ہم بھی کیا لوگ ہیں! تاریخ کے دھتکارے ہوئے!

803

یوں تو برصغیر کی یہ ہی تاریخ ہے لیکن متحدہ ہندوستان جس کو گریٹر انڈیا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی شروع سے ایک ہی رمز رہی ہے، ان لوگوں نے ہمیشہ طاقت کے بت کے حضور اپنے ضمیروں کی بلیاں چڑھائے ہیں۔ کیا کوئی غوری، کیا کوئی نادر شاہ، کیا کوئی غزنوی، کیا کوئی مغل۔ ہمیشہ آقا بدلے ہیں کبھی خود کچھ کرنے کی استطاعت نہیں کی۔ کھانے پر تو سب رضامند رہے ہیں لیکن شکار کرنے کی کسی میں جرات نہیں۔ طاقتور کا ساتھ دینا تو ایک طرف، فرنگیوں کے ہاتھوں میر جعفر نے وہ سراج الدولہ بھی بیچ دیا جو یہاں کے لوگوں کا دفاع کرنے پر مصر تھا۔ رنجیت سنگھ کے بعد ہمیں نئے آقا تلاش کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ خود ہی انگریز آ کر ہم پر مسلط ہو گئے یا یوں کہوں ہم نے اپنے سروں پر مسلط کر لئے۔

وقت گزرا اور اس زمین نے مدتوں بعد سرسید احمد خان اور پھر جناح و گاندھی جیسے ہیرے اگلے۔ لیکن یہاں کے لوگوں نے ان کے ساتھ وفا نہیں کی۔ گاندھی کو اسی زمین کے ایک انتہاپسند نے گولی مار کر قتل کیا تو سرحد کے اس طرف جناح کے جانے کے ساتھ ہی جناح کے خوابوں کے قتل کا آغاز کیا۔ آغاز قراردادِ مقاصد تھا اور عروج سقوطِ ڈھاکہ ٹھہرا۔ خیر شکریہ جناح کا کہ وہ جمہوریت ہمیں تھما گئے لیکن ہم ٹھہرے عجیب دیسی لوگ جمہوریت کا وہ حشر کیا کہ جمہوریت کی شکل کچھ ایسی بنا دی کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ جمہوریت ہے، بادشاہت ہے، آمریت ہے یا کیا ہے۔

پہلی کڑی وہاں جوڑی جب فوج کے سربراہ کو ملک وزیرِ دفاع مقرر کر دیا۔ خیر، اس خطے کے لوگوں نے تو جناح کے ساتھ وفا 1937ء کے عام انتخابات میں بھی نہیں کی تھی۔ 1937ء میں متحدہ ہندوستان میں انڈین ایکٹ 1935ء کے تحت صوبائی انتخابات ہوئے۔ جس میں کُل 1585 سیٹوں میں سے کانگریس نے 44فیصد یعنی 707 نشستیں حاصل کیں جبکہ مسلم لیگ نے محض 6 فیصد یعنی صرف 106 سیٹیں حاصل کیں۔ مسلم لیگ مسلمانوں کی اکثریتی حلقوں سے بھی ایک طاقت بن کر ابھرنے میں ناکام رہی۔ جب 1945ء کے عام انتخابات آئے تو مسلم لیگ نے تمام مسلم اکثریتی حلقوں سے کلین سویپ کیا۔ ایسی کیا گیدڑ سنگھی مسلم لیگ کے پاس 1945ء میں آئی جو 1937ء میں نہیں تھی؟ وہ گیدڑ سنگھی یہ الیکٹیبلز ہی تھے جو مسلم لیگ کو 1945ء میں میسر آئے۔ یہ الیکٹیبلز وہی تھے جن کے بارے میں جناح نے کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔

1937ء کے انتخابات مسلم لیگ نے محض نظرئیے کی بنیاد پر لڑنے کا فیصلہ کیا لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس خطے کے لوگوں کو نزدیک ذات، برادری، رشتہ داری اور طاقتور کا کندھا کسی نظرئیے سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ اس الیکشن سے لے کر آج تک اس خطے پر اقتدار کی سیڑھی الیکٹیبلز رہے ہیں۔ کیوں کہ ہم نے ایک جمہوریت تو امپورٹ کر لی لیکن نظام وہی بادشاہت والا ہے جو آج بھی چلا رہے ہیں۔ اکثر لوگ آپ کو ٹیلی ویژن پر کہتے نظر آتے ہوں گے کہ قائداعظم بھی اگر آج کے الیکشن لڑنے کسی معجزے کے تحت آ جائیں تو شاید وہ بھی ہار جائیں ۔ اس قول میں کافی حد تک صداقت بھی ہے۔ ہم نے انگریز چھوڑ کر الیکٹیبلز کو نیا آقا جان لیا ہے۔

