ہندوستان میں مسلمانوں کے ووٹ گم ہوگئے!

1,346

ہندوستان میں انتخابی فہرستوں سے بڑے پیمانے پر مسلم ووٹروں کے نام گم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس عمل کے پیچھے ہندوتا کی علم بردار بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت کا ہاتھ ہے جس نے بڑے منظم طریقہ سے اپنے کارکن، رائے دہندگان کی فہرستوں کی تیاری کے عمل میں شامل کر کے مسلم ووٹروں کو فہرستوں سے غائب کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

اس بات کا انکشاف، یو ایس۔ انڈیا پالیسی انسٹی ٹیوٹ واشنگٹن کے عبد الصالح شریف نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی مسلم آبادی والی ریاست اتر پردیش میں ایک خاندان میں چار ووٹروں میں سے ایک ووٹر کا نام گم کردیا گیا ہے۔ جنوبی ریاست تامل ناڈو میں بھی ہر چار مسلم ووٹروں میں سے ایک ووٹر کا نام رائے دہندوں کی فہرست سے غائب ہوگیا ہے۔ یہی صورت حال آندھرا پردیش، تلنگانہ، گجرات اور کرناٹک میں بھی نظر آتی ہے۔

 

muslim women's names missing in electoral list in karnataka

عبد الصالح شریف کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں رائے دہندوں کی فہرستوں سے ووٹروں کے ناموں کے گم ہونے کا عمل عام ہے اور عام طور پر ان فہرستوں سے کم سے کم دس کروڑ افراد کے نام گم ہو جاتے ہیں لیکن یہ بات تشویش کی باعث ہے کہ سب سے زیادہ مسلم ووٹروں کے نام فہرستوں سے غائب ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں ہندوستان میں جمہوریت مذاق بن کر رہ گئی ہے۔

abdulsaleh shariff

عبدالصالح شریف

گم شدہ مسلم ووٹروں کا بھید پچھلے دنوں کرناٹک کے ریاستی انتخا ب کے موقع پر کھلا تھا۔ اس وقت یہ انکشاف ہوا تھا کہ کرناٹک کی رائے دہندوں کی فہرستوں سے 66 لاکھ مسلمانوں کے نام غائب ہیں۔ عبد الصالح شریف نے بتایا کہ اس کے فوراً بعد مقامی مساجد میں مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بلایا گیا اور انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال کی گئی اور ان تمام مسلمان ووٹروں کی فہرست تیار کی گئی جن کے نام غائب تھے۔ اس دوران یہ پتہ چلا کہ کرناٹک میں چالیس سے پچاس فی صد مسلم گھرانوں میں صرف ایک ووٹر کا نام درج تھا۔ صرف بنگلور میں ایسے گھروں کی تعداد 8795 تھی۔

deprived muslim voters in gujrat

ادھر تلنگانہ میں ایک NGO کے پارلیمانی سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہاں مسلم اکثریت والے ضلع نظام آباد میں انتخابی فہرستوں سے 49 فی صد مسلم ووٹر غائب ہیں اور میڈک کے ضلع میں 43.6 فیصد مسلم ووٹروں کے نام لاپتہ ہیں۔

ایسی ہی کوشش کشمیر میں شروع کی گئی ہے اور وادی میں مسلمانوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے۔

کتنے بڑے پیمانے پر ہندوستان کے مسلمانوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے ہندوتا کی حامی بھارتیا جنتا پارٹی کی کیسی کارستانی جاری ہے اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ 2014 کے پچھلے عام انتخابات میں ووٹروں کی تعداد 81 کروڑ 45 لاکھ تھی۔ رائے دہندوں کی تازہ فہرستوں میں یہ تعداد اب صرف 81 کروڑ رہ گئی ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.