میڈیا پر بیان دیتے رہے کہ کینیڈین نیشنیلٹی رکھنے والا شخص ملکِ پاکستان سے وفاداری کیسے نبھا سکتا ہے۔ حکومت کا منفی رویہ دیکھتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے فروری 2013 میں الیکشن کمیشن کی از سر نو تشکیل کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے پٹیشن سماعت کے لئے منظور کی لیکن سماعت کے دوران عدالت نے ایک بھی سوال الیکشن کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے نہ کیا بلکہ ہر سوال میں دوہری شہریت کو جواز بناتے ہوئے یہ کہا گیا کہ آپکو آئینی حق ہی نہیں ہے کہ آپ سپریم کورٹ میں کسی ادارے کے خلاف پٹیشن دائر کریں۔ جس پر ڈاکٹر طاہرالقادری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “میں یہاں کسی شیخ الاسلام کی حیثیت سے نہیں ایک ووٹر کی حیثیت سے آیا ہوں۔ دوہری شہریت کوئی جرم نہیں اور نہ ہی آئین میں کوئی اعتراض ہے، پاکستان کا سولہ ممالک سے دوہری شہریت کا معاہدہ ہے”۔

اس پسِ منظر کو بیان کرنے کی وجہ گذشتہ دورِ حکومت اور جولائی میں ہونے والا الیکشن ہے۔ جی ہاں معزز قارئین 2018 کے لیے جب امیدواروں نے کاغذات نامزدگی بمع حلف نامہ جمع کروایا تو کروڑوں کے اثاثے تو سامنے آئے لیکن ساتھ ہی ایف آئی اے نے اسکروٹنی کے بعد الیکشن کمیشن کو دوہری شہریت کے حوالے سے رپورٹ بھی جمع کروائی۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق 60 امیدوار یو کے کی شہریت رکھتے ہیں۔ جبکہ 26 امیدواروں کے پاس امریکہ اور 24 کے پاس کینیڈا کی شہریت ہے۔ تین کے پاس آئر لینڈ اور دو کے پاس بیلجیم کی شہریت ہے۔

اس لسٹ میں آسٹریلیا، جرمنی، اٹلی، ساؤتھ افریقہ، ازبکستان اور سنگا پور کی شہریت رکھنے والے امیدوار بھی ہیں۔

ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق کُل 122 امیدوار دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ اس رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سوال جنم لیتا ہے کہ اگر کینیڈا کی نیشنیلٹی رکھنے والا شخص (جس کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں) پاکستان کا وفادار نہیں ہو سکتا تو جو 122 ارکانِ پارلیمنٹ پانچ سال ہم پر حکومت کر کے گئے وہ پاکستان کے یا پاکستانی عوام کےوفادار کیسے ہو سکتے ہیں۔ جن کا مرنا جینا پاکستان میں نہیں دوسرے ممالک میں ہے۔ جن کا علاج جائیداد بیوی بچے سب کچھ باہر ہے۔ یہاں تو وہ صرف پیسے کمانے آتے ہیں۔ اس دوہرے معیار پر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کو ایماندار اور مخلص قیادت نصیب فرمائے، آمین۔

~ اپنی جیب میں رکھتا ہوں میں
دونوں خطوں کی اک پہچان
تاکہ بھول نہ جاؤں میں یہ
اپنی ذات اور نام نشان

حافظ محمد زبیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔ کالم نگاری کا شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. abdulbasit کہتے ہیں

    Hafiz sahib, Aap ne bohat achay topic pay blog likha hai. Hamaray jaisay ghareeb mulk k liye dual nationality cancer se kam nahin. Khas taur pay aisay log jin k hath mein mulk aur qoam ki taqdeer di ja rehi ho, agar wohi do kashtion k sawar hon tu un se kaisay umeed ki ja sakti hai k wo qoam k liye kuch acha karen ge. Hamaray kerta dharta logon k bachay bahar perhatay hain, families bahir settle hain, karobar bahar hain aur jaidadain bhi. Wo yahan sirf hakoomat kernay atay hain ku keh ye un ko bahir nahin mil sakti. yeh log dana yahan chugtay hain aur anday bahar ja ker daitay hain. yahan se dollar bahir lay ker jatay hain aur mulk ka baira gharaq kertay hain. India mein dual nationality ki ijazat nahin. Koi indian agar kisi aur mulk ki nationality lay tu Indian nationality automatically khatam ho jati hai. Yahan bhi aisa he hona chaheye. Mulk ki baag dor aisay logon k hath mein honi chaheye jin ka jeena aur marna sirf is mulk k sath ho. Bad qismati se yeh beemari sirf siasatdano tak mehdood nai. Goverment k mulazmeen, foaj k ahalkaar, sahafi, aur judges bhi dusray mulkon ki nationality rakhtay hain aur retire ho ker bahir ja baithtay hain. Is nasoor ka sadde bab bohat zaroori hai.

    1. حافظ محمد زبیر کہتے ہیں

      آپکی رائے کا شکریہ. بس ہمارے نصیب میں نہ جانے کب جاگیں گےووٹ کی طاقت کی ہی ہماری عوام کو سمجھ نہیں

تبصرے بند ہیں.