2013ء کا الیکشن پاکستان تحریکِ انصاف نے نظریات کی بنیاد پر لڑنے کا فیصلہ کیا، یہ فیصلہ بھی محض اس وجہ سے کیا کہ وہ الیکٹیبلز جو وہ ڈھونڈ رہے تھے وہ ان کی طرف نہیں آئے بلکہ مسلم لیگ کی طرف چلے گئے اور مسلم لیگ غیر جمہوری حلقوں کی سپورٹ لئے اکھاڑے میں اتری اور تحریک انصاف کو پچھاڑ دیا۔ وہ مقابلہ جو تحریک انصاف اور ن لیگ کا لگ رہا تھا، وہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا مقابلہ بن گیا۔ کیونکہ پی۔ پی۔ پی۔ نے تحریک انصاف سے زیادہ سیٹیں اکٹھی کر لیں۔

اب 2018ء کے انتخابات میں عمران خان نے کچھ اہم سیاسی شخصیات کا ذمہ لگایا کہ میں نے یہ انتخاب ہر صورت جیتنا ہے اس لئے الیکٹیبلز اکٹھے کرو۔ اس مشن پر جہانگیر خان ترین نکلے اور روز اپنی گاڑی میں ایک نیا الیکٹیبل لے کر بنی گالہ پہنچنے لگے اور انہوں نے ہر آنے والے کو گلے لگانا شروع کر دیا۔ ہوش انہیں تب آیا جب اسی رش میں فاروق بندیال بھی پارٹی میں اینٹری لے گیا۔ جس پر عمران خان نے جہانگیر ترین کو آواز لگائی، “پائین تُسی تیان کرنا۔”

الیکٹیبلز کے حوالے سے چند ایک غلطیاں تحریک انصاف کر چکی ہے۔ جس میں تحریک انصاف نے سکندر بوسن کو ٹکٹ دیا جو کہ حکومت کے خاتمے کے آخری دن تک وزارت کے مزے لوٹتے رہے، انہیں بھی ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔ اب وہ ٹکٹ واپس لے لی گئی ہے۔ لیکن معاملات بہت الجھے ہوئے ہیں، تحریک انصاف کنفیوز سی نظر آتی ہے۔ ایک فیصلہ کرتی ہے، اس سے پیچھے ہٹ جاتی ہے، دوسرا فیصلہ کرتی ہے پھر اس سے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ جو کہ مسلسل ایک سوالیہ نشان اٹھا رہا ہے کہ تحریک انصاف کیا واقعی انتخابات کو لے کر سنجیدہ ہے۔ اس کے علاوہ ان لوٹوں کے چکروں میں تحریک انصاف نے اپنے نظریاتی کارکنان کو بھی نظر انداز کیا ہے، جن میں علی محمد خان، شہریار آفریدی اور شوکت یوسفزئی جیسے لوگ بھی ہیں۔ الیکٹیبلز کا نعرہ تو کسی حد تک جسٹی فائی کر لیں گے لیکن پارٹی کے وہ نظریاتی لیڈر جو الیکشن لڑ کر جیتے ہیں انہیں کو نظرانداز کیا جائے۔ تحریکِ انصاف نے غلطی وہاں کی جب عوام کو انہوں نے تبدیلی  کا لارہ لگایا۔ ایک نصیحت جو ہر دور کے دانشور نے کی ہے کہ انتہائی اقدامات سے پرہیز کرو، ورنہ یہ اعمال لے ڈوبیں گے۔ لیکن تحریک انصاف کو کون سمجھائے۔

و ہ نکتہ جو ابھی تک الجھا ہوا ہے کہ تحریک انصاف میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود کے درمیان اختلافات کہاں پیدا ہوئے۔ ایک کہاوت مشہور ہے تحریک انصاف کے حوالے سے،

“One who rules the Chairman, is one who rules the party.”

ٹکٹ کے معاملات کے فیصلوں کے حوالے سے پارٹی کی جو اصل ڈور چار لوگوں کے ہاتھ میں تھی، عمران خان، شاہ محمود، اسد عمر اور جہانگیر خان ترین (اعتراض تو یہ بھی بنتا ہے کہ جس شخص کو اس ملک کی سب سے بڑی عدلیہ نے نااہل جھوٹا اور خائن ہونے کی بنیاد پر قرار یا ہو، وہ پارٹی معاملات کیسے چلا رہا ہے)۔ اسد عمر چونکہ شریف النفس انسان ہیں وہ ذرا جھگڑے سے بچتے ہیں لیکن شاہ محمود اور جہانگیر ترین کا معاملہ الگ ہے۔اس کہاوت میں اگر کسی کو فِل کرنا مقصود ہے تو وہ جہانگیرترین صاحب ہیں۔ جنہوں نے 80 فیصد سے زائد ٹکٹ دئیے۔

شاہ محمود ایک انا پرست انسان ہیں، جو وزارتِ عظمیٰ(جس کو امید سے زیادہ حسرت کہا جائے تو بہتر ہو گا) یا کم از کم پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی امید لے کر پارٹی میں آئے تھے، انہیں ان کے وہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا کیونکہ وزارتِ عظمی کے لئے عمران خان خود شیروانی پہننے کے لئے تیار ہیں اور عمران خان کے علاوہ ایسے بہت سے امیدوار ہیں جن کے پاس پیسہ اور زبان دونوں ہیں جو کہ عمران خان کو رام کرنے لئے کافی ہیں۔ جب کہ دوسری جانب جب تک جہانگیر ترین نااہل نہیں ہوئے تھے تب تک وہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کے لئے فائنل تھے۔ لیکن ان کی نااہلی کے بعد انہوں نے اپنا بیک اپ پلان تیار کیااور علیم خان کو سامنے لے آئے اور ہوشیاری تو یہ کہ علیم خان کے بعد ایک اور بیک اپ پلان بھی تیار ہے۔ خیر یہ اختلافات تو اس وقت بھی سامنے آئے جب نومبر 2016ء میں تحریک انصاف نے دھرنے سے یو ٹرن لینے کے لئے میڈیا کے سامنے آئے تو عمران خان کی ایک جانب جہانگیر ترین کھڑے تھے اور ایک طرف شاہ محمود قریشی۔ دونوں کے تاثرات میں زمین آسمان کا فرق تھا، جہانگیر ترین مسکرا رہے تھے جبکہ شاہ محمود قریشی کے اعصاب کھنچے کھنچے سے تھے۔ شاہ محمود قریشی نے ایک غلطی وہاں کی جب ایک پریس کانفرنس میں جہانگیر ترین پر کھلے لفظوں میں طنز کئے، انہیں سمجھنا چاہئے کہ جماعتیں مس ٹریٹ کرتی ہیں لیکن وہ شکایت اور احتجاج جماعت میں رہ کر ہی کرنا ہوتا ہے۔ ان کے اس اقدام کے بعد جہانگیر ترین کا قد بنی گالہ میں اور زیادہ بلند ہو گا جب کہ شاہ محمود کا مزید گھٹے گا۔

الیکٹیبلز وہ سیڑھی ہے جس کے بغیر اقتدار کی چھت پر پہنچا نہیں جا سکتا۔ ان کے بغیر اپوزیشن کے مزے تو لئے جا سکتے ہیں لیکن اقتدار کے نہیں۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جتنے بھی الیکٹیبلز ہیں ان میں سے اکثریت کی تعداد جاگیر داروں اور وڈیروں کی ہے۔ یہ لوگ اس لئے مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اپنے علاقوں میں یہ ہی کل مالک بنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی بےجاہ اجارہ داری علاقے میں قائم ہوتی ہے۔ الیکٹیبلز کے اس نظام کو ختم کرنے کے لئے اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے یعنی کہ بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کیا جانا چاہئیے اور سب سے اہم امر ہمیں اپنی عوام کی تربیت کی ضرورت ہے۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. A. Khan کہتے ہیں

    what about PPP win in 1970 without so called electables. I think at that time PPP has better leader and plan then PTI today.

  2. Shirazi کہتے ہیں

    آپکی یہ کاوش یقیناً قابل تعریف ہے۔ مرض نہیں امراض کی تشخیص کی آپ نے۔ صرف ایک اضافہ آپکے نہایت قیمتی آرٹیکل میں کرنے کی جسارت کروں گا۔ عمران خان کی نظر وزارت عظمی کی نشست پر ہرگز نہیں انکا خواب پاکستان اور پاکستانیوں کو انکا وہ مقام دلانا ہے جو ان سے پولیٹیکل مافیا نے چھینا ہے۔ آپ کا شکریہ۔

تبصرے بند ہیں.